49

ہیلو ریاست اورعوام پاکستان!حرفِ مقدم منیر احمد زاہد

آزاد کشمیر کی گھمبیر صورت حال کے حل کے لیے اگر کچھ پیش رفت ہورہی ہے تو اس سے بہتر کوئی بات ہو ہی نہیں مگر یاد رکھیں مہاجرین کی نشستوں کی کمی کی صورت میں نئی بندر بانٹ میں اگر مہاجرین جموں کو نظر انداز کیا گیا تو اس کے انتہائی دور رس غلط نتائج سامنے آئیں گے
یہ لوگ تعداد میں لاکھوں ہیں بارہ نشستیں چھیننے یا کم کرنے سے ان کا جموں وکشمیر سے عملی تعلق صفر ہو کر رہ سکتا ہے جبکہ اس مسئلے کا بہترین ان نشستوں پر انتخابات میں بے ضابطگی اور ان نشستوں کو سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کیے جانے سے روکنا ہے ۔ ایکشن کمیٹی بھی اس سلسلے میں عوام کو درست حقائق پیش کرنے بجائے ایک شاطر ٹولے کے ہاتھ کا کھلونا بنی ہوئی ہے
سننے میں آرہا ہے کہ حریت کانفرنس متحدہ جہاد کونسل اور 1989 /90 کو ایک نئی نشست دینے کی باتیں اندرون خانہ چل رہی ہیں اگر ایسا ہے تو مہاجرین 1989/90 کو دو نشستیں دی جائیں ایک مظفرآباد میں مقیم وادی کشمیر کے مہاجرین کو اور دوسری جموں کے مہاجرین مقیم باغ ہجیرہ کوٹلی میرپور کو اگر ایسا نہ ہوا تو یہ تاثر ابھرے گا کہ کوٹے اور مراعات کی طرح ساری ملائی وادی کشمیر کو ہمیشہ کیوں ملتی رہی؟ کیا اس کی وجہ ان کا قومی اداروں تک اثر و رسوخ اور رسائی ہے ان کے نام پر پہلے ہی وادی ہی کا ایک طبقہ جموں کے حصے کی مراعات بھی سمیٹ رہا ہے ۔
موجودہ وقت، حالات کے مطابق دوبارہ پالیسی کی تیاری کا یے تو اس وقت وہ غلطیاں ہر گز نہ دہرائی جائیں جو ماضی میں مسائل کا سبب بنی ہیں ۔ کیونکہ غلطیاں کبھی بانجھ نہیں ہوتیں ۔ یہ انڈے اور بچے ضرور دیتیں ہیں ۔
نمبر ایک غلطی آزاد کشمیر کی سابقہ سواد اعظم مسلم کانفرنس پر ریاست پاکستان کا بے دریغ اعتماد ہے جس نے آزاد کشمیر میں عوامی بہبود کی جگہ صرف ٹھیکیدار کھڑپینچ اور چند سیاسی ٹاوٹس پال کر عام عوام تک ترقی کے اثرات نہیں پہنچنے دیے ۔ نوکریاں سیاسی رشوت کے طور بانٹیں اور اس خطے کے مستقبل کے لیے کچھ بھی نہیں سوچا ۔
نمبر دو آزاد کشمیر میں پاکستانی سیاسی جماعتوں کے ذریعے حکومتوں پر کنٹرول جن کو آزاد کشمیر کے زمینی حقائق سے کوئی غرض نہیں ہوتی بلکہ یہ اپنے سیاسی مفادات کے لیے پانچ سال میں پانچ پارٹیاں تبدیل کر کے لوٹے بننے والوں کو ہمیشہ خوش آمدید کہتے ہیں ۔ عوام آٹا بجلی کے بعد اس طرزِ عمل کو اچھی نظر سے نہیں دیکھ رہے ۔
نمبر تین پاکستان کے کچھ میڈیا عناصر جو اپنے مفادات کو ترجیح اول رکھتے ہیں ان کی طرف سے پاکستان اور آزاد کشمیر کی صورت حال کو اس قدر غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ اس کے نتیجے میں دونوں خطوں کے عوام کے درمیان نفرت ابھرتی ہے ۔ پاکستانی حکمرانوں میں کبھی یہ صلاحیت ہی نہیں رہی کہ وہ اپنے مفادات کے محافظ صحافیوں دانشوروں سے ہٹ کر کسی اور سے بھی مشاورت کریں جو خوشامد کے بجائے آنے والے حالات کی تلخ عکاسی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔
ہم نے اپنے درد دل کے مطابق مختلف مواقع پر ریاست کے نمایندوں کو بار بار دوخطوں کے عوامی تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے ایسے مشورے دیے جو کارگر ہو سکتے تھے مگر بھی مفادات کے اسیروں کی بات کو ہی صایب الرائے سمجھا گیا ۔ آخری بات یہ کہ اب کی بار مذاکرات ہوں تو ان میں وقتی ابال کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ ان اقدامات کی کوشش کی جائے جو آزاد کشمیر میں امن و امان اقر اطمینان کے ساتھ ساتھ اس خطے کی ترقی اور خوش حالی کی بنیاد بن سکیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں