13

باپ کی شہزادی جب اپنے ہی گھر لوٹ آئے… تو بابل کا دل ٹوٹ جاتا ھے:الیاس اعوان

ایک باپ اپنی بیٹی کے لیے دنیا کی ہر قیمتی چیز خرید سکتا ھے۔اس کی خوشیوں کے لیے اپنی زندگی کی کمائی لٹا سکتا ھے، اس کے جہیز میں اپنی حیثیت سے بڑھ کر سامان رکھ سکتا ھے، اس کے لیے سونے کے زیور، خوبصورت کپڑے، گھر کا سامان اور دنیا کی ہر آسائش خرید سکتا ھے
مگر ایک چیز ایسی ھے جو دنیا کا کوئی باپ اپنی بیٹی کے لیے نہیں خرید سکتا…اور وہ ھے اس کا نصیب۔
بیٹیاں جب باپ کے گھر پیدا ہوتی ہیں تو چڑیوں کی طرح چہکتی ہیں، پورے گھر میں شور مچاتی ہیں
کبھی ماں سے لڑتی ہیں، کبھی باپ کی گود میں سر رکھ کر سو جاتی ہیں۔
انہیں کیا خبر کہ جس گھر کو وہ اپنی پوری زندگی کی جاگیر سمجھ رہی ہیں، وہاں وہ صرف چند برسوں کی مہمان ہیں۔
باپ اپنی شہزادی کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھاتا ھے،ماں اس کے بال سنوارتی ھے،بھائی اس کی شرارتوں پر لڑتا بھی ھے اور چھپ چھپ کر اس کی حفاظت بھی کرتا ھے۔
پھر ایک دن وہی گھر جس کی دیواروں میں اس کی ہنسی بسی ہوتی ھے، اچانک اس کے لیے اجنبی ہونے لگتا ھے۔وہ دن آتا ھے جب باپ اپنی بیٹی کا ہاتھ کسی اور کے ہاتھ میں دے کر کہتا ھے
“بیٹی خوش رہنا
اور یہ کہتے ہوئے باپ اپنی آنکھوں کے آنسو چھپا لیتا ھے، کیونکہ باپ اپنی بیٹی کی رخصتی کے وقت روتا نہیں وہ اندر سے ٹوٹتا ھے
اے کسی کی بیٹی کو اپنی بیوی بنا کر اپنے گھر لانے والو!
کبھی سوچا ھے جس لڑکی کو آپ معمولی سی بات پر ڈانٹ دیتے ہیں، وہ کسی باپ کی پوری دنیا تھی
۔کبھی وہ گھر میں سب سے پہلے سو کر بھی سب سے پہلے اٹھتی تھی۔ کبھی اس کی ایک مسکراہٹ پر اس کا باپ اپنی تھکن بھول جاتا تھا کبھی اس کی آنکھ میں آنسو آتا تو باپ کا دل بے چین ہو جاتا تھا۔
وہ باپ کی شہزادی تھی نازوں سے پلی تھی دعاؤں میں مانگی گئی تھی اور بڑی مشکل سے جوان ہوئی تھی۔
مگر قسمت کا لکھا کون بدل سکتا ھے؟
کبھی شوہر سے ناراضی، کبھی سسرال کی تلخیاں، کبھی حالات کی بے رحمی، اور کبھی طلاق کا ایسا زخم کہ ایک دن وہی شہزادی اپنے ہاتھ میں چند سامان کے بیگ لیے دوبارہ بابل کے دروازے پر کھڑی ہوتی ھے۔
دروازہ کھلتا ھے سامنے باپ کھڑا ہوتا ھے۔بیٹی نظریں جھکا کر اندر داخل ہوتی ھے۔باپ کچھ نہیں پوچھتا نہ یہ کہ “کیوں واپس آئی ہو؟ نہ یہ کہ “لوگ کیا کہیں گے؟”
بس اپنی بیٹی کو دیکھتا ھے اور دل ہی دل میں کہتا ھے
“آ جا میری بچی…یہ گھر آج بھی تیرا ھے۔ تو کہیں سے ہار کر نہیں آئی،تو میرے پاس واپس آئی ھے
اس لمحے باپ اپنی بیٹی کا چہرہ نہیں دیکھتا،
وہ اپنی وہ ننھی سی بچی دیکھتا ھے جو کبھی اس کی انگلی پکڑ کر چلتی تھی۔وہی بچی وہی آنکھیں وہی معصوم چہرہ
بس آنکھوں میں اب بچپن کی شرارت نہیں، زندگی کے دکھ ہوتے ہیں۔اور باپ کا دل چیخ کر کہتا ھے “کاش میں تیرے نصیب بھی خرید سکتا!”
بیٹی چاہے ناراض ہو کر واپس آئے،چاہے طلاق لے کر،چاہے حالات اسے واپس لے آئیں چاہے دنیا اسے ناکام کہے وہ اپنے باپ کے لیے آج بھی وہی شہزادی ھے۔اس لیے کسی کی بیٹی کو کبھی اتنا مت توڑو کہ وہ اپنا بابل کا دروازہ یاد کرے
اور والدین سے بھی ایک گزارش ھے
بیٹی واپس آ جائے تو اسے بوجھ مت سمجھنا۔ وہ تمہاری اولاد ھے، تمہاری عزت ھے، تمہاری دعاؤں کا حصہ ھے۔
دنیا چاہے اسے ناکام کہے، لوگ چاہے ہزار سوال کریں،رشتے دار چاہے طعنے دیں باپ کے لیے بیٹی کبھی ناکام نہیں ہوتی۔
کیونکہ بیٹی جب پیدا ہوتی ھے تو باپ اسے دنیا میں نہیں لاتا
اللہ اسے باپ کے گھر رحمت بنا کر بھیجتا ھے۔
اور رحمت اگر زندگی کے کسی موڑ پر واپس آ جائے تو اسے گلے لگایا جاتا ھے، سوال نہیں کیا جاتا۔
اے باپ! اپنی بیٹی کو کبھی یہ محسوس نہ ہونے دینا کہ اس کا گھر اس کے لیے صرف تب تک تھا جب تک اس کی شادی نہیں ہوئی تھی کیونکہ بیٹی کی شادی ہو سکتی ھے مگر باپ کے دل سے اس کی بیٹی کبھی رخصت نہیں ہوتی۔
اللہ ہر بیٹی کا نصیب روشن کرے، ہر باپ کی شہزادی کو خوش رکھے، اور کسی بیٹی کو اپنے بابل کے گھر واپس آ کر آنسو نہ بہانے پڑیں۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں