پشاور کے علاقے دیر کالونی، آفریدی آباد میں نجی اسکول کی تین منزلہ خستہ حال عمارت گرنے سے 33 بچے اور ایک معلمہ شہید جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔ شہید ہونے والے بچوں کی عمریں 6 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔
اطلاعات کے مطابق حالیہ طوفانی بارشوں سے عمارت کی چھت کمزور ہوگئی تھی، جو جمعرات کی صبح اچانک منہدم ہوگئی۔ حادثے کے وقت 50 سے زائد بچے ملبے تلے دب گئے، جنہیں نکالنے کے لیے فوج، پولیس اور ریسکیو اہلکاروں نے امدادی کارروائیاں کیں۔
پولیس نے اسکول مالک کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ صوبائی انتظامیہ نے خیبرپختونخوا کے تمام اسکولوں کی عمارتوں کا ازسرنو معائنہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی مکمل رپورٹ طلب اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے لواحقین کے لیے 10، 10 لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے 2، 2 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔
سانحے میں ایک ہی خاندان کے پانچ بچے بھی شہید ہوئے، جن میں تین بھائی اور ان کے دو کزن شامل ہیں۔ واقعے پر صدر مملکت، وزیراعظم، مختلف صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔











