14

قرض، سود اور معیشت:تحریر حمید علی

پاکستان اس وقت ایک ایسے معاشی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں قومی معیشت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج بڑھتا ہوا سرکاری قرضہ اور اس پر ادا کیا جانے والا سود ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کے مجموعی قرضوں کا حجم تقریباً 82 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جس میں مقامی (اندرونی) قرضہ 55 ہزار ارب روپے سے زائد جبکہ بیرونی قرضہ 26 ہزار ارب روپے کے قریب ہے۔

یہ اعداد و شمار صرف قرضوں کی مقدار نہیں بتاتے، بل کہ یہ اس حقیقت کی نشاندہی بھی کرتے ہیں کہ پاکستان ہر سال ان قرضوں پر اربوں روپے سود اور قرض کی ادائیگی کی مد میں خرچ کرتا ہے۔ وفاقی بجٹ کا ایک بڑا حصہ صرف قرضوں کی خدمت (Debt Servicing) پر صرف ہو جاتا ہے، جس کے باعث تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، روزگار، بنیادی ڈھانچے اور عوامی فلاح کے دیگر شعبوں کے لیے وسائل محدود ہو جاتے ہیں۔

اندرونی قرضوں کا بڑا حصہ مقامی بینکوں سے لیا جاتا ہے۔ حکومت جب اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے بینکوں سے بھاری شرحِ منافع پر قرض لیتی ہے تو بینکوں کے لیے نجی شعبے کو قرض فراہم کرنے کے بجائے حکومت کو قرض دینا زیادہ منافع بخش بن جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ صنعت، تجارت اور کاروبار کے لیے سرمایہ مہنگا ہو جاتا ہے، جس سے معاشی سرگرمی سست پڑتی ہے اور روزگار کے مواقع بھی متاثر ہوتے ہیں۔

اسی طرح توانائی کا شعبہ بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ پاکستان میں آئی پی پیز (Independent Power Producers) نجی کمپنیاں ہیں جو بجلی پیدا کر کے حکومت کو فروخت کرتی ہیں۔ ان میں سے متعدد منصوبوں کی مالی معاونت مقامی بینکوں نے کی، اور مختلف کمپنیوں میں نجی سرمایہ کار بھی شامل ہیں۔ ان منصوبوں کے ساتھ کیے گئے بعض معاہدوں میں حکومت نے بجلی خریدنے یا صلاحیت کی بنیاد پر ادائیگی (Capacity Payments) کی ضمانت دی۔ یہی وجہ ہے کہ کئی مواقع پر بجلی کم استعمال ہونے کے باوجود بھی حکومت کو معاہدوں کے مطابق ادائیگیاں کرنا پڑتی ہیں، جس کا بوجھ بالآخر قومی خزانے اور عوام پر پڑتا ہے۔ان ادائیگیوں کے نتیجے میں مالی وسائل نجی شعبے اور مالیاتی اداروں تک منتقل ہوتے ہیں، دلچسپ امر یہ ہے کہ زیادہ تر ائی پی پیز کے مالکان ہی نجی بینکوں کے مالکان ہیں۔

اگر حکومت مستقل بنیادوں پر مؤثر معاشی اصلاحات نافذ کرے تو قرضوں پر انحصار میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، غیر ضروری سرکاری اخراجات کم کرنا، برآمدات میں اضافہ، درآمدی انحصار کم کرنا، زرعی اور صنعتی پیداوار بڑھانا، توانائی کے شعبے میں شفاف اصلاحات کرنا اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا ناگزیر ہے۔ اسی طرح قرض لینے کے بجائے ملکی آمدن میں اضافہ پائیدار معاشی استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔

قرض صرف ایسے منصوبوں پر خرچ کیا جائے جو مستقبل میں ملکی آمدن بڑھائیں، نہ کہ صرف جاری اخراجات پورے کرنے کے لیے۔ جب قرض ترقیاتی سرمایہ کاری میں استعمال ہوتا ہے تو وہ مستقبل میں معیشت کو سہارا دیتا ہے، لیکن اگر قرض محض اخراجات پورے کرنے میں صرف ہو تو اس کا بوجھ آنے والی نسلوں تک منتقل ہو جاتا ہے۔

پاکستان کے پاس وسائل کی کمی نہیں، اصل ضرورت بہتر حکمرانی، شفاف پالیسی سازی، مالیاتی نظم و ضبط اور طویل المدتی معاشی منصوبہ بندی کی ہے۔ اگر حکومت واضح اور تسلسل کے ساتھ اقتصادی اصلاحات نافذ کرے، سرمایہ کاری کا ماحول بہتر بنائے، توانائی کے شعبے کے معاہدوں کا شفاف جائزہ لے اور مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنائے تو قرضوں پر انحصار بتدریج کم کیا جا سکتا ہے۔ یہی راستہ ملک کو سود کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نکال کر پائیدار ترقی، معاشی خودمختاری اور عوامی خوش حالی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں