4

طوقِ غلامی جاہ و منصب کی ارزانی اور تاریخ کا ناقابل معافی: احمدخان اچکزئی

محترم قارئین ۔ جرم و غداری کے سفاک تاریخی آئینے میں جب ہم برٹش بلوچستان اور ہندوستان کے دیگر خطوں پر فرنگی راج کی ریشہ دوانیوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو لرزہ خیز نام، دستاویزات اور اشخاص محض چند روپوں کا حساب معلوم نہیں ہوتے بلکہ یہ اس گہرے، بدبودار اور گھناؤنے سودے کی دستاویزی شہادتیں ہیں جس کے تحت ایک پورے خطے کی غیرت، خودداری اور آزادی کو چند سکوں اور کھوکھلے خطابات کے عوض برطانوی آقاؤں کے پاؤں میں بے دردی سے رول دیا گیا۔ انگریز سامراج نے اس پاکیزہ دھرتی پر مستقل تسلط قائم کرنے کے لیے عسکری طاقت سے زیادہ شاطرانہ نفسیات کا سہارا لیا اور مقامی معاشرے کے بااثر وڈیروں، خوانین اور قبائلی سربراہوں کی انا، کمزوری اور حرص کو بھانپتے ہوئے انہیں نواب، سردار، خان، ملک، بہادر اور رائے بہادر جیسے مصنوعی، کٹھ پتلی اور پرشکوہ القابات کی چمک دکھائی۔ یہ القابات دراصل عزت و تکریم کی علامت نہیں بلکہ ذہنی معذوری، تذلیل اور وفاداری کا وہ طوق تھے جو ان مقامی رہنماؤں کے گلوں میں ڈال کر انہیں اپنے ہی بھائی بندوں کا خون چوسنے اور بیرونی غاصبوں کے تلوے چاٹنے پر مامور کیا گیا تھا اور ان نام نہاد معتبرین نے بھی چند سو روپوں کے حقیر ماہوار وظیفے، الاؤنس اور مراعات کے بدلے اپنی زمین، اپنے ضمیر اور اپنے لوگوں کے بنیادی حقوق کا ایسا شرمناک اور تاریخی سودا کیا جس کی نظیر انسانی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں بھی کم ہی ملتی ہے۔جیسا کہ تاریخی اور دستاویزی متن سے یہ حقیقت بالکل عیاں ہوتا ہے کہ اس کے علاوہ ذاتی خدمات سرانجام دینے والوں کے لیے بھی وظائف مخصوص کیے جاتے تھے، یہ رقم بھی بیشتر برٹش بلوچستان کے سرداروں، ملک معتبروں اور انگریزی حکومت کی خدمت سرانجام دینے والے دیگر اہم افراد کے لیے ہوتی تھی اور اس کے تحت ایسے افراد کو ڈیڑھ سو روپے سے لے کر دو دو سو روپے تک ماہوار دیا جاتا تھا، یہ الاؤنس کسی نہ کسی حوالے سے آج تک جاری ہے۔ ان خفت آمیز اور ضمیر فروشی کے ناموں اور ان کے مشاہروں پر نظر ڈالیں تو روح کانپ اٹھتی ہے کہ جن نوابوں اور سرداروں کے جھوٹے رعب و دبدبے کی کہانیاں آج بھی نسلوں کو سنائی جاتی ہیں، فرنگی آقاؤں کی نظر میں ان کی کل اوقات، ضمیر کی قیمت اور انگریز وفاداری کا سستا معیار تاریخی صفحات کے مطابق بلوچ اور پشتون سرداروں، ملک اور معتبرین کو ادا کیے جانے والے الاؤنسز کی صورت میں یوں تھا؛ نواب مری 818 روپے، نواب بگٹی 800 روپے، نواب جوگیزئی 400 روپے، سردار گزینی 350 روپے، ارباب کاسی350 روپے، سردار ڈگر مینگل300 روپے، سردار پائزئی 240 روپے، سردار ناصر218 روپے، سردار کھیتران200 روپے، سردار باروزئی168 روپے، سردار لونی125 روپے، سردار زرکون 75 روپے اور سردار موسیٰ خیل محض 60 روپے یعنی کل ملا کر ساٹھ روپے سے لے کر آٹھ سو اٹھارہ روپے ماہوار تک کی حقیر قیمت پر یہ بکاؤ مال دستیاب تھا؛ جس دھرتی کے غیور، پسماندہ اور مجبور عوام نانِ شبینہ کو ترستے رہے، جہاں غربت، پسماندگی اور جہالت کا اندھیرا سامراجی مقاصد کے لیے دانستہ طور پر برقرار رکھا گیا، وہاں کے یہ تنخواہ دار رہبر اپنے گورے آقا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے مخبری، چاپلوسی اور اپنے ہی عوام کی تحریکِ آزادی کو کچلنے کا فریضہ نہایت تندہی اور وفاداری سے سرانجام دیتے رہے اور برطانوی ہند کا وہ پورا نظامِ عدل و سیاست انہی کٹھ پتلیوں کے گرد گھومتا رہا جو استعمار کے اشاروں پر ناچنے اور اپنی ہی نسلوں کی گردنیں کاٹنے کو اپنی معراج سمجھتی تھیں۔حیرت، افسوس اور شدید زوال کا مقام تو یہ ہے کہ تذلیل اور غلامی کا یہ بھیانک و شرمناک تسلسل صرف برطانوی راج کے خاتمے تک ہی محدود نہ رہا بلکہ آزادی کے بلند بانگ دعووں اور طویل دہائیاں گزرنے کے بعد بھی، جیسا کہ دستاویزی متن میں واضح ہے کہ 1976ء کے سرداری آرڈیننس کے نفاذ کے وقت درج بالا مشاہرے اور اعزازیے ادا کیے جا رہے تھے اور آرڈیننس کے تحت بھی ان کی ادائیگی جاری رہی، یہ مضحکہ خیز مشاہرے، اعزازیے اور الاؤنسز کسی نہ کسی صورت میں آزادی کے بعد بھی پاکستان کے سرکاری خزانے سے ان نوابوں اور سرداروں کو باقاعدگی سے ادا کیے جاتے رہے جو کہ اس تلخ ترین حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ چہرے، مہرے اور جھنڈے تو بدل گئے مگر نوآبادیاتی دور کی وہ ذہنیت، غلامی کی روایت اور استحصالی ڈھانچہ جوں کا توں برقرار رہا۔ انگریز نے الاؤنسز اور وظائف کا یہ جو جال بچھایا تھا، اس کا مقصد صرف چند افراد کی جیبیں بھرنا یا انہیں نوازنا نہیں تھا بلکہ ایک ایسا وفادار، کاسہ لیس اور مراعات یافتہ طبقہ پیدا کرنا تھا جو نسل در نسل عوام کو بیدار نہ ہونے دے، جو تعلیم، شعور، بغاوت اور ترقی کی ہر راہ میں ایک مضبوط دیوار بن کر کھڑا رہے تاکہ ان کی اپنی خاندانی سرداریت اور فرنگی آقاؤں کی بالادستی پر کبھی کوئی آنچ نہ آنے پائے۔ یہ خان، ملک، سردار اور نواب دراصل اس پاکیزہ دھرتی کے وجود پر وہ گہرا ناسور ثابت ہوئے جنہوں نے چند ٹکے کی برطانوی تنخواہ کے عوض اپنے پورے قبیلے اور خطے کو پسماندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیا اور سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس تاریخی جرم، غداری اور عوامی استحصال کے اس عجیب و غریب اور شرمناک سلسلے کو نسل در نسل ایک خاموش سماجی قبولیت دی گئی، جس کا خمیازہ آج بھی وہاں کی معصوم نسلیں بھوک، بدامنی، جہالت اورمحرومی کی شکل میں بھگت رہی ہیں اور تاریخ کا یہ ٹھوس، تلخ اور ناقابلِ تردید سچ چیخ چیخ کر گواہی دے رہا ہے کہ جب تک ان نام نہاد القابات کے پیچھے چھپے تنخواہ دار نوآبادیاتی مہروں، غداروں اور ان کے کردار کو بے نقاب نہیں کیا جاتا، حقیقی آزادی، شعور اور عوامی خوشحالی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں