راولاکوٹ( بیورورپورٹ )حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر آزادکشمیر میں جاری احتجاجی تحریک کو دو ماہ گزر گئے، تاہم مظاہرین کے مطالبات تاحال تسلیم نہ کیے جا سکے۔ راولاکوٹ میں دھرنا بدستور جاری ہے جبکہ مختلف علاقوں میں معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔آزادکشمیر میں انٹرنیٹ سروس بدستور معطل ہے، جبکہ بعض مقامات پر احتجاج اور حالات کے باعث بازار بھی مکمل طور پر نہ کھل سکے۔ طویل بندش کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کے ساتھ شہریوں کو روزمرہ ضروریات کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔دوسری جانب بعض علاقوں میں غذائی اجناس کی قلت پیدا ہونے لگی ہے، جس سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے جاری کشیدگی اور بندش نے معمول کی زندگی کو مفلوج
کر دیا ہے۔راولاکوٹ میں جاری دھرنا اس بات کا واضح اظہار ہے کہ حکومت اور احتجاجی قیادت کے درمیان مطالبات پر تاحال کوئی قابلِ قبول پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مسئلے کا فوری اور پُرامن حل تلاش کیا جائے تاکہ انٹرنیٹ، کاروبار اور آمدورفت سمیت بنیادی شہری سہولیات بحال ہو سکیں اور آزادکشمیر میں معمولاتِ زندگی دوبارہ رواں دواں ہوں۔
65











