18

اب بھی وقت ہے،بیٹھ جائیں،بات کر لیں حمید علی

ملک اس وقت جس سیاسی، معاشی اور امن و امان کی صورتِ حال سے گزر رہا ہے، اس میں کسی بھی سیاسی کشیدگی کو مزید طول دینا مسائل کا حل نہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ کو 4 اکتوبر تک مؤخر کیے جانے کے بعد کم از کم اتنا وقت ضرور میسر آیا ہے کہ سیاسی قوتیں تصادم کے بجائے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی سنجیدہ کوشش کریں۔ یہ محض ایک سیاسی سرگرمی کو مؤخر کرنے کا معاملہ نہیں، بلکہ اسے ایک ایسے موقع کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جہاں فریقین اپنی اپنی پوزیشن سے ایک قدم پیچھے ہٹ کر ملک کو درپیش بڑے بحرانوں پر غور کریں۔

پاکستان کی سیاست گزشتہ کئی برس سے مسلسل محاذ آرائی، احتجاج، گرفتاریوں، بیانات اور جوابی بیانات کے گرد گھوم رہی ہے۔ اس کشمکش نے سیاسی جماعتوں کے درمیان اعتماد کو کمزور کیا ہے اور ریاستی اداروں پر بھی دباؤ بڑھایا ہے۔ سیاسی اختلاف جمہوری نظام کا لازمی حصہ ہے، لیکن اختلاف جب مسلسل تصادم میں تبدیل ہو جائے تو اس کے اثرات سیاست تک محدود نہیں رہتے۔ کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں، سرمایہ کاری کا ماحول خراب ہوتا ہے، عام شہری مشکلات کا شکار ہوتے ہیں اور حکومت کی توجہ طویل المدت پالیسیوں کے بجائے فوری سیاسی بحرانوں سے نمٹنے میں صرف ہونے لگتی ہے۔

پاکستان کو اس وقت نعروں سے زیادہ سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات کی ضرورت ہے۔ مذاکرات کا مطلب کسی ایک فریق کی فتح یا دوسرے کی شکست نہیں، بلکہ ایسے قابلِ عمل راستے تلاش کرنا ہے جن سے سیاسی کشیدگی کم ہو اور ریاستی معاملات آئینی و جمہوری دائرے میں آگے بڑھ سکیں۔ اگر سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے بات نہیں کریں گی تو اختلافات سڑکوں پر منتقل ہوں گے، اور سڑکوں کی سیاست بالآخر پورے ملک کو متاثر کرتی ہے۔ اس لیے موجودہ موقع کو مذاکرات کے لیے استعمال کرنا سیاسی قیادت کی اہم ذمہ داری ہے۔

اس سلسلے میں طاقت ور حلقوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ موجودہ صورتِ حال کی نزاکت کو سمجھیں اور ایسے اقدامات یا بیانات سے گریز کریں جو سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ کریں۔ وزیر اطلاعات عطا تارڑ کی حالیہ پریس کانفرنس میں احتجاج کے حوالے سے دیے گئے بیان کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ایک طرف احتجاج نہ کرنے کی بات کی جائے اور دوسری طرف سیاسی مخالفین کے لیے ایسا لہجہ اختیار کیا جائے جسے وہ اشتعال انگیز سمجھیں تو اس سے مذاکرات کی فضا بنانے کے بجائے کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ سیاسی بحران میں الفاظ بھی کردار ادا کرتے ہیں؛ اس لیے حکومت کے ذمہ دار عہدیداروں سے یہ توقع بجا ہے کہ وہ اپنے بیانات میں مفاہمت، تحمل اور سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کو ترجیح دیں، نہ کہ ایسا انداز اختیار کریں جو جلتی پر تیل کا کام کرے۔

سابق وزیراعظم عمران خان صاحب کی صحت سے متعلق عدالت کی جانب سے ہسپتال منتقلی کے واضح احکامات موجود ہیں ان پر بلا تاخیر عمل درآمد ہونا چاہیے۔ عدالتی احکامات کی پاسداری نہ صرف قانونی تقاضا ہے بلکہ ایسے حساس حالات میں عوامی اعتماد کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اسی طرح احتجاج سے قبل یا اس کے تناظر میں گرفتار کیے گئے افراد کے معاملات بھی قانون اور عدالت کے طے شدہ اصولوں کے مطابق دیکھے جانے چاہئیں۔ جن افراد کی حراست کے لیے قانونی جواز باقی نہیں، انہیں رہا کیا جانا چاہیے۔ ایسے اقدامات کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

معیشت کی صورتِ حال بھی سیاسی استحکام کا تقاضا کرتی ہے۔ پاکستان کو مہنگائی، روزگار، توانائی، قرضوں، صنعتی سرگرمی اور سرمایہ کاری جیسے بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔ معیشت کو مستقل پالیسی، سیاسی تسلسل اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔ بار بار پیدا ہونے والے سیاسی بحران کاروباری طبقے اور سرمایہ کاروں کے لیے غیر یقینی صورتِ حال پیدا کرتے ہیں۔ حکومت ہو یا اپوزیشن، دونوں کو اس حقیقت کو سامنے رکھنا ہوگا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن معیشت کی کمزوری کا بوجھ بالآخر عام شہری ہی اٹھاتا ہے۔

