سی اے ایس ایس میں ایرو اسپیس ٹیکنالوجی کی مقامی ترقی پرکیٹالسٹ کنورسیشن
اسلام آباد(خبرنگار)سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (CASS)، اسلام آباد نے 4 اگست 2026 کو “ایرو اسپیس ٹیکنالوجی کی مقامی ترقی (Indigenisation
of Aerospace Technology)” کے موضوع پر ایک آن لائن کیٹالسٹ کنورسیشن کا انعقاد کیا۔ اس مکالمے میں سخت ہوتے ہوئے ٹیکنالوجی کنٹرولز، بدلتی ہوئی عالمی سپلائی چینز اور اہم ٹیکنالوجیز میں خود انحصاری کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے تناظر میں مقامی ایرو اسپیس صلاحیتوں کی ترقی سے متعلق تزویراتی، تکنیکی اور صنعتی تقاضوں کا جائزہ لیا گیا۔ ایک آزاد تھنک ٹینک کی حیثیت سے سی اے ایس ایس قومی اور بین الاقوامی اہمیت کے حامل امور پر بامعنی مکالمے کے فروغ کے لیے باقاعدگی سے ایسے فورمز کا انعقاد کرتا ہے۔نشست کی نظامت کرتے ہوئے ڈائریکٹر سی اے ایس ایس، ایئر وائس مارشل ناصر وائن (ریٹائرڈ) نے ایرو اسپیس ٹیکنالوجی کی مقامی ترقی کو قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے اس کی تزویراتی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے تحقیق و ترقی (R&D) میں مسلسل سرمایہ کاری، حکومت، جامعات اور صنعت کے درمیان مضبوط تعاون، اور ایک مضبوط ایرو اسپیس ماحولیاتی نظام کی تشکیل کے لیے ادارہ جاتی تسلسل کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی خود انحصاری کے لیے مستقل حکومتی معاونت، انسانی وسائل میں سرمایہ کاری اور قومی مقاصد سے ہم آہنگ حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔کلیدی خطاب کرتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی (IST) کے ڈائریکٹر اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی و کمیونیکیشن انجینئرنگ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ریحان محمود نے کہا کہ پاکستان کے پاس مقامی ایرو اسپیس صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے صلاحیت، عزم اور تزویراتی ضرورت تینوں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصل چیلنج قومی عزم کی کمی نہیں بلکہ تحقیق و ترقی، مستند سپلائرز، ٹیسٹنگ انفراسٹرکچر اور خصوصی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنیوں کو مضبوط بنانا ہے۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی انفرادی منصوبوں کے بجائے مضبوط اداروں کے ذریعے ترقی کرتی ہے۔ڈاکٹر ریحان محمود نے کنٹرولڈ انڈیجینائزیشن (منظم مقامی ترقی) کے تصور کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے صلاحیتوں کی ترقی اور عملی تیاری کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر خریداری، شراکت داری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے قومی سطح پر قابلِ پیمائش علمی و تکنیکی فوائد حاصل ہونے چاہییں، تاکہ پاکستان ایرو اسپیس ذیلی نظاموں کی مرمت، جانچ، بہتری، دستاویز سازی اور بالآخر برآمد کی صلاحیت حاصل کر سکے۔ انہوں نے مزید تجویز دی کہ خصوصی ذیلی نظام تیار کرنے والے سپلائرز کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا جائے، جسے مرحلہ وار مقامی کاری کی حکمت عملی کے ذریعے تقویت دی جائے۔ اس حکمت عملی میں ابتدائی مرحلے میں ایسی ٹیکنالوجیز پر توجہ دی جائے جن میں سیکھنے کا عمل نسبتا تیز ہو، جبکہ طویل المدتی منصوبہ بندی کے ذریعے زیادہ پیچیدہ صلاحیتوں کی ترقی بھی جاری رکھی جائے۔اختتامی کلمات میں صدر سی اے ایس ایس، ایئر مارشل جاوید احمد (ریٹائرڈ)نے کہا کہ مقامی ایرو اسپیس صلاحیت پاکستان کی تکنیکی مضبوطی اور تزویراتی خودمختاری کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار ادارہ جاتی عزم، مربوط صنعتی پالیسی، اور سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان قریبی تعاون ہی ایسے مسابقتی قومی ایرو اسپیس نظام کی بنیاد رکھ سکتا ہے جو مستقبل میں دفاعی اور سول دونوں شعبوں کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
23











