11

مقبوضہ کشمیر کا 2600 روزہ محاصرہ، مظفرآباد میں بھارت کیخلاف احتجاج

مظفرآباد (خبرنگار) 5 اگست 2019 سے مقبوضہ جموں کشمیر میں جاری بھارتی فوجی محاصرے کو 2600 دن مکمل ہونے پر پاسبان حریت جموں کشمیر کے زیر اہتمام دارالحکومت مظفرآباد میں سینٹرل پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے بھارتی فوجی محاصرے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاسبان حریت جموں کشمیر عزیر احمد غزالی نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو ختم نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ دہائیوں پر محیط بھارتی فوجی قبضہ اور 2600 دنوں سے جاری فوجی محاصرہ عالمی برادری کی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ عزیر احمد غزالی نے کہا کہ ہندوستان تمام تر جبر و استبداد کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو نہیں کچل سکا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا کہ 5 اگست 2019 کے اقدامات کو کالعدم قرار دے کر ریاست جموں کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصوابِ رائے کا عمل شروع کرایا جائے۔ انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ بھارتی جیلوں میں قید کشمیری اسیران کی رہائی کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما شوکت جاوید میر نے کہا کہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت دیا جائے اور مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی فوجی محاصرہ فوری ختم کیا جائے۔ پاسبان حریت جموں کشمیر کے وائس چیئرمین عثمان علی ہاشم نے کہا کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں فوری بند کی جائیں اور اقوام متحدہ مسئلہ جموں کشمیر کے حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔مہاجرین جموں کشمیر 1989 ورکنگ کمیٹی کے چیف آرگنائزر محمد اقبال میر نے کہا کہ بھارتی قبضے کے خلاف کشمیری عوام کی جدوجہد جاری رہے گی۔ مرکزی ایڈوائزر مہاجرین جموں کشمیر 1989 ورکنگ کمیٹی سرانداز میر نے کہا کہ پاکستان مظلوم کشمیری عوام کا بے لوث وکیل ہے، آزادی کشمیریوں کا مقدر ہے اور بھارت کے خلاف کشمیری عوام کی جدوجہد جاری رہے گی۔ مظاہرین نے بھارتی فوجی محاصرے کے خاتمے، کشمیری اسیران کی رہائی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے اور کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینے کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں