پاکستان محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں، یہ ایک نظریہ، ایک خواب اور لاکھوں انسانوں کی قربانیوں کا ثمر ہے۔ یہ ملک کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں تھا، بل کہ اس کے پیچھے ایک طویل سیاسی، فکری اور تاریخی جدوجہد کارفرما تھی۔ برصغیر کے مسلمانوں نے محسوس کیا کہ ان کی مذہبی، تہذیبی، معاشرتی اور سیاسی شناخت کے تحفظ کے لیے ایک ایسی آزاد ریاست ضروری ہے جہاں وہ اپنی اقدار اور اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ یہی احساس آگے چل کر نظریۂ پاکستان کی بنیاد بنا اور الگ وطن کا مطالبہ ایک مضبوط تحریک میں تبدیل ہو گیا۔
قیامِ پاکستان کی تحریک کے پس منظر میں مسلمانوں کے سیاسی حقوق، مذہبی آزادی، تہذیبی شناخت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سوال بنیادی حیثیت رکھتا تھا۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے مسلمانوں کی قیادت کرتے ہوئے ایک ایسے پاکستان کا تصور پیش کیا جہاں قانون کی بالادستی، انصاف، مساوات اور شہری حقوق کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔ یہ وہ خواب تھا جس نے لاکھوں دلوں میں امید پیدا کی اور لوگوں کو اپنی آسائشوں سے بڑھ کر ایک آزاد وطن کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے کا حوصلہ دیا۔
لیکن پاکستان کا حصول آسان نہ تھا۔ آزادی کی قیمت صرف سیاسی جدوجہد سے ادا نہیں ہوئی، بل کہ انسانوں کے خون سے لکھی گئی۔ 1947ء کی ہجرت برصغیر کی تاریخ کا ایسا المناک باب ہے جسے یاد کرتے ہوئے آج بھی دل کانپ اٹھتا ہے۔ لاکھوں انسان فسادات کی نذر ہوئے، ماؤں نے اپنے بیٹے کھوئے، بہنوں کے بھائی بچھڑے اور کتنی ہی عورتوں کے سہاگ اجڑ گئے۔ لاکھوں خاندانوں نے اپنے آبائی گھر، زمینیں، کاروبار، کھیت اور برسوں کی جمع پونجی چھوڑ دی۔ وہ سب کچھ پیچھے رہ گیا جسے انسان پوری زندگی اپنا سمجھ کر جیتا ہے۔
وہ قافلے جب پاکستان کی طرف روانہ ہوئے تو ان کے پاس سامان کم اور آنکھوں میں خواب زیادہ تھے۔ کسی کے ہاتھ میں چند کپڑے تھے، کسی کے پاس گھر کی چابی، کسی کے پاس اپنے آبائی وطن کی مٹی کی مٹھی اور کسی کے دل میں بچھڑنے والوں کی یاد تھی۔ راستے خون سے رنگین ہوئے، خاندان بچھڑے اور کتنے ہی چراغ ہمیشہ کے لیے بجھ گئے، مگر پاکستان کی امید کا چراغ روشن رہا۔ ان لوگوں نے اپنا آج قربان کیا تاکہ ان کی آنے والی نسلیں ایک آزاد وطن میں عزت، امن اور خوش حالی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
مگر آج جب ہم اسی پاکستان کو دیکھتے ہیں تو دل کے کسی گوشے میں ایک دردناک سوال ضرور جاگتا ہے: کیا ہم نے اپنے بزرگوں کی قربانیوں کی لاج رکھی؟ کیا ہم نے اس وطن کی قدر کی جس کے لیے لاکھوں لوگوں نے اپنے گھر بار چھوڑے اور بے شمار انسانوں نے اپنی جانیں قربان کیں؟ بدعنوانی، ناانصافی، اقربا پروری، سیاسی عدم برداشت، طبقاتی تقسیم، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کو دیکھ کر کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے جیسے ہم نے اپنے ماضی کے ان قافلوں کی آہوں کو بھلا دیا ہے جو ایک بہتر پاکستان کی امید لے کر یہاں پہنچے تھے۔
ہم قائداعظمؒ کے اصولوں کا ذکر تو بڑے فخر سے کرتے ہیں، مگر ان اصولوں کو اپنی عملی زندگی میں اپنانے سے گریز کرتے ہیں۔ ہم انصاف چاہتے ہیں، مگر اپنے لیے؛ میرٹ کی بات کرتے ہیں، مگر سفارش کو قبول کر لیتے ہیں؛ قانون کی بالادستی کا مطالبہ کرتے ہیں، مگر اپنی باری پر قانون سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم پاکستان کی خرابیوں کا ذمہ دار حکومت، سیاست دانوں یا اداروں کو قرار دے کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیتے ہیں، حالاں کہ پاکستان صرف حکمرانوں کا نہیں، ہم سب کا وطن ہے اور اس کی تعمیر و اصلاح میں ہر شہری کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
اس کے باوجود پاکستان سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ ملک آج بھی باصلاحیت نوجوانوں، محنت کش ہاتھوں، ذہین طلبہ، قابل سائنس دانوں، باہمت خواتین اور بے شمار روشن ذہنوں سے بھرا ہوا ہے۔ ہمارے پاس وسائل بھی ہیں، صلاحیت بھی اور ایک شاندار ماضی بھی۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم شکایت سے آگے بڑھ کر ذمہ داری کو قبول کریں۔ اگر ہم تعلیم کو ترجیح دیں، میرٹ کو مضبوط کریں، قانون کا احترام کریں، بدعنوانی کو مسترد کریں اور اختلاف کو دشمنی نہ بنائیں تو پاکستان کے حالات بدل سکتے ہیں۔
ہمیں یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان ہمیں ایک مکمل اور آباد ملک کی صورت میں نہیں ملا تھا۔ ہمارے بزرگوں نے اسے اپنے خون، ہجرت، محنت، صبر اور بے شمار قربانیوں سے آباد کیا تھا۔ آج اگر اس ملک میں مسائل ہیں تو ان مسائل سے فرار نہیں، بل کہ ان کا مقابلہ ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمیں اپنے حصے کا چراغ جلانا ہوگا، کیوں کہ قومیں صرف نعروں سے نہیں، کردار سے بنتی ہیں۔ ایک استاد دیانت داری سے پڑھائے، ایک طالب علم محنت کرے، ایک صحافی سچ لکھے، ایک افسر انصاف کرے اور ایک عام شہری قانون کا احترام کرے تو تبدیلی کا سفر وہیں سے شروع ہو جاتا ہے۔
آج ہمیں اپنے شہیدوں سے صرف عقیدت کا اظہار نہیں کرنا، بل کہ ان کے خواب کی حفاظت بھی کرنی ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ نہیں بتانا کہ پاکستان کتنی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا، بل کہ یہ بھی سکھانا ہے کہ اس ملک کو مضبوط، باوقار اور خوش حال بنانا ہماری ذمہ داری ہے۔ ماضی کا دکھ ہمیں توڑنے کے لیے نہیں، جگانے کے لیے ہے۔ اگر ہم اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں اور اپنی سمت درست کر لیں تو آج کی تاریکی کل کی روشنی بن سکتی ہے۔
پاکستان کا مستقبل مایوسی میں نہیں، ہمارے کردار میں پوشیدہ ہے۔ جن لوگوں نے اپنا گھر بار چھوڑ کر ہمیں یہ وطن دیا، ان کی قربانیوں کا بہترین خراج یہی ہے کہ ہم پاکستان کو ایسا ملک بنائیں جس پر آنے والی نسلیں فخر کر سکیں۔ ہم نے یہ وطن خون اور قربانیوں سے حاصل کیا تھا؛ اب اسے دیانت، اتحاد، انصاف، علم اور محنت سے عظیم بنانا ہے۔











