18

بحران کے بیچ ایک پُرامن آواز :نعیم الحسن نعیم

ایڈووکیٹ نبیلہ ارشاد اور آزاد کشمیر میں سیاسی شعور کی جدوجہد
کبھی کبھی تاریخ کے صفحات پر کچھ نام ایسے بھی لکھے جاتے ہیں جو اقتدار کے ایوانوں کی وجہ سے نہیں بلکہ مشکل وقت میں ادا کیے گئے الفاظ کی وجہ سے یاد رہتے ہیں۔ جب معاشرہ بے چینی سے دوچار ہو جب سڑکوں پر احتجاج ہو، جب عوام اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہوں اور جب سیاسی ماحول میں تلخی بڑھنے لگے ایسے وقت میں سب سے مشکل کام صرف بولنا نہیں ہوتا بلکہ درست وقت پر درست بات کہنا ہوتا ہے۔آزاد کشمیر میں گزشتہ عرصے کے دوران پیدا ہونے والی سیاسی و عوامی صورتِ حال بھی ایک ایسا ہی امتحان تھی۔ عوامی مطالبات سیاسی اختلافات حکومتی اقدامات اور احتجاجی سیاست نے پورے خطے کو ایک غیر معمولی کیفیت سے دوچار کیا۔ ایسے ماحول میں جہاں بعض آوازیں مزید تقسیم پیدا کر سکتی تھیں، وہاں ایک سیاسی آواز مسلسل مکالمے، برداشت اور سیاسی حل کی طرف اشارہ کرتی دکھائی دی۔
یہ آواز تھی ایڈووکیٹ نبیلہ ارشاد، چیئرپرسن جموں و کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی کی۔نبیلہ ارشاد کی سیاست کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے اسے سیاسی مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی بات کرتی ہیں۔ آزاد کشمیر کی حالیہ صورتحال کے دوران بھی ان کا مؤقف یہی رہا کہ معاملات کو کشیدگی کی طرف لے جانے کے بجائے تمام متعلقہ فریق دانش مندی، تحمل اور افہام و تفہیم کا مظاہرہ کریں اور مسائل کا پُرامن، آئینی اور باوقار حل تلاش کیا جائے۔یہ بظاہر چند الفاظ ہیں، لیکن بحران کے دنوں میں ایسے الفاظ کی اپنی ایک سیاسی اہمیت ہوتی ہے۔کیونکہ احتجاج آسان نہیں ہوتا، مگر احتجاج کے بعد مذاکرات کی میز تک پہنچنا اس سے بھی زیادہ مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔
عوام کا غصہ اپنی جگہ حقیقت ہے۔ ان کے مسائل اپنی جگہ حقیقت ہیں۔ ان کے مطالبات اپنی جگہ اہم ہیں۔ لیکن ایک ذمہ دار سیاسی قیادت کی اصل آزمائش یہ ہوتی ہے کہ وہ عوام کے احساسات کو سمجھتے ہوئے بھی حالات کو ایسے راستے پر لے جائے جہاں مسائل کا حل نکل سکے۔نبیلہ ارشاد نے اسی پہلو کو اپنی سیاسی گفتگو کا مرکز بنایا۔عوام کی آواز کو سننا، مگر تصادم سے بچانے کی کوشش کی ایک سیاسی رہنما کا کام صرف یہ نہیں کہ وہ حکومت کا دفاع کرے یا احتجاج کرنے والوں کی مخالفت کرے۔ اصل کام یہ ہے کہ وہ دونوں کے درمیان ایک ایسا پل بننے کی کوشش کرے جس کے ذریعے بات چیت کا راستہ کھلا رہے۔
یہی وہ سوچ ہے جس نے نبیلہ ارشاد کے کردار کو حالیہ حالات میں ایک مختلف رنگ دیا۔ان کے مؤقف میں ایک طرف عوامی مطالبات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نظر آتی ہے، تو دوسری طرف ریاستی استحکام، امن اور سیاسی وقار کو برقرار رکھنے کی فکر بھی موجود ہے۔یہ توازن آسان نہیں۔لیکن سیاست کا حسن بھی شاید یہی ہے کہ وہ جذبات کو راستہ دیتی ہے مگر فیصلے عقل اور تدبر سے کرنے کی کوشش کرتی ہے۔9جون 2026 کے بعد آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتِ حال نے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے کردار کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا۔ احتجاجی سیاست شدت اختیار کرتی گئی تو یہ سوال بھی اہم ہوتا گیا کہ اس بحران کو آخر ختم کیسے کیا جائے؟
ایسے وقت میں نبیلہ ارشاد کی طرف سے مذاکرات اور سیاسی حل پر زور ایک ایسے مؤقف کے طور پر سامنے آیا جس کا بنیادی مقصد کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنا تھا۔ یہاں ایک بات قابلِ غور ہے۔جب سیاسی ماحول میں ہر شخص اپنے مؤقف کو آخری سچ سمجھنے لگے تو مکالمہ ختم ہو جاتا ہے۔ اور جب مکالمہ ختم ہو جائے تو بحران بڑھتا ہے۔نبیلہ ارشاد کے مؤقف کی اہمیت یہی تھی کہ انہوں نے اختلاف کے باوجود مکالمے کا دروازہ بند کرنے کے بجائے اسے کھلا رکھنے کی بات کی۔سیاست صرف اقتدار کا نام نہیں.
