6

گلگت بلتستان الیکشن اور پاکستان کی سیاست: ڈاکٹر عشرت العباد خان ناگزیر کیوں؟ تحریر: رضوان احمد فکری

گلگت بلتستان کے انتخابات ایک مرتبہ پھر پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیے اہم امتحان بن کر سامنے آئے ہیں۔ یہ خطہ اپنی جغرافیائی اہمیت، قدرتی وسائل، سیاحت اور قومی سلامتی کے حوالے سے غیر معمولی حیثیت رکھتا ہے۔ عوام کی توقعات ہیں کہ برسراقتدار آنے والی سیاسی قوتیں صرف انتخابی وعدوں تک محدود نہ رہیں بلکہ گلگت بلتستان کی حقیقی ترقی، روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کریں۔

اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) پر یہ بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر گلگت بلتستان کی تقدیر بدلنے کے لیے جامع اور دیرپا منصوبہ بندی کریں۔ خطے کے نوجوان بہتر مستقبل، روزگار کے مواقع اور ترقیاتی منصوبوں کے منتظر ہیں۔ عوام چاہتے ہیں کہ اقتدار کے حصول کے بعد بھی ان کے مسائل کو ترجیح دی جائے اور گلگت بلتستان کو قومی ترقی کے دھارے میں مزید مؤثر انداز میں شامل کیا جائے۔

دوسری جانب ملک گیر فلاحی و سماجی پلیٹ فارم “میری پہچان پاکستان” (MPP) اور اس کے روحِ رواں Dr. Ishrat-ul-Ibad Khan کی سرگرمیاں بھی سیاسی حلقوں میں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ اگرچہ MPP نے گلگت بلتستان کے موجودہ انتخابات میں براہِ راست حصہ نہیں لیا، تاہم تنظیم کا نیٹ ورک اور رضاکارانہ ڈھانچہ ملک کے مختلف حصوں میں موجود ہے اور بتدریج وسعت اختیار کر رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق MPP کا نعرہ “پہلے ریاست، بعد میں سیاست” نوجوانوں اور مختلف طبقات میں پذیرائی حاصل کر رہا ہے۔ تنظیم گزشتہ کئی برسوں سے قومی یکجہتی، فلاحی سرگرمیوں اور عوامی رابطوں کے ذریعے اپنی شناخت مضبوط بنانے میں مصروف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ انتخابی میدان میں اس کی موجودگی محدود رہی، لیکن اس کا تنظیمی نیٹ ورک اور عوامی رابطے مسلسل فروغ پا رہے ہیں۔

پاکستان کی سیاست میں روایتی جماعتوں کے ساتھ ساتھ نئے سیاسی اور سماجی رجحانات بھی ابھر رہے ہیں۔ عوام کارکردگی، شفافیت اور قومی مفاد کو زیادہ اہمیت دینے لگے ہیں۔ ایسے حالات میں وہ سیاسی قوتیں زیادہ کامیاب ہو سکتی ہیں جو عوامی مسائل کے حل اور قومی ترقی کے واضح پروگرام پیش کریں۔

گلگت بلتستان کے انتخابات کا سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ عوام ترقی، استحکام اور بہتر حکمرانی چاہتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) اگر اس خطے کی محرومیوں کے خاتمے اور ترقیاتی منصوبوں پر سنجیدگی سے توجہ دیں تو گلگت بلتستان کی قسمت بدلی جا سکتی ہے۔ اسی طرح ملک میں ابھرنے والی سماجی و فلاحی تحریکیں، جن میں MPP بھی شامل ہے، سیاسی شعور اور عوامی خدمت کے نئے رجحانات کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔

وقت کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی قوتیں ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو مقدم رکھیں، کیونکہ مضبوط اور خوشحال گلگت بلتستان ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں