17

آزاد کشمیر: انتخابات یا اعتماد کا بحران؟ حمید علی

آزاد جموں و کشمیر میں منعقد ہونے والے حالیہ انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب سیاسی ماحول پہلے ہی غیر یقینی، بے اعتمادی اور عوامی بے زاری کا شکار تھا۔ جمہوری نظام کی اصل روح یہ ہے کہ انتخابات آزاد، منصفانہ اور ایسے ماحول میں منعقد ہوں، جہاں ہر سیاسی جماعت کو برابر کے مواقع میسر ہوں اور عوام اپنے ووٹ کے ذریعے آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔ تاہم موجودہ صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ تمام شرائط پوری ہو سکیں؟
عوامی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ انتخابات محض خانہ پُری اور کاغذی کارروائی ہیں۔ کون جیتے گا اور کون حکمرانی کرے گا، اس کا فیصلہ طاقت ور حلقے پہلے ہی کر چکے ہیں، جس سے عوام کے اعتماد پر منفی اثر پڑا ہے۔ محض ایسے تاثرات کا عام ہونا بھی جمہوری عمل کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کا بھی تقاضا کرتی ہے۔
اس مرتبہ ایک اور اہم پہلو یہ رہا کہ کئی سیاسی قوتوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور پاکستان تحریکِ انصاف کے بائیکاٹ کے اعلانات نے انتخابی عمل پر کئی سوالات کھڑے کیے۔ ایسے حالات میں انتخابی سرگرمیوں کا وہ جوش و خروش نظر نہیں آیا، جو کسی بھی جمہوری عمل کی پہچان ہوتا ہے۔ جب بڑی سیاسی قوتیں انتخابی عمل سے الگ رہیں تو لازماً عوام کی دلچسپی بھی متاثر ہوتی ہے۔
دوسری جانب راولاکوٹ میں عوامی احتجاجی دھرنا گزشتہ ایک ماہ سے جاری ہے۔ بڑی تعداد میں شہری سڑکوں پر موجود ہیں، مگر اس کے باوجود انتخابی شیڈول میں کوئی نمایاں تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ ایسے حالات میں متعلقہ اداروں کو تمام فریقین سے مذاکرات کر کے ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیے تھا، جس میں انتخابات پر کسی قسم کا تنازع پیدا نہ ہوتا۔ ان کے نزدیک صرف انتخابات کا انعقاد کافی نہیں، بلکہ ان پر عوام کا اعتماد بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
انتخابات کسی بھی معاشرے میں صرف نمائندوں کے انتخاب کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ یہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مضبوط بنانے کا اہم وسیلہ بھی ہوتے ہیں۔ جب انتخابی عمل کے دوران سیاسی کشیدگی، احتجاج، بائیکاٹ یا بے یقینی کی فضا غالب ہو جائے تو اس کے اثرات صرف ایک دن کی پولنگ تک محدود نہیں رہتے بلکہ مستقبل کی سیاسی فضا بھی اس سے متاثر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی مضبوط جمہوریتوں میں انتخابی عمل سے قبل تمام متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لینے، تحفظات دور کرنے اور پُرامن ماحول قائم کرنے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ صورتِ حال بھی اسی امر کی متقاضی تھی کہ انتخابات سے پہلے سیاسی ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی۔ اگر مختلف سیاسی جماعتیں، سماجی تنظیمیں اور احتجاج کرنے والے حلقے خود کو انتخابی عمل کا حصہ محسوس کرتے تو ممکن ہے کہ عوام کی دلچسپی بھی زیادہ ہوتی اور انتخابات کے بارے میں پائے جانے والے بہت سے خدشات خود بخود کم ہو جاتے۔ جمہوریت میں صرف انتخابات کا انعقاد ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ عوام انہیں اپنی رائے کے حقیقی اظہار کا مؤثر ذریعہ سمجھیں۔
سیاسی اختلافات ہر جمہوری معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں، لیکن جب یہ اختلافات اس حد تک بڑھ جائیں کہ انتخابی عمل ہی متنازع دکھائی دینے لگے تو متعلقہ اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تمام فریقین کے درمیان اعتماد کی فضا پیدا کریں۔ ایسا ماحول، جہاں ہر جماعت خود کو مساوی مواقع کی حامل سمجھے، نہ صرف انتخابات کی ساکھ میں اضافہ کرتا ہے بلکہ عوام کو بھی اس عمل میں بھرپور شرکت کی ترغیب دیتا ہے۔
جمہوری عمل کی کامیابی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب ہر سیاسی جماعت کو یکساں مواقع حاصل ہوں، انتخابی مہم آزادانہ انداز میں چلائی جا سکے اور کسی بھی جماعت یا گروہ کو یہ احساس نہ ہو کہ اس کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔ یہی وہ اصول ہیں جو کسی بھی انتخاب کو حقیقی معنوں میں عوامی نمائندگی کا آئینہ بناتے ہیں۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ آزاد کشمیر کی سیاست ہمیشہ پاکستان کی قومی سیاست سے متاثر رہی ہے۔ اسی وجہ سے ہر انتخاب کے بعد نتائج پر مختلف آرا سامنے آتی ہیں۔ اس صورتِ حال سے نکلنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ انتخابی اداروں کی ساکھ مزید مضبوط کی جائے، شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور تمام سیاسی جماعتوں کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنا جائے۔
عوام کا اعتماد کسی بھی جمہوری نظام کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتا ہے۔ اگر شہریوں کو یہ احساس ہو کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے، ان کے تحفظات کو اہمیت دی جا رہی ہے اور ان کا ووٹ حقیقی معنوں میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے تو وہ جمہوری عمل میں بھرپور انداز سے شریک ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر اعتماد میں کمی پیدا ہو جائے تو سیاسی بے زاری میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے اثرات مستقبل کے انتخابی عمل پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
اگر عوام یہ محسوس کرنے لگیں کہ ان کے ووٹ کی اہمیت کم ہو گئی ہے یا نتائج پہلے سے طے شدہ ہیں، تو جمہوری نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انتخابات صرف آئینی تقاضا پورا کرنے کے لیے نہیں بلکہ عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے بھی منعقد کیے جائیں۔
آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات سے ایک بار پھر یہ سبق ملتا ہے کہ جمہوریت کی اصل طاقت عوام کا اعتماد ہے۔ جب تک تمام سیاسی قوتوں کو مساوی مواقع، شفاف انتخابی عمل اور پُرامن سیاسی ماحول فراہم نہیں کیا جاتا، اس وقت تک انتخابی نتائج خواہ کچھ بھی ہوں، سوالات اپنی جگہ برقرار رہیں گے۔ مضبوط جمہوریت کا تقاضا یہی ہے کہ ہر ووٹ کو برابر کی اہمیت دی جائے اور ہر شہری کو یقین ہو کہ اس کی رائے ہی مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں