38

آزاد کشمیر، | انٹرنیٹ سروس بندش کو 73 دن مکمل، شہری مشکلات کا شکار

مظفرآباد،میرپور( نمائندگان) آزاد جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ سروس کی طویل اور بار بار معطلی کے باعث شہریوں، تاجروں، طلبہ، کاروباری طبقے اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انٹرنیٹ کی بندش نے روزمرہ رابطوں، آن لائن کاروبار، تعلیمی سرگرمیوں، بینکنگ، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل خدمات کو بھی متاثر کیا ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق بعض علاقوں میں انٹرنیٹ کی بندش یا عدم دستیابی کو 73 روز مکمل ہو چکے ہیں، جس پر شہریوں میں تشویش اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ طویل بندش کے خلاف میرپور اور مظفرآباد ڈویژن کی سینٹرل بار ایسوسی ایشنز نے ہڑتال اور احتجاج کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔ وکلا برادری کا مؤقف ہے کہ مواصلاتی سہولت کی مسلسل معطلی شہریوں کے بنیادی معاملات، عدالتی امور اور کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کر رہی ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کا بنیادی سبب امن و امان اور سکیورٹی کی صورتحال ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کے مختلف ذرائع غیر معینہ مدت تک بند رکھے گئے ہیں اور سروس کی مکمل بحالی کا فیصلہ حالات معمول پر آنے کے بعد کیا جائے گا۔حکومتی حلقوں کے مطابق اگر نئی حکومت کے قیام کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوتا ہے اور معاملات میں بہتری آتی ہے تو انٹرنیٹ سمیت دیگر مواصلاتی سہولیات کی مکمل بحالی کی راہ ہموار ہو سکتی ہےآزاد کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی بڑی سطح پر معطلی کا آغاز جون 2026 میں احتجاجی صورتحال کے دوران ہوا تھا۔ رپورٹس کے مطابق 5 جون کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی سرگرمیوں اور امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں ریاست بھر میں انٹرنیٹ سروسز معطل کی گئی تھیں۔بعد ازاں سروسز مختلف علاقوں میں مرحلہ وار بحال ہونا شروع ہوئیں۔ میرپور ڈویژن میں 23 جولائی کو طویل بندش کے بعد انٹرنیٹ بحالی کا عمل شروع ہوا، جبکہ مظفرآباد میں بھی جولائی کے آخر میں تقریباً 52 سے 53 روز بعد سروس بحال ہونے کی رپورٹس سامنے آئیں۔اس کے بعد 28 جولائی کو آزاد کشمیر کے محکمہ داخلہ کی جانب سے موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر موبائل ڈیٹا اور براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروسز کو 5 اگست تک عارضی طور پر معطل رکھنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا تھاانٹرنیٹ کی طویل بندش سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبوں میں آن لائن کاروبار، فری لانسنگ، ای کامرس، بینکنگ، تعلیمی سرگرمیاں اور سرکاری و نجی اداروں کی ڈیجیٹل خدمات شامل ہیں۔کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ آن لائن ادائیگیوں، آرڈرز، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور بیرونِ شہر و بیرونِ ملک صارفین سے رابطوں میں مشکلات کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ اسی طرح طلبہ اور آن لائن تعلیم سے وابستہ افراد کو بھی تعلیمی مواد، کلاسز اور امتحانات سے متعلق معلومات تک رسائی میں دشواری کا سامنا ہےمیرپور اور مظفرآباد ڈویژن کی سینٹرل بار ایسوسی ایشنز کی جانب سے احتجاج اور ہڑتال کا اعلان اس معاملے کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر رہا ہے۔ وکلا کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ انٹرنیٹ سروس کو بلاجواز طویل مدت تک معطل رکھنے کے بجائے عوام کو بنیادی مواصلاتی سہولت فراہم کی جائے اور اگر سکیورٹی خدشات موجود ہوں تو مکمل بندش کے بجائے ضرورت کے مطابق محدود اور مخصوص اقدامات کیے جائیں۔انٹرنیٹ کی بحالی کا معاملہ آزاد کشمیر کے حالیہ سیاسی اور انتخابی حالات سے بھی جڑا رہا ہے۔ جولائی اور اگست میں آزاد کشمیر اسمبلی کے انتخابات مرحلہ وار منعقد ہوئے، جس دوران مختلف ڈویژنز میں انٹرنیٹ بحالی کے فیصلے بھی سامنے آئے۔ میرپور ڈویژن میں 27 جولائی کے انتخابی مرحلے سے قبل انٹرنیٹ بحال کیا گیا، جبکہ مظفرآباد ڈویژن میں 2 اگست کے انتخابی مرحلے سے قبل سروس بحال ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے ان علاقوں میں انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر کب بحال ہوگی جہاں شہری اب بھی بندش یا غیر مستحکم سروس کی شکایت کر رہے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق بحالی کا انحصار امن و امان کی صورتحال اور آئندہ سیاسی پیش رفت پر ہے، جبکہ شہری اور وکلا فوری اور واضح ٹائم لائن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔یوں طویل انٹرنیٹ بندش اب محض مواصلاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ شہری زندگی، کاروبار، تعلیم، عدالتی امور اور بنیادی ڈیجیٹل سہولیات سے جڑا ایک اہم عوامی مسئلہ بن چکی ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کے لیے چیلنج یہ ہے کہ سکیورٹی تقاضوں اور شہریوں کے مواصلاتی و معاشی حقوق کے درمیان ایسا توازن قائم کیا جائے جس سے عوام کو مزید غیر یقینی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں