میرپور (نمائندہ خصوصی): آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے امیدواروں کی حتمی فہرست سامنے آنے کے بعد میرپور ڈویژن کا انتخابی منظرنامہ پوری طرح واضح ہو گیا ہے۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق میرپور، بھمبر اور کوٹلی کے مختلف حلقوں میں امیدواروں کی غیر معمولی تعداد انتخابی میدان میں اتر آئی ہے، جس کے باعث سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے اور کئی حلقوں میں انتہائی سخت اور دلچسپ مقابلوں کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق حلقہ ایل اے 3 میرپور سٹی پورے میرپور ڈویژن کا سب سے بڑا انتخابی میدان بن گیا ہے، جہاں 34 امیدوار عوامی عدالت میں اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ امیدواروں کی یہ تعداد اس حلقے کو انتخابات کا سب سے بڑا اور دلچسپ معرکہ بنا رہی ہے۔
ضلع میرپور کے دیگر حلقوں میں ایل اے 1 ڈڈیال سے 20، ایل اے 2 چکسواری و اسلام گڑھ سے 24 اور ایل اے 4 کھڑی شریف سے 20 امیدوار میدان میں ہیں، جس سے ضلع بھر میں انتخابی ماحول خاصا گرم ہو چکا ہے۔
ضلع بھمبر میں بھی سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ ایل اے 5 برنالہ سے 18، ایل اے 6 سماہنی سے 17 جبکہ ایل اے 7 بھمبر تین سے 28 امیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ بھمبر تین کا حلقہ بھی امیدواروں کی بڑی تعداد کے باعث خصوصی توجہ حاصل کیے ہوئے ہے۔
ادھر ضلع کوٹلی کے انتخابی حلقوں میں بھی سخت مقابلے متوقع ہیں۔ ایل اے 8 راج محل سے 19 امیدوار، ایل اے 10 کوٹلی سٹی سے 29 امیدوار، ایل اے 11 سہنسہ سے 24 امیدوار، ایل اے 12 چڑہوئی سے 15 امیدوار اور ایل اے 13 کھوئی رٹہ سے 27 امیدوار میدان میں موجود ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق امیدواروں کی غیر معمولی تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ اس بار انتخابات انتہائی دلچسپ، سنسنی خیز اور سخت مقابلے کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد بھی کئی حلقوں میں انتخابی نتائج پر اثرانداز ہو سکتی ہے، جبکہ ووٹوں کی تقسیم کے باعث کئی نشستوں پر کامیابی کا مارجن انتہائی کم رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عوامی حلقوں کی نظریں اب انتخابی مہم، سیاسی اتحادوں اور امیدواروں کی عوامی پذیرائی پر مرکوز ہیں، کیونکہ آنے والے دنوں میں میرپور ڈویژن کی انتخابی سیاست مزید گرم ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔











