کہتے ہیں، پوتے کا پہلا دوست اس کا دادا ہوتا ہے اور دادے کا آخری دوست اس کا پوتا۔ کبھی یہ صرف ایک مقولہ نہیں بلکہ ہمارے گھروں کی زندہ حقیقت ہوا کرتا تھا۔ دادا اور پوتے کا رشتہ محبت، شفقت، تربیت اور بے تکلفی کا ایسا خوب صورت امتزاج تھا جسے دیکھ کر گھر کی رونق کا اندازہ ہوتا تھا۔
کبھی ہمارے گلی محلوں میں ایک منظر عام دکھائی دیتا تھا۔ ایک بزرگ ہاتھ میں چھڑی تھامے مسجد کی طرف جا رہے ہیں اور دوسرے ہاتھ کی انگلی ایک ننھا سا بچہ مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہے۔ کبھی یہی دادا پوتا بازار سے سبزی کا تھیلا اٹھائے واپس آ رہے ہیں۔ راستے میں دادا پوتے کو زندگی کے سبق بھی دے رہا ہے اور پوتا دادا کی ہر بات بڑے انہماک سے سن بھی رہا ہے۔
گھر پہنچ کر پوتا پھر دادا ابو کے پاس بیٹھ جاتا۔ دادا اسے کہانیاں سناتا، اپنے بچپن کے واقعات بتاتا، زمانے کی اونچ نیچ سمجھاتا، سچ بولنے، بڑوں کی عزت کرنے، چھوٹوں سے شفقت کرنے اور ضرورت مند کی مدد کرنے کی تلقین کرتا۔ اگر دادا پڑھا لکھا ہوتا تو پوتے کا ہوم ورک بھی اسی کی ذمہ داری ہوتی۔ سبق یاد کروانا، کاپی چیک کرنا اور کبھی ڈانٹ دینا بھی اسی تربیتی محبت کا حصہ تھا۔
پوتا دادا کو صرف دادا نہیں کہتا تھا، “بڑے ابا” کہتا تھا۔ یہ ایک لفظ گھر میں دادا کے مقام و مرتبے کی پوری داستان بیان کر دیتا تھا۔
وہ بھی کیا زمانہ تھا!
گھر میں بزرگ کی موجودگی برکت سمجھی جاتی تھی۔ وہ گھر کا سربراہ ہوتا تھا۔ فیصلوں میں اس کی رائے لی جاتی، مشورے کو اہمیت دی جاتی اور اس کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جاتا۔ گھر کے اندر اختلاف بھی ہوتے تھے، ناراضگیاں بھی، مگر رشتوں میں دراڑ نہیں پڑتی تھی۔ ایک ہی چھت کے نیچے کئی نسلیں رہتی تھیں اور ایک نسل دوسری نسل کی تربیت کرتی تھی۔
پھر وقت بدل گیا۔
وقت کی رفتار بڑھی، بندے کی مصروفیات بڑھیں، شہروں کی زندگی بدلی، گھروں کا نقشہ بدلا اور مشترکہ خاندانی نظام آہستہ آہستہ کمزور پڑنے لگا۔ الگ گھر کی خواہش اپنی جگہ کوئی غلط بات نہیں۔ نئی نسل کو اپنی نجی زندگی اور آزادی کا حق بھی حاصل ہے، مگر المیہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب گھر الگ ہونے کے ساتھ دل بھی الگ ہو جائیں۔
آج ایک ہی گھر میں رہنے والے کئی افراد ایک دوسرے سے دور ہیں۔ سب کے ہاتھ میں موبائل ہے، مگر کسی کے پاس کسی کے لیے وقت نہیں۔ دادا بات کرنا چاہتا ہے، پوتا موبائل کی اسکرین پر مصروف ہے۔ دادی آواز دیتی ہے، بچہ ہیڈ فون لگائے بیٹھا ہے۔ والدین کام کی مصروفیات میں الجھے ہیں اور بزرگ خاموشی سے اپنے کمرے یا چارپائی تک محدود ہو گئے ہیں۔
دادا کے پاس قصے ہیں، پوتے کے پاس موبائل ہے۔ دادا کے پاس تجربہ ہے، پوتے کے پاس انٹرنیٹ ہے۔ دادا کے پاس وقت ہے، پوتے کے پاس اس کے لیے وقت نہیں۔
یہی ہمارے عہد کا سب سے بڑا المیہ ہے۔مسئلہ صرف موبائل فون نہیں۔ موبائل تو ایک ذریعہ ہے۔ اصل مسئلہ ہماری ترجیحات کی تبدیلی ہے۔ ہم نے بچوں کو دنیا بھر کی معلومات دے دیں مگر انہیں گھر کے بزرگوں کے تجربات سے جوڑنا بھول گئے۔ انہیں ہزاروں ورچوئل دوست دے دیے مگر وہ حقیقی دوست بھلا دیے جو ان کے سامنے موجود تھے۔
ہم نے بچوں کو یہ تو سکھایا کہ کامیاب کیسے ہونا ہے، مگر یہ سکھانا بھول گئے کہ اچھا انسان کیسے بننا ہے۔
ہم نے انہیں انگریزی کے الفاظ یاد کرا دیے، مگر سلام کرنا بھلا دیا۔ ہم نے انہیں جدید ٹیکنالوجی سکھا دی، مگر بزرگ کے سامنے ادب سے بیٹھنا نہ سکھایا۔ ہم نے انہیں دنیا کے مختلف ملکوں کے بارے میں بتا دیا، مگر یہ نہ بتایا کہ ان کے گھر میں بیٹھا بوڑھا شخص خود ایک پوری دنیا ہے۔
لیکن ہر بات کو صرف مشترکہ یا الگ خاندان کے خانے میں رکھنا بھی درست نہیں۔ اصل مسئلہ رہائش کا نہیں، رویے کا ہے۔ اگر الگ گھر میں رہنے والے بچے روزانہ والدین کا حال پوچھتے، ان کے پاس بیٹھتے اور ضرورت کے وقت حاضر ہوتے ہیں تو الگ رہائش رشتوں کو کمزور نہیں کرتی۔ اور اگر ایک ہی گھر میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد سے بے خبر ہوں تو مشترکہ چھت بھی دلوں کو قریب نہیں لا سکتی۔ اصل ضرورت مشترکہ دلوں کی ہے۔ آج کا دادا اکثر گھر میں موجود ہوتے ہوئے بھی تنہا ہے۔ جس شخص کی کبھی گھر کے ہر فیصلے میں رائے لی جاتی تھی، بعض اوقات اب اس سے یہ بھی نہیں پوچھا جاتا کہ “ابا جی! آپ نے کھانا کھا لیا؟”
جس ماں نے اولاد کی ایک چھینک پر راتیں جاگ کر گزاری تھیں، بڑھاپے میں اس کی دوا کا وقت کسی کو یاد نہیں رہتا۔ جس باپ نے بچوں کے مستقبل کے لیے اپنی خواہشیں قربان کی تھیں، آج وہ اپنے ہی بچوں سے چند لمحے بات کرنے کو ترستا ہے۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ نئی نسل میں ادب ختم ہو گیا ہے۔ مگر ہمیں یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ ادب پیدا کون کرے گا؟
بچے تقریروں سے نہیں، مشاہدے سے سیکھتے ہیں۔ اگر وہ اپنے والد کو اپنے باپ کے ہاتھ چومتے دیکھیں گے تو وہ بھی احترام سیکھیں گے۔ اگر وہ اپنی ماں کو دادی کی خدمت کرتے دیکھیں گے تو انہیں خدمت کی قدر معلوم ہوگی۔ اگر گھر میں بزرگ کی بات تحمل سے سنی جائے گی تو بچے بھی سننے کا ہنر سیکھیں گے۔
اخلاقی تربیت اسکول کے نصاب سے پہلے گھر کے ماحول سے شروع ہوتی ہے اور شاید اسی لیے ہمارے بزرگوں کی سب سے بڑی ضرورت دولت نہیں، توجہ ہے۔
انہیں ہر روز مہنگا تحفہ نہیں چاہیے۔انہیں صرف یہ چاہیے کہ کوئی ان کے پاس بیٹھے۔ ان کی پرانی باتیں سنے۔ ان کے بچپن کے قصے پوچھے۔ ان کی جوانی کے واقعات سنے۔ ان سے مشورہ کرے۔کبھی ان کا ہاتھ تھام لے۔ کبھی بے مقصد ان کے پاس بیٹھ کر چائے پی لے۔
یقین کیجیے، کبھی کبھی پندرہ منٹ کی محبت پوری زندگی کی تھکن اتار دیتی ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کے لیے ایک چھوٹا سا اصول بنانا چاہیے: روزانہ کچھ وقت موبائل سے دور اور خاندان کے قریب رہنا ہے۔ ہفتے میں کم از کم ایک دن بزرگوں کے ساتھ بیٹھنے کا اہتمام۔ دادا دادی سے ان کی زندگی کے واقعات سننے کی روایت۔ بچوں کو بزرگوں کی خدمت میں شریک کرنا۔ یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہماری آئندہ نسل کے اخلاقی مزاج کو بدل سکتی ہیں کیونکہ بزرگ صرف عمر رسیدہ افراد نہیں ہوتے، وہ خاندان کی زندہ تاریخ ہوتے ہیں۔ ان کے پاس وہ تجربات ہوتے ہیں جو گوگل نہیں دے سکتا۔ ان کی دعاؤں کا کوئی متبادل نہیں۔ ان کی محبت کا کوئی نعم البدل نہیں۔
14