نبیلہ ارشاد کی سیاست کو صرف ایک سیاسی جماعت کی چیئرپرسن کے کردار تک محدود کر کے دیکھنا شاید مکمل تصویر نہیں ہوگی جموں و کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی کے قیام سے ہی ان کی سیاسی گفتگو میں روایتی سیاست سے ہٹ کر ایک مختلف طرزِ فکر کی بات سامنے آتی رہی ہے۔ ان کے نزدیک سیاست کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ عوامی مسائل کو سیاسی ایجنڈے کا حصہ بنانا بھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ حالیہ بحران میں ان کی گفتگو میں صرف حکومت یا صرف احتجاج کرنے والوں کی حمایت یا مخالفت کے بجائے حل کا لفظ زیادہ اہم نظر آتا ہے۔اور بحران کے وقت حل کی بات کرنا ہمیشہ مقبول ترین راستہ نہیں ہوتا۔
کیونکہ غصے کے لمحے میں لوگ جواب چاہتے ہیں، دلیل نہیں۔لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ دیرپا حل ہمیشہ جذبات کے شور سے نہیں بلکہ مذاکرات کی خاموش میز پر جنم لیتے ہیں.
ایک عورت کی سیاسی جدوجہد پاکستان اور آزاد کشمیر کی سیاست میں خواتین کی نمائندگی ہمیشہ سے ایک اہم سوال رہی ہے۔ ایسے ماحول میں ایک خاتون کا کسی سیاسی جماعت کی قیادت کرنا اور پھر مشکل ترین سیاسی حالات میں اپنا مؤقف مسلسل سامنے رکھنا خود ایک اہم سیاسی حقیقت ہے۔نبیلہ ارشاد نے اس میدان میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ ان کی جدوجہد کو صرف خواتین کی سیاست کے عنوان سے دیکھنا بھی شاید درست نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے ایک ایسے سیاسی ماحول میں اپنی آواز بلند کی جہاں خواتین کے لیے سیاسی فیصلہ سازی میں جگہ بنانا آج بھی آسان نہیں۔انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ سیاست صرف نعروں، جلسوں اور انتخابی وعدوں کا نام نہیں بلکہ بحران کے وقت ذمہ داری قبول کرنے کا نام بھی ہے۔جب سیاست کا امتحان ہوتا ہے سیاسی رہنما کا اصل امتحان اس وقت نہیں ہوتا جب حالات اس کے حق میں ہوں۔ اصل امتحان تب ہوتا ہے جب حالات مخالف ہوں۔جب عوام ناراض ہوں۔ جب حکومت دباؤ میں ہو۔جب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزام لگا رہی ہوں۔اور جب ہر لفظ کے معنی نکالے جا رہے ہوں۔ایسے وقت میں کسی رہنما کا یہ کہنا کہ بات چیت کی جائے، تحمل اختیار کیا جائے اور مسئلے کا آئینی و پُرامن حل تلاش کیا جائے شاید ایک سادہ بات لگے، مگر حقیقت میں یہ ایک بڑی سیاسی ذمہ داری ہوتی ہے۔
نبیلہ ارشاد نے اسی راستے کو اختیار کرنے پر زور دیا۔ان کا مؤقف یہ نہیں تھا کہ عوام کی آواز کو خاموش کر دیا جائے۔بلکہ بات یہ تھی کہ عوام کی آواز کو مذاکرات کی میز تک پہنچایا جائے۔یہ فرق بہت اہم ہے۔کیونکہ احتجاج اور مذاکرات ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ احتجاج عوامی آواز کو طاقت دیتا ہے اور مذاکرات اس آواز کو حل تک پہنچانے کا راستہ فراہم کرتے ہیں تاریخ گواہ رہے گی آج شاید ہم اس دور کے واقعات کو صرف ایک سیاسی بحران کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
لیکن وقت گزرنے کے بعد جب تاریخ کے صفحات پلٹے جائیں گے تو شاید سوال یہ نہیں ہوگا کہ کون کس کے ساتھ کھڑا تھا۔سوال یہ ہوگا کہ جب حالات خراب تھے تو کس نے حالات بہتر بنانے کی کوشش کی؟کس نے نفرت کے بجائے مکالمے کی بات کی؟کس نے تصادم کے بجائے آئینی راستہ دکھایا؟کس نے عوامی مطالبات کو سننے کی ضرورت محسوس کی؟اور کس نے یہ سمجھا کہ کشمیر کی سرزمین کو مزید انتشار نہیں بلکہ سیاسی استحکام، انصاف اور باوقار حکمرانی کی ضرورت ہے؟ان سوالات کے جواب میں ایڈووکیٹ نبیلہ ارشاد کا کردار بھی اپنی جگہ موجود ہوگا۔شاید اس لیے کہ ان کی آواز کا ایک بنیادی پیغام یہی رہا کہ اختلاف کو دشمنی نہ بنایا جائے، احتجاج کو تصادم نہ بننے دیا جائے اور سیاسی بحران کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔نبیلہ ارشاد کے حالیہ سیاسی کردار کو اسی پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے بحران کے دنوں میں ایک ایسی سیاسی زبان استعمال کرنے کی کوشش کی جس میں احتجاج کرنے والے عوام کے احساسات کی جگہ بھی تھی اور مذاکرات، تحمل اور ریاستی استحکام کی ضرورت بھی۔یہی شاید ایک ذمہ دار سیاسی کردار کی اصل پہچان ہے۔آخر میں…آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی تاریخ ابھی لکھی جا رہی ہے۔آج کے واقعات کل تاریخ کا حصہ بنیں گے۔آج کے بیانات کل حوالہ بنیں گے۔آج کی کوششیں کل یہ طے کریں گی کہ اس دور کو بحران کے دور کے طور پر یاد کیا جائے گا یا اس دور کے طور پر جب ایک مشکل صورتحال نے سیاسی شعور کے نئے دروازے کھولے۔ایڈووکیٹ نبیلہ ارشاد کا کردار اسی تاریخ کے ایک باب کا حصہ ہے۔ایک خاتون سیاسی رہنما کی حیثیت سے، ایک جماعت کی چیئرپرسن کی حیثیت سے اور سب سے بڑھ کر ایک ایسی آواز کی حیثیت سے جو کشیدگی کے ماحول میں بھی مکالمے کا راستہ تلاش کرنے کی بات کرتی رہی۔کیونکہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بنتیں۔قومیں برداشت سے بنتی ہیں مذاکرات سے بنتی ہیں۔انصاف سے بنتی ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر اس یقین سے بنتی ہیں کہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے سے بات کی جا سکتی ہے۔شاید یہی وہ امید ہے جس کی آزاد کشمیر کو آج سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ایک ایسی امید جو احتجاج کی آواز کو دبائے نہیں، بلکہ اسے سنے۔
ایک ایسی سیاست جو اختلاف کو جرم نہ سمجھے، بلکہ مکالمے میں بدلے۔
اور ایک ایسی قیادت جو اقتدار سے زیادہ عوام کے مستقبل کو اہمیت دے۔ایڈووکیٹ نبیلہ ارشاد کی سیاسی جدوجہد کو اگر ایک جملے میں بیان کیا جائے تو شاید یہی کہا جا سکتا ہے:
بحران کے شور میں بھی مکالمے کی آواز زندہ رکھنا ہی سیاست کی اصل ذمہ داری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں