برطانیہ میں مقیم ممتاز صحافی و اینکر پرسن اعجاز فضل کا حویلی الیکشن میں بدترین دھاندلی اور چیف الیکشن کمشنر جناب مصطفی مغل کی آئینی زمہ دادیوں اور کردار کے حوالے سے پڑھنے لائق کالم
آزادکشمیر کے حالیہ انتخابات نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے، مگر حویلی کے حلقے میں سامنے آنے والا معاملہ ان سب سے کہیں زیادہ سنگین دکھائی دیتا ہے۔ یہاں سوال محض ایک امیدوار کی جیت یا ہار کا نہیں، بلکہ ووٹ کی حرمت، انتخابی عمل کی شفافیت اور پاکستان سے وفاداری کے دعووں کی اصل قیمت کا ہے۔
محسن عزیز نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایک واضح اور دوٹوک نعرہ لگایا: ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے۔ یہ محض ایک انتخابی نعرہ نہیں تھا بلکہ ایسے وقت میں پاکستان سے وابستگی کا اظہار تھا جب آزادکشمیر کی سیاست شدید کشیدگی، بے یقینی اور مختلف سیاسی بیانیوں کی زد میں تھی۔ محسن عزیز اور ان کے ووٹرز نے مشکل ماحول میں کھل کر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا۔
مگر آج یہی سوال زبان زدِ عام ہے کہ اگر پاکستان سے وفاداری جرم نہیں تو پھر محسن عزیز کو آخر کس جرم کی سزا دی گئی؟
محسن عزیز کا مؤقف ہے کہ ان کے پاس پولنگ اسٹیشنوں کے پریزائیڈنگ افسران کے دستخط شدہ نتائج موجود تھے اور ان نتائج کے مطابق وہ واضح برتری سے آگے تھے۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو پھر معاملہ انتہائی سنگین نوعیت اختیار کر جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پولنگ اسٹیشن سے جاری ہونے والے نتائج اور بعد میں سامنے آنے والے حتمی نتیجے کے درمیان فرق کیسے پیدا ہوا؟
یہ فرق اگر واقعی موجود ہے تو اسے محض تکنیکی غلطی کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
چیف الیکشن کمشنر اور ان کا عملہ اس سوال کا جواب دینے کے پابند ہیں کہ ووٹوں کی گنتی کے بعد جاری ہونے والے دستخط شدہ نتائج میں اگر ایک امیدوار آگے تھا تو بعد میں نتیجہ کس بنیاد پر تبدیل ہوا؟ کون سے ووٹ دوبارہ شمار کیے گئے؟ کون سے نتائج مسترد ہوئے؟ کیا کسی پولنگ اسٹیشن کے اعداد و شمار تبدیل ہوئے؟ اگر ہوئے تو کس قانون اور کس اختیار کے تحت؟
اور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ سب کس کے حکم پر ہوا؟
یہ الزام کسی فرد کی ذات پر حملہ نہیں بلکہ ایک آئینی اور انتخابی ادارے سے جواب طلبی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ کسی سیاسی جماعت، حکومت یا طاقتور شخصیت کی خواہشات پوری کرنے کے لیے نہیں بنایا گیا۔ اس عہدے کی بنیادی ذمہ داری ہی یہ ہے کہ ہر ووٹر کے ووٹ کو اسی طرح شمار کیا جائے جس طرح اس نے بیلٹ پیپر پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔
اگر ایک ووٹر نے محسن عزیز کو ووٹ دیا تو اس ووٹ کو کسی اور امیدوار کے سیاسی کھاتے میں ڈالنے کا اختیار دنیا کے کسی الیکشن کمیشن کو نہیں دیا جا سکتا۔
حویلی کے عوام سے بھی ایک بنیادی سوال جڑا ہوا ہے۔ جن لوگوں نے قطاروں میں کھڑے ہو کر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا، انہیں آخر یہ حق کیوں نہ دیا جائے کہ وہ جان سکیں ان کا ووٹ کہاں گیا؟
جمہوریت صرف پولنگ کے دن انگلی پر سیاہی لگانے کا نام نہیں۔ جمہوریت کا اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب بیلٹ باکس کھلتا ہے۔ اگر ووٹ ڈالنے کا حق تو دیا جائے مگر اس ووٹ کے نتیجے کو تبدیل کر دیا جائے تو ایسی جمہوریت محض ایک نمائشی عمل بن کر رہ جاتی ہے۔
پاکستان کے ساتھ وفاداری کے دعوے ہم سب کرتے ہیں، لیکن وفاداری صرف نعروں سے ثابت نہیں ہوتی۔ پاکستان سے حقیقی وفاداری کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان کے آئین، قانون، جمہوری اصولوں اور عوامی مینڈیٹ کا بھی احترام کیا جائے۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک طرف لوگوں سے کہا جائے کہ پاکستان کے ساتھ کھڑے رہو، پاکستان کا پرچم بلند کرو، پاکستان کے حق میں نعرہ لگاؤ، اور دوسری طرف اگر وہی لوگ اپنے ووٹ کے ذریعے ایک فیصلہ دیں تو ان کے فیصلے کو مشکوک بنا دیا جائے؟
اگر محسن عزیز اور ان کے ووٹرز نے مشکل حالات میں پاکستان سے اپنی وفاداری ثابت کی تو پھر ریاستی اداروں پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ ان کے ووٹ کی مکمل حفاظت کی جاتی۔
یہاں یہ بات بھی واضح ہونی چاہیے کہ کسی امیدوار کے حق میں لکھنے کا مطلب کسی دوسرے امیدوار کی توہین یا اس کے سیاسی حق سے انکار نہیں۔ فیصل ممتاز راٹھور سمیت ہر امیدوار کو انتخاب لڑنے اور کامیابی حاصل کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ لیکن جیت صرف اسی صورت معتبر ہوتی ہے جب اس کے پیچھے شفاف، قابلِ تصدیق اور غیرمتنازع انتخابی عمل موجود ہو۔
اگر ایک فریق نتائج پر سنگین اعتراضات اٹھا رہا ہے اور دستخط شدہ پولنگ نتائج سامنے رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے تو الیکشن کمیشن کا فرض ہے کہ تمام متعلقہ فارم عوام کے سامنے رکھے۔
ہر پولنگ اسٹیشن کا نتیجہ جاری کیا جائے۔
ہر امیدوار کے حاصل کردہ ووٹ واضح کیے جائیں۔
مسترد شدہ ووٹوں کی تعداد بتائی جائے۔
اگر کہیں دوبارہ گنتی ہوئی تو اس کی مکمل تفصیل دی جائے۔
اگر کسی نتیجے میں تبدیلی ہوئی تو اس کا قانونی جواز سامنے رکھا جائے۔
اس کے بعد عوام خود فیصلہ کر لیں گے کہ حق کس کے ساتھ ہے۔
لیکن خاموشی شکوک کو جنم دیتی ہے اور اداروں کی خاموشی ان شکوک کو مزید مضبوط کرتی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ صرف ایک انتخاب نہیں کرا رہے تھے بلکہ ایک پورے نظام پر عوام کے اعتماد کے امین تھے۔ ایک متنازع نتیجہ صرف ایک نشست کو متنازع نہیں بناتا بلکہ پورے انتخابی عمل پر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔
محسن عزیز کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے، لیکن اس سے کہیں زیادہ ضروری یہ ہے کہ حویلی کے ووٹرز کے ساتھ انصاف ہو۔
کیونکہ امیدوار پانچ سال بعد دوبارہ انتخاب لڑ سکتا ہے، سیاسی جماعتیں اتحاد تبدیل کر سکتی ہیں، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن اگر ایک عام شہری کا ووٹ ہی بے وقعت ہو جائے تو پھر جمہوری نظام کی بنیاد باقی نہیں رہتی۔
آج آزادکشمیر کے عوام چیف الیکشن کمشنر سے ایک سادہ سا سوال پوچھ رہے ہیں:
اگر محسن عزیز پولنگ اسٹیشنوں کے دستخط شدہ نتائج کے مطابق جیت رہے تھے تو پھر وہ ہارے کیسے؟
اور اگر ان کا دعویٰ غلط ہے تو الیکشن کمیشن تمام اصل دستاویزات سامنے رکھ کر اسے غلط ثابت کر دے۔
لیکن اگر ان کے دعوے میں صداقت ہے تو پھر صرف نتیجہ درست کرنا کافی نہیں ہوگا، یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ عوام کے مینڈیٹ سے کھیلنے کی کوشش کس نے کی، کس کے حکم پر کی اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟
کیونکہ ووٹ کوئی کاغذ کا ٹکڑا نہیں۔
ووٹ ایک شہری کی آواز ہے۔
ووٹ اس کا آئینی حق ہے۔
اور ووٹ میں خیانت دراصل عوام کے اعتماد میں خیانت ہے۔
محسن عزیز کا معاملہ اب صرف محسن عزیز کا نہیں رہا۔ یہ ہر اس کشمیری ووٹر کا مقدمہ ہے جو یہ جاننا چاہتا ہے کہ اس کے ووٹ کی حفاظت کون کرے گا۔
ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے — مگر پاکستان سے وفاداری کا سب سے بڑا ثبوت یہی ہوگا کہ پاکستان سے محبت کرنے والے کشمیریوں کے ووٹ، حقِ رائے دہی اور جمہوری فیصلے کا بھی احترام کیا جائے۔