دوسری جانب ملک کو دہشت گردی کے چیلنج کا بھی سامنا ہے۔ حالیہ دہشت گرد واقعات، بالخصوص ڈیرہ اسماعیل خان میں پیش آنے والے واقعے نے ایک مرتبہ پھر یہ احساس اجاگر کیا ہے کہ داخلی سلامتی کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی ترجیح بنایا جانا چاہیے۔ دہشت گردی کسی ایک جماعت، صوبے یا طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری ریاست اور معاشرے کے لیے خطرہ ہے۔ ایسے واقعات کے بعد صرف مذمت کافی نہیں، بلکہ ان کے پسِ پردہ عوامل، سہولت کاری کے نیٹ ورک، سرحدی و داخلی سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد پر سنجیدگی سے کام کرنا ضروری ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق سے نہیں جیتی جا سکتی۔ مؤثر انٹیلی جنس، پولیس اور سکیورٹی اداروں کے درمیان بہتر رابطہ، سرحدی نگرانی، انتہا پسندی کے اسباب کا تدارک اور متاثرہ علاقوں کی معاشی و سماجی ترقی بھی اسی جنگ کا حصہ ہیں۔ ریاست کو دہشت گردی کے خلاف واضح اور مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں کو تحفظ کا احساس حاصل ہو اور دہشت گرد عناصر کو یہ پیغام ملے کہ ریاست ان کے سامنے کمزور نہیں۔

ایسے ماحول میں سیاسی قوتوں اور طاقت ور حلقوں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر ملک ایک طرف دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہو اور دوسری طرف سیاسی محاذ آرائی مسلسل جاری رہے تو قومی توانائیاں تقسیم ہوتی ہیں۔ حکومت کو بھی اپوزیشن کے سیاسی وجود اور اس کے مطالبات کو جمہوری نظام کا حصہ سمجھنا ہوگا، جبکہ اپوزیشن کے لیے بھی ضروری ہے کہ احتجاج اور سیاسی جدوجہد کے ساتھ قومی سلامتی اور معاشی حالات کو سامنے رکھا جائے۔ اختلاف کا حق اپنی جگہ، مگر اختلاف کو تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنا دونوں جانب کی ذمہ داری ہے۔

4 اکتوبر ابھی ایک تاریخ ہے، آخری منزل نہیں۔ اس سے پہلے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سنجیدہ مذاکرات کے لیے راستہ نکالا جا سکتا ہے۔ ایسے مذاکرات میں انتخابی معاملات، سیاسی مقدمات، سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں، احتجاج کے طریقۂ کار اور دیگر متنازع معاملات کو آئینی حدود میں زیرِ بحث لایا جا سکتا ہے۔ ہر مسئلے کا فوری حل شاید ممکن نہ ہو، لیکن بات چیت کا آغاز کم از کم اس سیاسی تعطل کو کم کر سکتا ہے جو ملک کے لیے مسلسل نقصان کا باعث بن رہا ہے۔

حکومت اور اپوزیشن دونوں کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ آنے والے دنوں کو مزید کشیدگی کی طرف لے جانے کے بجائے مذاکرات، مفاہمت اور آئینی راستے کی طرف موڑ دیں۔ سیاسی اختلاف جمہوریت کی روح ہے، مگر اختلاف کو اس حد تک نہیں پہنچنا چاہیے جہاں ریاستی ادارے، معیشت، امن و امان اور عام شہری مسلسل دباؤ کا شکار ہوں۔ اسی طرح حکومتی بیانات بھی ایسے ہونے چاہئیں جو سیاسی درجہ حرارت کم کریں، کیونکہ ذمہ دار عہدوں پر بیٹھے افراد کے الفاظ کشیدگی بڑھانے یا کم کرنے، دونوں میں اثر رکھتے ہیں۔

ملک کی معیشت کو استحکام چاہیے، شہریوں کو امن چاہیے اور سیاست کو ایسا ماحول چاہیے جس میں اختلاف دشمنی نہ بنے۔ دہشت گردی کے خلاف ریاست کو متحد ہو کر کارروائی کرنا ہوگی اور سیاسی قوتوں کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اختلاف کے باوجود قومی مفاد پر اتفاق ممکن ہے۔ اس مقصد کے لیے سب سے پہلا قدم ایک دوسرے کو سننا اور ان معاملات پر بات کرنا ہے جنہوں نے سیاسی فاصلے کو مسلسل بڑھایا ہے۔

تاریخیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، احتجاج آتے اور ختم ہوتے رہتے ہیں، حکومتیں بھی بدلتی ہیں، مگر ریاست اور عوام اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔ اس لیے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی قیادت اور تمام بااثر حلقے وقتی مفادات سے بلند ہو کر ایک ایسا راستہ تلاش کریں جس میں اختلاف بھی باقی رہے، جمہوری حق بھی محفوظ ہو، عدالتی احکامات کا احترام بھی یقینی بنایا جائے اور ملک بھی مسلسل بحرانوں کی گرفت سے باہر نکل سکے۔ اگر مذاکرات کے ذریعے کوئی قابلِ قبول راستہ نکالا جا سکتا ہے تو اس موقع کو ضائع نہیں ہونا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں