185

رسولِ اکرم ﷺ سے محبّت کا تقاضا تحریر: ممتاز ہاشمی

آج امت مسلمہ رسول اللہ ﷺ کی ولادت کی تقریبات منانےکی تیاریوں میں مصروف ہے۔ افراد، حکومتی اور نجی ادارے بڑھ چڑھ کر محمد رسول اللہ ﷺ سے اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ موقع اس امر کا متقاضی ہے کہ ہم میں سے ہر اہل ایمان اپنا جائزہ لے کہ کیا واقعی ہم رسول اللہ ﷺ سے محبت کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس مرحلے پر ہمیں اللہ سبحانہ و تعالٰی کے ان احکامات کو ذہن نشین کرنا ہوگا جس سے اس بات کا ادراک ہو سکے کہ حضرت محمد ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرنے کا کیا مطلب ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالٰی نے قرآن مجید میں متعدد مرتبہ اپنی اطاعت کے ساتھ اپنے محبوب رسول حضرت محمد ﷺ کی اطاعت کو لازمی قرار دیا ہے۔
اس سلسلے میں یہ آیات قابل ذکر ہیں:

’’کہہ دیجئے! کہ اللہ تعالیٰ اور رسول کی اطاعت کرو، پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو بے شک اللہ تعالیٰ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔‘‘
(النساء:۸۰)
’’جو رسول (ﷺ) کی اطاعت کرے اُسی نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی، اور جو منہ پھیر لے تو ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔‘‘
(المائدۃ:۹۲)
’’اور تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے رہو اور رسول کی اطاعت کرتے رہو اور احتیاط رکھو۔ اگر تم اعراض کرو گے تو یہ جان رکھو کہ ہمارے رسول کے ذمہ صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے۔‘‘
(النور:۵۴)
’’کہہ دیجیئے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رسول کی اطاعت کرو، پھر بھی اگر تم نے روگردانی کی تو رسول کے ذمے تو صرف وہی ہے جو اس پر ﻻزم کردیا گیا ہے اور تم پر اس کی جوابدہی ہے جو تم پر رکھا گیا ہے۔ ہدایت تو تمہیں اسی وقت ملے گی جب رسول کی ماتحتی کرو۔ جان لو رسول (ﷺ) کے ذمے تو صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے۔‘‘
(الاحزاب:۳۶)
’’اور (دیکھو) کسی مومن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کے بعد اپنے کسی امر کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا۔ (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے گا وه صریح گمراہی میں پڑے گا۔‘‘
(محمد:۳۳)
’’اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو غارت نہ کرو۔‘‘
اللہ سبحانہ و تعالٰی کے ان احکامات سے اس بات کی مکمل وضاحت ہو جاتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ کی اطاعت کا حق صرف اسی صورت میں ادا کیا جا سکتا ہے جب یہ اطاعت کلی ہو، نہ کہ جزوی۔جزوی اطاعت کا واضح مطلب نفس کی اطاعت ہے، کیونکہ اس میں صرف ان احکامات کی پابندی کی جاتی ہے جو نفس کی خواہشات کو پورا کرنے کا ذریعہ ہوں۔ اور نفس کی یہ اطاعت انسان کو شرک کے درجے تک پہنچا دیتی ہے۔ چنانچہ اس کو سمجھنے کے لے اللہ سبحانہ و تعالٰی نے ایک خود احتسابی نظام وضع کیا ہے جس پر ہر شخص انفرادی طور پر اپنا جائزہ لے سکتا ہے۔ اس کو قرآن مجید کی سورہ التوبہ، آیت ۲۴ میں بیان کیا گیا ہے:
“آپ کہہ دیجئے : تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وہ تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وہ حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو، اگر یہ تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اُس کی راہ کے جہاد سے بھی زیادہ عزیز ہیں ، تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالٰی اپنا عذاب لے آئے۔ اللہ تعالٰی فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا ۔”
علامہ محمد اقبال نے اس آیت کا مفہوم اس طرح سے بیان کیا ہے: ؎
یہ مال و دولت دنیا، یہ رشتہ و پیوند
بتانِ وہم و گماں، لا الہٰ الا اللہ!
یہ انتہائی سخت تنبیہ ہے اور اس پر ہر اہل ایمان اپنے آپ کو پرکھ سکتا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی اطاعت محبت رسول ﷺ کے کلی تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے پورا کرتا ہے، یا صرف خواہش نفس کی تکمیل کر رہا ہے۔ اگر یہ کلی اطاعت ہو تو اس کا اظہار اس کی زندگی میں اللہ کی سعی وجہد کرنے سے عیاں ہو گا ۔
ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ نے اس کا ایک مربوط جائزہ سورۃ الاحزاب کی تفسیر میں اس طرح سے بیان کیا ہے:
’’(اے مسلمانو!) تمہارے لیے اللہ کے رسول ؐمیں ایک بہترین نمونہ ہے ‘‘
بظاہر ہمارے ہاں اس آیت کی تفہیم و تعلیم بہت عام ہے۔ سیرت کا کوئی سیمینار ہو‘میلادکی کوئی محفل ہویا کسی واعظ ِرنگین بیان کا وعظ ہو‘اس آیت کی تلاوت لازمی سمجھی جاتی ہے۔ لیکن رسول اللہﷺکے سیرت وکردار کا نمونہ اپنانے کی جو صورت آج مسلمانوں کے ہاں عموماً دیکھنے میں آتی ہے اس کا تصور بہت محدود نوعیت کا ہے اور جن سنتوں کا تذکرہ عام طو رپر ہمارے ہاں کیا جاتا ہے وہ محض روز مرہ کے معمولات کی سنتیں ہیں‘ جیسے مسواک کی سنت یا مسجد میں داخل ہوتے ہوئے دایاں پائوں اندر رکھنے اور باہر نکلتے ہوئے بایاں پاؤں باہر رکھنے کی سنت۔ یقینا ان سنتوں کو اپنانے کا بھی ہمیں اہتمام کرنا چاہیے اور ہمارے لیے حضورﷺ کی ہر سنت یقینا منبع خیر و برکت ہے۔ لیکن اس آیت کے سیاق و سباق کو مدنظر رکھ کر غور کریں تو یہ نکتہ بہت آسانی سے سمجھ میں آ جائے گا کہ یہاں جس اُسوہ کا ذکر ہوا ہے وہ طاقت کے نشے میں بدمست باطل کے سامنے بے سروسامانی کے عالم میں جان ہتھیلی پر رکھ کر ڈٹ جانے کا اُسوہ ہے ۔ اور اُسوۂ رسولﷺ کا یہی وہ پہلو ہے جو آج ہماری نظروں سے اوجھل ہوچکا ہے۔ دراصل اس آیت میں خصوصی طور پر حضورﷺ کے اس کردار کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے جس کا نظارہ چشم ِفلک نے غزوۂ خندق کے مختلف مراحل کے دوران کیا۔ اس دوران اگر کسی مرحلے پر فاقوں سے مجبور صحابہؓ نے بھوک کی شکایت کی اور اپنے پیٹوں پر پتھر بندھے ہوئے دکھائے تو حضورﷺ نے بھی اپنی قمیص اٹھا کر اپنا پیٹ دکھایا جہاں دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔ اُس وقت اگر صحابہؓ خندق کی کھدائی میں لگے ہوئے تھے تو ان کے درمیان حضورﷺ خود بھی بڑ ے بڑے پتھر اپنے کندھوں پر اُٹھا اُٹھا کر باہر پھینکنے میں مصروف تھے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ کوئی سنگلاخ چٹان صحابہؓ کی ضربوں سے ٹوٹ نہ سکی اور حضورﷺ کو اطلاع دی گئی تو آپؐ نے بنفس ِ نفیس اپنے ہاتھوں سے ضرب لگا کر اسے پاش پاش کیا۔ اس مشکل گھڑی میں ایسا نہیں تھا کہ حضورﷺ کے لیے پر آسائش خیمہ نصب کر دیا گیا ہو ‘آپؐ اس میں محو استراحت ہوں‘خدام ّمورچھل لیے آپؐ کی خدمت کو موجود ہوں اور باقی لوگ خندق کھودنے میں لگے ہوئے ہوں۔
حضورﷺ کے اُسوہ اور آپؐ کی سنت کو عملی طور پر اپنائے جانے کے معاملے کو سمجھانے کے لیے عام طور پر میں معاشیات کی دو اصطلاحات macro economicsاور micro economics کی مثال دیا کرتا ہوں۔ یعنی جس طرح macro economics کا تعلق بہت بڑی سطح کے معاشی منصوبوں یا کسی ملک کے معاشی نظام کے مجموعی خدوخال سے ہے‘اورچھوٹے پیمانے پر معمول کی معاشی سرگرمیوں کے مطالعے کے لیے micro economics کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے‘ اسی طرح اگر ہم macro sunnah اور micro sunnah کی اصطلاحات استعمال کریں اور اس حوالے سے اپنا اور اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑے گی کہ آج ہماری اکثر یت’’مائیکرو سنت‘‘سے تو خوب واقف ہے‘اکثر لوگ روز مرہ معمول کی سنتوں پر عمل کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں‘بلکہ بعض اوقات جذبات کی رو میں بہہ کر اس بنا پر دوسروں کے ساتھ جھگڑے بھی مول لیتے ہیں‘ لیکن ’’میکرو سنت‘‘کی اہمیت و ضرورت کا کسی کو ادراک ہے اور نہ ہی اس کی تعمیل کی فکر (اِلاَّ مَا شَا ء اللّٰہ) ۔مثلاً حضورﷺ کی سب سے بڑی (macro) سنت تو یہ ہے کہ وحی کے آغاز یعنی اپنی چالیس سال کی عمر کے بعد آپؐ نے اپنی پوری زندگی میں کوئی ایک لمحہ بھی معاشی جدوجہد کے لیے صرف نہیں کیا اور نہ ہی اپنی زندگی میں آپؐ نے کوئی جائیداد بنائی۔ بعثت سے پہلے آپؐ ایک خوشحال اور کامیاب تاجر تھے‘ لیکن سورۃ المدثر کی ان آیات کے نزول کے بعد آپؐ کی زندگی یکسر بدل گئی: ﴿یٰۤاَیُّہَا الۡمُدَّثِّرُ (۱) قُمۡ فَاَنۡذِرۡ(۲) وَ رَبَّکَ فَکَبِّر(۳)﴾} ’’اے چادر اوڑھنے والے! اُٹھیے‘ اور (لوگوں کو) خبردار کیجیے ‘اور اپنے رب کی تکبیرکیجیے‘‘۔ اس حکم کی تعمیل میں گویا آپؐ نے اپنی ہر مصروفیت کو ترک کر دیا‘ہر قسم کی معاشی جدوجہد سے پہلو تہی اختیار فرمالی‘اور اپنی پوری قوت و توانائی ‘ تمام تر اوقات اور تمام تر تگ و دو کا رخ دعوتِ دین‘ اقامت ِدین اورتکبیر رب کی طرف پھیر دیا۔ یہ وہ ’’میکرو سنت‘‘ ہے جس سے نبی اکرمﷺ کی زندگی کا ایک لمحہ بھی خالی نظر نہیں آتا۔
آج اس درجے میں نہ سہی مگر اس میکرو سنت کے رنگ کی کچھ نہ کچھ جھلک تو بحیثیت مسلمان ہماری زندگیوں میں نظر آنی چاہیے‘ اوراس رنگ کے ساتھ ساتھ مائیکرو قسم کی سنتوں کا بھی اہتمام کیا جائے تو وہ یقینا نورٌ علیٰ نور والی کیفیت ہو گی۔ لیکن اگر ہم اپنی ساری توانائیاں صرف چھوٹی چھوٹی سنتوں کے اہتمام میں ہی صرف کرتے رہیں‘برش کے بجائے مسواک کا استعمال کرکے سو شہیدوں کے برابر ثواب کی امید بھی رکھیں اور اتباعِ سنت کے اشتہار کے طور پر ہر وقت مسواک اپنی جیب میں بھی لیے پھریں ‘لیکن اپنی زندگیوں کا عمومی رخ متعین کرنے میں ’’میکرو سنت‘‘ کا بالکل بھی لحاظ نہ کریں تو ہمیں خود فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہمارا یہ طرزِ عمل اُسوۂ رسولﷺ سے کس قدر مطابقت اور مناسبت رکھتا ہے! ‘‘
آج ہم جب امت مسلمہ کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطے پر اللہ کا دین نافذ نہیں ہے، باوجود اس کے کہ دنیا کی ایک واضح اکثریت ایمان کی دعوے دار ہے اور مسلمانوں کے اکثر ممالک وسائل سے مالا مال ہیں۔ یہ بات اہل ایمان کی اکثریت میں ایمان کی کمزوری کو واضح کرتی ہے۔اس صورتحال میں ہم اہل ایمان کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔ہمیں وقت کا ضیاع نہیں کرنا چاہیے اور پورے یقین کے ساتھ اللہ سبحانہ و تعالٰی کے احکامات کی تعمیل اور سنت رسول آخرالزماں ﷺ پر عملدرآمد کرتے ہوئے پاکستان اور دنیا بھر میں دین اسلام کے نفاذ میں اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کرنا چاہیے۔ ‎ ہمارا یہی عمل ہمیں اپنی تخلیق کے جواز کو صحیح ثابت کرنے کا باعث بنے گا اور آخرت میں کامیابی کا حصول اسی میں پنہاں ہے۔ ہمارا یہی عمل ہماری اللہ کے محمد رسول اللہ ﷺ سے محبت کا حقیقی ثبوت ہو گا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کو دین اسلام کے قیام اور نفاذ کے لیے مختص کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں