13

عوام اور آزمائشوں کے دریا :حمید علی

پاکستان کی بدقسمت عوام کی زندگی آج ایسے مسافر کی مانند ہو چکی ہے، جو ایک مشکل راستہ طے کرنے کے بعد سکون کا سانس لینا چاہتا ہے، مگر سامنے ایک اور آزمائش کھڑی نظر آتی ہے۔ کبھی مہنگائی کی چکی میں پسنے کا درد، کبھی پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ، کبھی ملکی حالات کی بے یقینی، کبھی دہشت گردی کا خوف، کبھی کنٹینروں کی بندش اور کبھی لانگ مارچ کے باعث معمولاتِ زندگی کی معطلی۔ عوام ہر روز ایک نئے مسئلے کا سامنا کرتے ہیں اور ہر رات اس امید کے ساتھ سوتے ہیں کہ شاید آنے والا دن کچھ آسانیاں لے کر آئے، مگر صبح ہوتے ہی حالات کا ایک نیا رخ ان کے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس ملک کے عام شہری آخر جائیں تو جائیں کہاں؟

مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو جس طرح متاثر کیا ہے، اس کا اندازہ صرف اعداد و شمار سے نہیں لگایا جا سکتا۔ ایک مزدور جو صبح اپنے گھر سے روزگار کی تلاش میں نکلتا ہے، اس کے ذہن میں سب سے بڑا سوال یہ ہوتا ہے کہ آج کی آمدنی سے گھر کا چولہا کیسے جلے گا؟ ایک سفید پوش شخص جو اپنی ضروریات محدود کرکے زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے، وہ بھی بڑھتے ہوئے اخراجات کے سامنے بے بس دکھائی دیتا ہے۔ آٹا، دال، سبزیاں، بجلی، گیس، کرایہ اور بچوں کی تعلیم جیسے بنیادی اخراجات جب آمدنی سے آگے نکل جائیں تو زندگی محض گزارے کا نام رہ جاتی ہے۔ عوام کو صرف روٹی نہیں چاہیے، انہیں عزت، تحفظ، سکون اور مستقبل کی امید بھی درکار ہے۔

پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ بھی عوام کے لیے محض ایک خبر نہیں ہوتا، بل کہ اس کے اثرات زندگی کے ہر شعبے تک پہنچتے ہیں۔ سفر کے اخراجات بڑھتے ہیں، اشیائے ضروریہ کی ترسیل مہنگی ہوتی ہے اور کاروباری سرگرمیوں پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔ ایک عام ملازم کے لیے دفتر تک پہنچنا، ایک طالب علم کے لیے تعلیمی ادارے جانا اور ایک چھوٹے کاروباری کے لیے اپنا کام جاری رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ جب آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہو اور اخراجات مسلسل بڑھتے رہیں تو شہری کے لیے اپنی ضروریات پوری کرنا ایک مستقل جدوجہد بن جاتا ہے۔ حکومتوں کی معاشی پالیسیوں کے اثرات کا اصل بوجھ اکثر وہ طبقہ اٹھاتا ہے جس کے پاس بحران سے بچنے کے وسائل سب سے کم ہوتے ہیں۔
ملکی سیاسی حالات کی بے یقینی نے بھی عوام کے اعتماد اور ذہنی سکون کو متاثر کیا ہے۔ جمہوری معاشروں میں سیاسی اختلاف، احتجاج اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید شہری حقوق کا حصہ ہیں، لیکن جب سیاسی کشیدگی روزمرہ زندگی کے راستے میں رکاوٹ بن جائے تو اس کے اثرات عام شہریوں تک ضرور پہنچتے ہیں۔ کاروبار بند ہونے، آمدورفت متاثر ہونے، تعلیمی سرگرمیوں میں خلل پڑنے اور روزگار کے مواقع محدود ہونے سے سب سے زیادہ نقصان ان لوگوں کو ہوتا ہے جو روزانہ کی آمدنی پر انحصار کرتے ہیں۔ سیاسی اختلاف کو آئینی اور پُرامن طریقوں سے آگے بڑھانا اور عوام کی بنیادی ضروریات کو پیشِ نظر رکھنا کسی بھی جمہوری نظام کے لیے اہم ذمہ داری ہے۔

دہشت گردی کا مسئلہ عوام کی مشکلات میں ایک اور سنگین پہلو شامل کرتا ہے۔ جس معاشرے میں انسان اپنی جان، اپنے بچوں اور اپنے مستقبل کے بارے میں خوف محسوس کرنے لگے، وہاں ترقی اور خوش حالی کا سفر متاثر ہوتا ہے۔ دہشت گردی صرف انسانی جانوں کا نقصان نہیں کرتی، بل کہ معاشی سرگرمیوں، تعلیم، صحت اور سماجی اعتماد کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ سکیورٹی اداروں کی ذمہ داریاں اپنی جگہ، مگر پائیدار امن کے لیے مؤثر حکمتِ عملی، قانون کی بالادستی، سماجی تعاون اور عوام کے اعتماد کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ شہریوں کو ایسا ماحول ملنا چاہیے جہاں وہ خوف کے بجائے امید کے ساتھ اپنے مستقبل کی تعمیر کر سکیں۔

کنٹینروں کی سیاست بھی پاکستان کے شہریوں کے لیے ایک قابلِ غور مسئلہ بن چکی ہے۔ احتجاجی سرگرمیوں یا حساس حالات میں سکیورٹی انتظامات کی ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، لیکن راستوں کی طویل بندش اور آمدورفت میں رکاوٹ کے اثرات کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ ایک مریض کو اسپتال پہنچنا ہو، ایک طالب علم کو امتحان دینا ہو، ایک مزدور کو روزگار کی جگہ پر پہنچنا ہو یا کسی خاندان کو ضروری سفر کرنا ہو، تو سڑکوں کی بندش ان کے لیے حقیقی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ انتظامیہ اور سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ عوامی تحفظ اور شہری سہولتوں کے درمیان مناسب توازن قائم کریں، تاکہ احتجاج کا حق بھی برقرار رہے اور عام شہریوں کی زندگی بھی غیر ضروری طور پر مفلوج نہ ہو۔

لانگ مارچ اور سیاسی احتجاج جمہوری اظہار کا ذریعہ ہو سکتے ہیں، لیکن ان کے طریقۂ کار اور اثرات پر سنجیدہ گفتگو ضروری ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت یا گروہ کو اپنے مطالبات پیش کرنے کا حق حاصل ہو سکتا ہے، تاہم اس حق کے ساتھ دوسروں کے حقوق کا احترام بھی لازم ہے۔ عوام پہلے ہی معاشی دباؤ، روزگار کی مشکلات اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں مسلسل سیاسی کشیدگی ان کی پریشانیوں میں اضافہ کر سکتی ہے۔ سیاسی قیادت اگر اپنے اختلافات کو مذاکرات، پارلیمانی عمل اور آئینی راستوں کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے تو معاشرے میں اعتماد اور استحکام پیدا ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

یہ سوال بھی اہم ہے کہ پاکستان کے موجودہ مسائل کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ کیا یہ ملک کی بدقسمتی ہے، عوام کی آزمائش ہے یا حکمرانی کے نظام میں موجود کمزوریوں کا نتیجہ؟ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ملک کے حالات ایک ہی وجہ سے تشکیل نہیں پاتے۔ معاشی مشکلات، عالمی حالات، داخلی سلامتی، انتظامی فیصلے، سیاسی اختلافات اور حکومتی پالیسیوں سمیت کئی عوامل مل کر صورتِ حال کو متاثر کرتے ہیں۔ اس لیے مسائل کا حل بھی کسی ایک طبقے کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے جامع اور ذمہ دارانہ اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔ حکمرانوں سے جواب دہی ضروری ہے، مگر ادارہ جاتی اصلاحات، شہری شعور اور اجتماعی ذمہ داری بھی اتنی ہی اہم ہیں۔

عوام کو ایسے حکمران درکار ہیں جو ان کے مسائل کو محض انتخابی وعدوں یا سیاسی نعروں کے طور پر نہ دیکھیں، بل کہ انہیں اپنی حکمرانی کی بنیادی ترجیح سمجھیں۔ ایک مضبوط ریاست وہ ہوتی ہے جہاں فیصلے عوامی مفاد، شفافیت اور قانون کی بنیاد پر کیے جائیں۔ جہاں معاشی پالیسیوں کے اثرات کا جائزہ لیا جائے، کم آمدنی والے طبقات کو تحفظ فراہم کیا جائے، تعلیم اور صحت پر توجہ دی جائے اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ عوام سے بار بار قربانی دینے کا مطالبہ کرنے سے پہلے یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ان کی زندگیوں میں آسانی کیسے پیدا کی جا سکتی ہے۔

پاکستان کے عام شہری نے ہمیشہ مشکل حالات میں صبر، محنت اور قربانی کا مظاہرہ کیا ہے۔ قدرتی آفات ہوں، معاشی بحران ہوں یا قومی سلامتی کے مسائل، عوام نے اپنی استطاعت کے مطابق ملک کا ساتھ دیا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے اور ان کی خاموشی کو مسائل سے رضامندی کا نام نہ دیا جائے۔ شہریوں کی آواز سننا، ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا اور انہیں باوقار زندگی کے مواقع فراہم کرنا ریاستی ذمہ داری کا حصہ ہے۔

ایک دریا پار کرنے کے بعد جب سامنے دوسرا دریا آ جائے تو عام آدمی آخر کب تک تیرتا رہے گا؟ کب اسے ایسا راستہ ملے گا جہاں مہنگائی کا خوف، سیاسی بے یقینی، دہشت گردی کا خطرہ اور روزمرہ زندگی کی رکاوٹیں اس کے خوابوں کو مسلسل نہ توڑیں؟ پاکستان کی تعمیر صرف بڑی عمارتوں، شاہراہوں اور نعروں سے نہیں ہوگی، بل کہ اس وقت ہوگی جب اس ملک کا عام شہری خود کو محفوظ، باعزت اور بااختیار محسوس کرے گا۔ قومیں مشکلات سے ضرور گزرتی ہیں، مگر ان کی اصل کامیابی اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ مشکلات کو مستقل تقدیر بنانے کے بجائے اجتماعی حکمت، ذمہ دار قیادت اور مؤثر نظام کے ذریعے تبدیل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ عوام کو ہر روز ایک نئے دریا کا سامنا ضرور ہے، لیکن انہیں ایسا مستقبل بھی ملنا چاہیے جہاں دریا کم اور راستے زیادہ ہوں، خوف کم اور امید زیادہ ہو، اور زندگی محض بقا نہیں، بل کہ خوش حالی اور وقار کا نام بن سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں