حویلی کہوٹہ کی حالیہ انتخابی مہم میرے لیے محض ایک انتخابی مہم نہیں تھی۔ یہ اپنے لوگوں کے درمیان کھڑے ہو کر انہیں یہ یقین دلانے کی ایک کوشش تھی کہ سیاست صرف دو روایتی طاقتوں، دو خاندانوں یا دو دھڑوں کی جاگیر نہیں۔ عوام کے پاس ایک تیسرا راستہ بھی ہو سکتا ہے؛ ایسا راستہ جس پر ایک شریف النفس، جاندار، باکردار اور عوام کے دکھ درد کو سمجھنے والا انسان کھڑا ہو۔
حویلی کے عام آدمی نے گزشتہ کئی برسوں میں جس سیاسی دباؤ، طاقت کے استعمال، راستوں کی بندش، بلیک میلنگ اور بنیادی سہولیات کی محرومی کو برداشت کیا، اس نے لوگوں کو اندر سے توڑ دیا تھا۔ کہیں کہوٹہ کا راستہ بند ہوتا رہا، کہیں پلنگی کے راستے کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کیے جانے کی شکایات رہیں۔ مہنگے اور ناقص آٹے سے لے کر ہسپتالوں میں بنیادی ادویات کی عدم دستیابی تک، عام آدمی کے مسائل اپنی جگہ موجود رہے۔
اسی پس منظر میں اس بار حویلی کا ووٹر تبدیلی کے لیے بے چین تھا۔
اور اسی موقع پر خواجہ طارق سعید حویلی کے سیاسی منظرنامے میں ایک مضبوط تیسرے آپشن کے طور پر سامنے آئے۔
یہ وہ شخص ہیں جن کے خاندان نے عوامی خدمت کو قریب سے دیکھا ہے۔ ان کے والد سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج رہے اور ان کی اہلیہ نے CMH کے گائنی وارڈ میں خدمات انجام دیں۔ مگر میرے لیے ان کی اصل اہمیت ان کا خاندانی تعارف نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ایک ایسے راستے پر نکلے جس پر چلنا آسان نہیں تھا۔
میں نے ان کا ساتھ کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں دیا۔
میں ان کے ساتھ اس لیے کھڑی ہوئی کہ میں بھی اپنے لوگوں کو آزاد، خودمختار، بااختیار اور خوشحال دیکھنا چاہتی ہوں۔
حویلی کو پہلی مرتبہ دو روایتی سیاسی دھڑوں کے درمیان ایک نسبتاً مختلف، تیسرا راستہ دکھائی دیا۔ ایک ایسا راستہ جس میں عام آدمی کو صرف ووٹر نہیں بلکہ انسان سمجھنے کی بات کی گئی۔
ہم نے مہم کی۔
گھر گھر گئے۔
لوگوں کو ووٹ ڈالنے کے لیے آمادہ کیا۔
بہت سے پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے لوگ اس بار ووٹ ڈالنے سے بھی گریزاں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹ دینے سے کیا حاصل، آخر مینڈیٹ تو چوری ہو جانا ہے۔ میں نے انہیں یقین دلایا کہ اس بار ایسا نہیں ہوگا، اس بار عوام اپنے ووٹ کا فیصلہ خود کریں گے۔
مگر انتخابی رات نے بہت سے سوالات چھوڑ دیے۔
ہم اور محسن عزیز کے کارکن میدان میں انتخابی مہم کرتے رہے، ووٹر کو قائل کرتے رہے، اور ہمیں یقین تھا کہ فیصلہ بیلٹ کے ذریعے ہوگا۔ لیکن جو کچھ اس کے بعد ہوا، اس نے یہ سوال ضرور کھڑا کیا کہ کہیں ہم میدان میں انتخاب نہیں بلکہ ایک ایسا میچ تو نہیں کھیل رہے تھے جس کا فیصلہ کہیں اور کیا جا چکا تھا؟
RO آفس کے باہر کشیدگی بڑھی۔ مختلف گروہوں کے درمیان تصادم، راستوں کی بندش اور دباؤ کی صورتحال پیدا ہوئی۔ میں نے خود ایسے حالات دیکھے جن میں جان کا خطرہ محسوس ہوا۔ بعض پولنگ اسٹیشنوں پر ہمارے لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے روکے جانے کی شکایات سامنے آئیں۔ مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں ملیں، میری گاڑی اور ڈرائیور پر حملہ ہوا۔
اور پھر وہ رات آئی جس نے حویلی کے انتخابی عمل پر بہت سے سوالات چھوڑ دیے۔
نتائج مرتب کرنے کے مرحلے پر جو کچھ ہوا، اس پر بعد میں خود الیکشن کمیشن کے اندر اختلاف سامنے آیا۔ الیکشن کمیشن کے رکن سید نذیرالحسن گیلانی نے اپنے اختلافی نوٹ میں بعض فارموں کے حوالے سے جعل سازی کے الزامات کو ریکارڈ سے ثابت شدہ قرار دیا اور مخصوص پولنگ اسٹیشنز کے نتائج دوبارہ مرتب کرنے کی رائے دی۔
یہ بات اب محض کسی شکست خوردہ امیدوار کا دعویٰ نہیں رہی کہ انتخابی عمل پر سوالات اٹھے تھے۔ خود انتخابی ریکارڈ نے ان سوالات کو جنم دیا ہے۔
لیکن میں یہاں کسی فرد کی ذات یا کردار پر حملہ نہیں کرنا چاہتی۔
میرا سوال نظام سے ہے۔
اگر ایک عام آدمی پورا دن ووٹ ڈالنے کے لیے قطار میں کھڑا ہو، اگر ایک امیدوار اور اس کے کارکن دن رات لوگوں کو جمہوری عمل پر یقین دلائیں، اگر لوگ خوف کے باوجود ووٹ ڈالنے نکلیں، اور پھر نتیجے کے مرحلے پر ایسے سوالات پیدا ہوں کہ فارموں اور نتائج کے درمیان تضاد سامنے آئے، تو پھر سوال صرف ایک نشست کا نہیں رہتا۔
سوال یہ ہے کہ عوام کے ووٹ کی حرمت کہاں ہے؟
میں اس انتخابی عمل کے دوران اپنے والدین کو ساتھ لے کر انتہائی مشکل حالات میں طارق سعید کے آزاد امیدواروں کے قافلے کے ساتھ حویلی سے مظفرآباد نکلی۔ انٹرنیٹ پہلے ہی طویل عرصے سے بند تھا، موبائل سروس بھی متاثر رہی، رابطے محدود تھے۔ ایک طرف انتخابی سرگرمیاں تھیں، دوسری طرف خوف، بے یقینی اور کشیدگی۔
مگر آج میں اپنے گھر سے، اپنے لوگوں سے مخاطب ہوں۔
میں کسی سے بدلہ لینے کی بات نہیں کر رہی۔
میں کسی کی ذات کو نشانہ نہیں بنا رہی۔
میں صرف یہ کہہ رہی ہوں کہ حویلی کا عام آدمی اب پہلے جیسا نہیں رہا۔
اس نے دیکھ لیا ہے کہ اس کے پاس سوال کرنے کا حق ہے۔
اس نے محسوس کر لیا ہے کہ اسے ہر بار دو روایتی انتخابوں میں سے ایک انتخاب کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
اور سب سے بڑھ کر، حویلی کو ایک تیسرا آپشن مل چکا ہے۔
خواجہ طارق سعید ایک ایسے تیسرے سیاسی راستے کے طور پر سامنے آ چکے ہیں جسے ختم کرنا اب اتنا آسان نہیں ہوگا۔ انتخابات آتے جاتے رہیں گے، نتائج بدلتے رہیں گے، حکومتیں بنتی اور گرتی رہیں گی، مگر عوام کے ذہن میں پیدا ہونے والا سوال واپس نہیں جاتا۔
میں اس تیسرے راستے کے لیے پہلے بھی کوشاں تھی، آج بھی ہوں اور آئندہ بھی رہوں گی۔
کیونکہ میری سیاست کسی کرسی کے لیے نہیں۔
ہم اقتدار کے لیے نہیں نکلے تھے، ہم حویلی کے عام آدمی کو اس کا اختیار واپس دلانے نکلے تھے۔
اور اگر کسی انتخاب کا نتیجہ کاغذ پر ہمارے خلاف بھی آ جائے، لیکن ایک خوف زدہ معاشرے میں لوگ پہلی مرتبہ یہ سوچنا شروع کر دیں کہ ہم دو روایتی طاقتوں کے علاوہ کسی تیسرے، شریف النفس اور بااصول انسان کو بھی اپنا نمائندہ بنا سکتے ہیں—تو پھر یہ شکست نہیں۔
اخلاقی طور پر ہم جیت چکے ہیں۔
اور یہ جیت کسی ایک الیکشن کی نہیں۔
یہ حویلی کے سیاسی شعور کی جیت ہے۔
تیسرا راستہ آ چکا ہے۔
اور میں اس راستے کے ساتھ کھڑی تھی، کھڑی ہوں اور کھڑی رہوں گی
111











