پاکستان میں جب بھی بجٹ آتا ہے، تو عام آدمی کے لیے خوشی کے بجائے ایک نئی پریشانی شروع ہو جاتی ہے۔ ہر سال حکومت کی طرف سے ہندسوں کا ایک ایسا کھیل کھیلا جاتا ہے جسے سمجھنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔ وزیر صاحب مسکراتے ہوئے اسمبلی میں ایک بڑی سی فائل لہراتے ہیں، سب تالیاں بجاتے ہیں اور سرکاری خبروں میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ ملکی تاریخ کا سب سے بہترین بجٹ ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان چمکدار فائلوں اور جادوئی اعداد و شمار کے نیچے ہمیشہ ملک کا غریب، مزدور اور سفید پوش انسان ہی پستا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ معیشت کی ترقی کا اندازہ کبھی بھی اسٹاک ایکسچینج کے گراف یا آئی ایم ایف (IMF) کی تعریفوں سے نہیں ہوتا، بلکہ ایک عام پاکستانی کے چولہے سے ہوتا ہے۔ کاش! ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر پالیسیاں بنانے والے کبھی اس سخت گرمی میں فٹ پاتھ پر کھڑے اس مزدور، ریڑھی والے اور تنخواہ دار ملازم کا حال بھی دیکھیں جو صبح سے شام تک اپنا خون پسینہ بہاتا ہے۔ وہ جب شام کو دکان دار کے سامنے آٹے، دال، گھی اور چینی کے ریٹ سنتا ہے، تو اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل جاتی ہے۔ روزمرہ کی چیزوں کی یہ قیمتیں اور بجلی کے بھاری بل اب عام آدمی کے لیے صرف بجٹ کا مسئلہ نہیں رہے، بلکہ یہ جینے اور مرنے کی جنگ بن چکے ہیں۔
سب سے بڑی ناانصافی یہ ہے کہ جب بھی ملک پر کوئی معاشی مشکل آتی ہے، تو “قربانی” کا سارا بوجھ اسی غریب عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔ غریب سے تو ملک بچانے کے نام پر پیٹ پر پتھر باندھنے کا کہا جاتا ہے، لیکن دوسری طرف بڑے افسران اور حکمران طبقے کی عیاشیوں، مفت بجلی، مفت پٹرول اور پروٹوکول کے شاہانہ اخراجات میں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ آخر یہ کیسا انصاف ہے کہ قربانی کا یہ بکرا ہمیشہ غریب اور سفید پوش کو ہی بنایا جائے؟
اس ناانصافی کی اصل وجہ یہ ہے کہ جب تک فیصلے بند کمروں میں چند مخصوص امیر اور سرمایہ دار لوگ کرتے رہیں گے، تب تک بجٹ کبھی غریب دوست نہیں ہو سکتا۔ سیدھی سی بات ہے کہ حقیقی معنوں میں “عوامی بجٹ” تبھی آئے گا جب اس ملک میں “عوام کا راج” ہوگا! جب تک بجٹ بنانے والے بیرونی اشاروں پر چلنے کے بجائے مزدور کی جھونپڑی اور غریب کے چولہے کو دیکھ کر فیصلے نہیں کرتے، تب تک ہر سال کا بجٹ غریب کے لیے مہنگائی کا نیا طوفان ہی لے کر آئے گا۔
بجٹ کے نام پر غریب پر مسلط کی جانے والی اسی مہنگائی کے خلاف، اب اقرار الحسن کی شکل میں عام آدمی کو ایک مخلص اور سچا سہارا ملا ہے۔ وہ اس ظالمانہ معاشی نظام اور غریب مکاؤ پالیسیوں کے خلاف امید کی ایک ایسی روشن کرن بن کر ابھرے ہیں جو اندھیرے کو مٹانے کا پکا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کی آواز بجٹ کے نام پر عوام کا خون چوسنے والوں کے خلاف ایک بلند پرچم ہے، جس نے ہمیشہ ناانصافی کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
بجٹ کی فائلوں سے نکلنے والی اس مہنگائی کے سمندر میں، جہاں غریب کی کشتی ڈوبنے کے قریب ہے، وہاں اقرار بھائی کی جماعت “عوام راج” کوئی روایتی سیاسی پارٹی نہیں، بلکہ اس معاشی دل دل میں پھنسے ہوئے سفید پوش طبقے کے لیے نجات کی وہ کشتی ہے جو چوبیس کروڑ مظلوموں کو ان ظالمانہ بجٹوں کے عذاب سے نکال کر سکھ کا سانس دلانے کے لیے تیار ہے۔ اس تحریک کے پرجوش کارکنان مٹی کے وہ روشن چراغ ہیں جو بجٹ کے اندھیرے فیصلوں کے خلاف اپنے قائد کے نظریے کی روشنی پھیلا رہے ہیں۔
اب وقت آ چکا ہے کہ ہر غریب، کسان، مزدور اور مڈل کلاس شہری بیدار ہو اور “عوام راج” کی اس آواز کا ساتھ دے۔ ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جب تک “عوام راج” کا یہ طاقتور کارواں آگے نہیں بڑھتا، اسمبلیوں سے کبھی عوامی بجٹ نہیں نکل سکتا۔ جس دن اس ملک پر عوام کا اپنا راج قائم ہو گیا، بجٹ کے نام پر غریب کا خون چوسنے والا یہ پورا پرانا نظام ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا اور ہر پاکستانی کو اس کا حق اور حقیقی خوشحالی مل کر رہے گی!
4










