مونڈاں چکار(آزاد کشمیر): نظریات انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ایک بااصول انسان کے لیے نظریات ہمیشہ خاندان، برادری، ذات، قبیلے، رشتہ داری اور ذاتی مفادات سے بڑھ کر اہمیت رکھتے ہیں۔ نظریات کے ساتھ حقیقی وابستگی اور کمٹمنٹ انسان کو ہر مشکل، ہر آزمائش اور ہر دباؤ میں ثابت قدم رہنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
نظریات کا راستہ کبھی آسان نہیں ہوتا۔ اس راہ میں مشکلات، تکالیف، مخالفتیں اور آزمائشیں قدم قدم پر انسان کا امتحان لیتی ہیں، لیکن جو لوگ اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہیں، وقت آخرکار انہی کے حق میں فیصلہ دیتا ہے۔ جب انسان اپنے کردار، صبر اور نظریات کی بدولت ایک مقام حاصل کر لیتا ہے تو وہی عزیز و اقارب، دوست اور رشتہ دار، جو کبھی اس سے دور کھڑے ہوتے ہیں، اس کے قافلے کا حصہ بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہی نظریاتی سیاست کی اصل خوبصورتی اور طاقت ہے۔
اسی نظریاتی استقامت کی ایک نمایاں مثال مونڈاں پولنگ اسٹیشن پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما حافظ طارق ہیں۔ انہوں نے ہر مشکل وقت میں اپنی جماعت اور اپنے نظریات کا ساتھ نبھایا۔ سیاسی دباؤ، مخالفت اور مشکل حالات کے باوجود انہوں نے اپنے مؤقف سے کبھی دستبردار ہونے کا راستہ اختیار نہیں کیا۔
حالیہ انتخابات سے قبل مونڈاں پولنگ اسٹیشن کی سیاسی فضا کو دیکھتے ہوئے بظاہر یہی محسوس ہو رہا تھا کہ چوک در چوک لوگ مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث عام تاثر یہی تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی شاید تیس ووٹ بھی حاصل نہ کر سکے گی۔ لیکن جب انتخابی نتائج سامنے آئے تو تمام اندازے غلط ثابت ہوئے۔ حافظ طارق کی نظریاتی سیاست، خاموش عوامی حمایت اور کارکنوں کی وابستگی نے پیپلز پارٹی کو ایک غیر معمولی قوت بخشی۔ سخت مقابلے کے بعد مسلم لیگ (ن) صرف نو ووٹوں کے فرق سے کامیاب ہوئی، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے توقعات کے برعکس بھرپور مقابلہ کر کے یہ ثابت کر دیا کہ نظریاتی سیاست کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ نتیجہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وقتی سیاسی فضا چاہے کسی بھی سمت ہو، مگر عوام کے دلوں میں جگہ بنانے والے نظریاتی رہنما اور کارکن مشکل ترین حالات میں بھی مضبوط مزاحمت کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ انتخابی کامیابی حاصل نہ ہو سکی، لیکن عوامی اعتماد، نظریاتی استقامت اور مضبوط سیاسی کردار نے حافظ طارق اور ان کی ٹیم کی جدوجہد کو نمایاں کر دیا۔
اس تمام تر کوششوں کے باوجود حافظ طارق صاحب نے ایک ثابت قدم، بااصول اور نظریاتی کارکن کی حیثیت سے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اتنی بھرپور مہم کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے درمیان صرف 9 ووٹوں کا فرق رہا۔
یہ معمولی فرق اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ نظریات، اخلاص اور عوامی اعتماد کی طاقت آج بھی زندہ ہے، اور ایک نظریاتی کارکن محدود وسائل کے باوجود بڑے سے بڑے سیاسی مقابلے میں مضبوطی سے کھڑا رہ سکتا ہے۔
دوسری جانب اسی مونڈاں پولنگ اسٹیشن پر بعض ایسے افراد بھی موجود تھے جو برسوں سے جماعت اسلامی کے نظریات سے وابستہ رہے، کارکن بنے، ذمہ داریاں نبھائیں اور رکنِ جماعت بھی رہے۔ تاہم اس انتخاب میں جب برادری، قبیلے اور رشتہ داری کا دباؤ سامنے آیا تو وہ اپنے پولنگ اسٹیشن پر ووٹ پول کرنے کے لیے نہ آ سکے۔ اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر یہ واضح کر دیا کہ نظریات پر ثابت قدم رہنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں، بلکہ اس کے لیے مضبوط کردار، حوصلہ اور اصولوں سے حقیقی وابستگی درکار ہوتی ہے۔
اس کے برعکس حافظ طارق نے سیاسی حالات، مخالفت اور انتخابی دباؤ کے باوجود اپنے نظریات اور جماعت کے ساتھ وابستگی کو برقرار رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ محدود وسائل کے باوجود وہ ایک مضبوط سیاسی مقابلہ کرنے میں کامیاب رہے اور صرف نو ووٹوں کا فرق اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ نظریاتی سیاست آج بھی اپنی اہمیت رکھتی ہے۔
انتخابات کے نتائج وقتی ہوتے ہیں، مگر اصول، کردار اور نظریاتی وابستگی ایک کارکن کی اصل پہچان ہوتے ہیں۔ یہی اوصاف کسی بھی سیاسی کارکن کو عوام کے دلوں میں مقام دیتے ہیں، اور یہی وہ سرمایہ ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید نمایاں ہوتا چلا جاتا ہے۔











