آسمان نے جب اپنی نیلگوں چادر کی شکنیں کھولیں،
تو ابر کی پیشانی سے
چاندی جیسے قطرے
خاموشی کے دامن میں اترنے لگے۔
فضا نے گیلی مٹی کی خوشبو کو
دعا کی مانند سینے سے لگایا،
اور شجر کی شاخوں نے
ہوا کے نرم لمس پر
شکرانے کے سجدے کیے۔
بارش محض پانی نہیں ہوتی،
یہ آسمان کے لبوں سے جھرنے والی
ایک خاموش مناجات ہے،
جو بنجر دلوں میں بھی
امید کے سبز بیج بو دیتی ہے۔
دور افق پر
بادلوں کی گرج
کسی جلیل القدر خطیب کی صدا معلوم ہوتی ہے،
اور بجلی کی چمک
گویا قدرت نے
شب کے ماتھے پر
نور کی ایک سطر رقم کر دی ہو۔
پتوں پر ٹھہرے ہوئے قطرے
موتیوں کی تسبیح معلوم ہوتے ہیں،
جنہیں نسیمِ سحر
آہستہ آہستہ پھیرتی رہتی ہے۔
دریا اپنے کناروں سے لپٹ کر
کسی مشتاق عاشق کی طرح
وصل کا گیت گنگناتا ہے،
اور جھرنے
سنگلاخ سینوں سے ٹکراتے ہوئے
حیات کا نغمہ چھیڑ دیتے ہیں۔
بارش کے بعد
جب سورج بادلوں کی اوٹ سے مسکراتا ہے،
تو کائنات یوں محسوس ہوتی ہے
جیسے خالق نے
ازسرِ نو
زمین کے چہرے کو وضو کرا دیا ہو۔
کاش!
انسان بھی بارش سے یہ ہنر سیکھ لے؛
کہ برسنا صرف زمین کو سیراب کرنا نہیں،
بلکہ دلوں کی گرد دھونا،
نفرت کی دھول بہا دینا،
اور محبت کے پھولوں کو
پھر سے مہکا دینا بھی ہے۔
تبھی تو ہر بارش کے بعد
زمین پہلے سے زیادہ خوبصورت دکھائی دیتی ہے…
شاید اس لیے کہ
قدرت جانتی ہے،
پاکیزگی ہمیشہ
خاموشی کے قطروں میں اترتی ہے۔











