ارشد نے جب دیارِ غیر میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے زبردست معاہدے پر دستخط کیے تھے، تو اسے لگا تھا کہ اس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی فتح حاصل کر لی ہے۔ ایک شاندار گاڑی، سمندر پار کا پرتعیش فلیٹ، اور ماہانہ اتنا بینک بیلنس کہ جسے دیکھ کر کسی کی بھی آنکھیں کھندیا جائیں۔
جب وہ وطن سے روانہ ہو رہا تھا، اس کا بیٹا ہادی محض ایک سال کا تھا، گول مٹول اور تتلا کر بولنے والا۔ اس کی بیوی، مریم، کے چہرے پر جدائی کا غم تو تھا لیکن شوہر کی روشن مستقبل کی امید نے اس کے قدم نہیں ڈگمگانے دیے تھے۔ ارشد نے مریم کا ہاتھ تھام کر کہا تھا، “بس چند سال مریم… میں اتنا کما لوں کہ ہماری آئندہ نسلوں کو کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔”
شروع کے دو تین سال ایک خواب کی طرح گزرے۔ ارشد کا سارا دھیان کام، ترقی اور پیسے اکٹھا کرنے پر رہا۔ ہر مہینے وہ ایک موٹی رقم گھر بھیجتا، مریم کے لیے قیمتی زیورات اور ہادی کے لیے مہنگے ترین کھلونے۔ فون پر بات ہوتی تو وہ بڑے فخر سے بتاتا کہ وہ کتنی بڑی بڑی ڈیلز سائن کر رہا ہے۔ مریم خاموشی سے سنتی اور بس یہی کہتی، “ارشد، گھر آ جائیں، ہم اتنے میں بھی خوش ہیں۔” لیکن ارشد ہنس کر بات ٹال دیتا، “ابھی تو محنت کا وقت ہے، بعد میں سکھ ہی سکھ ہے۔”
دن سالوں میں بدلتے گئے۔ وقت کی سُوئیاں اپنے ساتھ نہ رکنے والی سفر پر گامزن رہیں۔
بارہ سال کا لمبا عرصہ بیت گیا۔
ایک دن جب ارشد نے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے بال سنوارے، تو اس کی کنپٹیوں پر چاندی چمک رہی تھی۔ اسے اچانک احساس ہوا کہ اس نے زندگی کی دو دہائیاں کام کی نذر کر دیں۔ اس نے سوچا کہ اب اس کے پاس اتنا پیسہ آ چکا ہے کہ وہ باقی زندگی کسی فکر کے بغیر گزار سکتا ہے۔ اس نے اپنا کاروبار سمیٹنے کا فیصلہ کیا اور ہمیشہ کے لیے وطن واپس لوٹ آیا۔
گھر کا دروازہ کھلا۔ بڑا سا نیا بنگلہ، جسے اس کے بھیجے ہوئے پیسوں نے بنایا تھا، جگمگا رہا تھا۔ لیکن جیسے ہی وہ اندر داخل ہوا، ایک عجیب سا اجنبی پن اس کا منتظر تھا۔
ایک لمبا، پندرہ سالہ لڑکا ہال میں بیٹھا لیپ ٹاپ پر گیم کھیل رہا تھا۔ ارشد نے مسکرا کر قدم آگے بڑھائے، “ہادی… میرے بیٹے!”
ہادی نے نظریں اٹھا کر دیکھا، ایک لمحے کے لیے مسکرایا اور باادب انداز میں بولا، “سلام بابا، آپ کا سفر کیسا رہا؟” اور پھر واپس اپنے لیپ ٹاپ پر مصروف ہو گیا۔ ارشد کا دل دھک سے رہ گیا۔ وہ ہادی جسے وہ گود میں اٹھا کر کھلانا چاہتا تھا، جس کے ساتھ تتلیوں کے پیچھے بھاگنا چاہتا تھا، وہ اب ایک بالغ لڑکا بن چکا تھا جس کی اپنی ایک دنیا تھی، اور اس دنیا میں باپ کے لیے احترام تو تھا، لیکن وہ بچپن کا لاڈ اور اپنائیت غائب تھی جو وقت پر دی گئی توجہ سے پنپتی ہے۔
ارشد آگے بڑھ کر کمرے میں گیا۔ مریم چائے کا ٹرے لیے داخل ہوئی۔ ارشد نے مریم کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ مریم کے شاداب چہرے پر اب جھریاں ہلکی ہلکی لکیریں بن چکی تھیں، اس کی آنکھوں کے نیچے تھکن کے ہالے تھے۔ وہ جوانی، وہ چمک جو ارشد کی غیر موجودگی میں دھیرے دھیرے ڈھل گئی تھی، اب واپس نہیں آ سکتی تھی۔
ارشد نے مریم کے ہاتھ سے ٹرے لی اور اسے پاس بٹھایا۔
“مریم… میں آ گیا ہوں، اب میں کہیں نہیں جاؤں گا۔ دیکھو، میں اپنے ساتھ کتنی دولت لایا ہوں، اب ہم اپنی مرضی کی زندگی جئیں گے۔”
مریم نے ایک پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ ارشد کے چہرے کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا، “ارشد! یہ پیسہ اب کس کام کا؟ جب ہادی کو باپ کے کندھے کی ضرورت تھی تاکہ وہ چلنا سیکھتا، تب آپ یہاں نہیں تھے۔ جب مجھے آپ کے ساتھ کی، آپ کی گفتگو اور آپ کی محبت کی ضرورت تھی، تو آپ ڈالر گن رہے تھے۔ یہ چمکتا ہوا گھر اور یہ بینک بیلنس مجھے وہ ہادی کا بچپن لوٹا سکتے ہیں اور نہ ہی میری ڈھلتی عمر کو واپس جوانی میں بدل سکتے ہیں۔”
ارشد سناٹے میں آ گیا۔ اس کے قدموں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس نے الماری میں رکھے ڈالر، پاس بکس اور قیمتی گھڑیوں کو دیکھا۔
وہ دنیا کا کامیاب ترین بزنس مین تھا، لیکن زندگی کے امتحان میں ہار چکا تھا۔
اس رات ارشد نے اپنی ڈائری کھولی اور لرزتے ہاتھوں سے ایک جملہ لکھا:
“میرے نزدیک ایسے پیسوں کا کوئی فائدہ نہیں، جن کو کمانے کے لیے نہ تو آپ بچوں کا بچپن دیکھ سکیں اور نہ ہی بیوی کی جوانی











