29

مذاکرات کی میز پر آنا کسی کی شکست نہیں تحریر: طارق ندیم درا نی

کبھی پلٹنا بھی آگے بڑھنے کی حکمتِ عملی ہوتی ہے”جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنالہو گرم رکھنے کا ہے ایک بہانہ”»حکومتوں، مقتدر حلقوں اور عوامی ایکشن کمیٹی کے نام ایک مخلصانہ اپیل یہ پیغام کسی ایک فریق کے لیے نہیں بلکہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں، مقتدر حلقوں اور عوامی ایکشن کمیٹی سب کے لیے ایک مخلصانہ اپیل ہے۔موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ تمام فریق ضد، انا اور باہمی الزام تراشی سے بالاتر ہو کر لچک، تحمل اور تدبر کا مظاہرہ کریں۔ عوامی مشکلات کا خاتمہ، امن کی بحالی اور انسانی جانوں کا تحفظ سب کی اولین ترجیح ہونی چاھئے۔حالیہ کشیدگی میں دونوں جانب ہونے والے جانی نقصان پر دلی افسوس ہے۔ انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں۔ جو نقصان ہو چکا اسے واپس نہیں لایا جا سکتا، لیکن آئندہ مزید جانی نقصان سے ضرور بچا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے فوری طور پر تصادم کے بجائے مکالمے اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ناگزیر ہے۔علامہ اقبالؒ کے شعر کی روشنی میں، کبھی ایک قدم پیچھے ہٹنا شکست نہیں بلکہ دانشمندی، تدبر اور بہتر حکمتِ عملی بھی ہو سکتا ہے۔ صاحبِ بصیرت قیادت حالات کا جائزہ لیتی ہے، اپنی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کرتی ہے اور ضرورت پڑنے پر مفاہمت کے لیے قدم آگے بڑھاتی ہے۔پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں اور متعلقہ مقتدر حلقوں سے اپیل ہے کہ عوامی مشکلات کے فوری ازالے، اعتماد کی بحالی اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

اسی طرح عوامی ایکشن کمیٹی سے بھی مؤدبانہ گزارش ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ اور موجودہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے احتجاجی طرزِ عمل پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے مذاکرات اور پُرامن مکالمے کو ترجیح دی جائے۔اصل ضرورت- عوامی مشکلات کا فوری ازالہ؛- مزید جانی نقصان کی روک تھام؛- کشیدگی اور تصادم کا خاتمہ؛- عوام کے جائز مسائل کو سنجیدگی سے سننا؛- اعتماد سازی کے عملی اقدامات؛- اور تمام معاملات کا بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کے ذریعے حل۔اگر حکومتیں ایک قدم لچک کی طرف بڑھیں اور عوامی ایکشن کمیٹی بھی ایک قدم مفاہمت کی طرف بڑھے تو یہ کسی کی شکست نہیں ہوگی؛ یہ امن کی طرف دو بڑے قدم ہوں گے۔کسی بھی فریق کی عزت مجروح کیے بغیر مفاہمت ممکن ہے۔ حکومتوں کی جانب سے عوامی مشکلات کو تسلیم کرنا کمزوری نہیں، بلکہ ذمہ دار حکمرانی ہے۔ اسی طرح عوامی ایکشن کمیٹی کا مذاکرات کی میز پر آنا بھی شکست نہیں بلکہ سیاسی دانش مندی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ہمیں یہ حقیقت نہیں بھولنی چاہیے کہ اختلافات اور سیاسی مؤقف اپنی جگہ، انسانی زندگی سب سے بڑھ کر ہے۔ جو جانی نقصان ہو چکا، اس پر افسوس کے ساتھ اب ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ مزید خاندان اجڑنے سے بچائے جائیں اور مزید انسانی جانیں ضائع نہ ہوں۔لہٰذا پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں، مقتدر حلقوں اور عوامی ایکشن کمیٹی سے مخلصانہ اپیل ہے کہ موجودہ کشیدگی کو مزید طول نہ دیا جائے، ایک دوسرے کو شکست دینے کے بجائے ایک دوسرے کو سننے کا راستہ اختیار کیا جائے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا پُرامن حل تلاش کیا جائے۔ہمیں فاتح اور مفتوح نہیں چاہیے؛ ہمیں ایسا حل چاہیے جس میں حکومتوں کی عزت بھی محفوظ رہے، عوام کی آواز بھی سنی جائے، مشکلات بھی کم ہوں اور انسانی جانیں بھی محفوظ رہیں۔انا کا مسلہ نہی، مکالمہ،تصادم نہیں، مذاکرات۔ضد نہیں، مفاہمت۔مزید جانی نقصان نہیں، انسانی زندگی کا تحفظ۔کبھی پلٹنا بھی آگے بڑھنے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں