مظفرآباد (خبرنگار) کوٹلی میں انٹرنیٹ کی بندش سے طلباء کا تعلیمی نقصان ناقابلِ تلافی ہے، حکومت فوری بحالی یقینی بنائے،آزاد کشمیر کے سابق وزیر ہائیر ایجوکیشن ملک ظفر نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے ہر اچھے اور عوامی مفاد کے اقدام کی بھرپور حمایت کریں گے۔ ہماری خواہش ہے کہ سابق حکومت کے دور میں جو کمی کوتاہیاں رہ گئی تھیں، موجودہ حکومت انہیں دور کرے اور عوام کے اعتماد پر پورا اترتے ہوئے آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے۔ آزاد کشمیر اس وقت کسی بھی قسم کی افراتفری اور انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا، تمام سیاسی قوتوں کو عوامی مسائل کے حل اور خطے کی ترقی کے لیے مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔مرکزی ایوان صحافت مظفرآباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ملک ظفر نے کہا کہ کوٹلی آبادی کے لحاظ سے آزاد کشمیر کا سب سے بڑا ضلع ہے، جہاں گزشتہ کئی ماہ سے انٹرنیٹ کی سہولت متاثر ہونے کے باعث شہریوں خصوصاً طلباء کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ موجودہ دور میں انٹرنیٹ محض رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ تعلیم، روزگار، کاروبار، تحقیق اور معلومات کے حصول کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ پوری دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے اور تعلیمی نظام تیزی سے آن لائن پلیٹ فارمز سے منسلک ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں کسی علاقے کے طلباء کو طویل عرصے تک انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم رکھنا ان کے تعلیمی مستقبل کے لیے نقصان دہ ہے۔ گزشتہ چار سے پانچ ماہ کے دوران انٹرنیٹ کی بندش یا عدم دستیابی کے باعث کوٹلی کے طلباء کو آن لائن لیکچرز، تعلیمی مواد، تحقیق، امتحانی تیاری اور دیگر ضروری تعلیمی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے ان کا قیمتی تعلیمی وقت ضائع ہوا۔ملک ظفر نے کہا کہ مظفرآباد اور میرپور میں انٹرنیٹ سروس کی بحالی کی طرح کوٹلی میں بھی فوری طور پر انٹرنیٹ کی سہولت بحال کی جانی چاہیے۔ انہوں نے آزاد کشمیر حکومت سے مطالبہ کیا کہ کوٹلی کے عوام بالخصوص طلباء کی مشکلات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کیا جائے اور انٹرنیٹ سروس کی مکمل اور بلاتعطل بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔سابق وزیر ہائیر ایجوکیشن نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کو عوامی مشکلات کے حل کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔ نوجوان نسل کسی بھی معاشرے کا مستقبل ہوتی ہے اور انہیں جدید ٹیکنالوجی، معیاری تعلیم اور معلومات تک رسائی سے محروم رکھنا مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کا کردار حکومت کی مخالفت برائے مخالفت نہیں بلکہ عوامی مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔ اگر موجودہ حکومت عوامی مفاد میں اچھے اقدامات کرے گی تو ان کی حمایت کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن عوامی مسائل، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات کے معاملات پر تمام سیاسی قوتوں کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا چاہیے۔ملک ظفر نے امید ظاہر کی کہ آزاد کشمیر حکومت کوٹلی کے عوام کی مشکلات کو سنجیدگی سے لے گی اور انٹرنیٹ سروس کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کرتے ہوئے طلباء کو مزید تعلیمی نقصان سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے
گی۔
85











