17

وزیراعظم پاکستان کو آزادکشمیر کے مسائل پر بریفنگ، موثراقدامات کا حکم

اسلام آباد(خبرنگار) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا، ہماری خواہش ہے کہ خیبر پختونخوا میں بھی ملک کے دیگر حصوں کی طرح ترقی ہو۔وزیراعظم شہباز شریف سے وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے ملاقات کی، جس میں آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر نے وزیراعظم کو آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں جاری امور اور پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی۔وزیراعظم نے آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کی فلاح و بہبود، ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے مؤثر اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی ترقی اور وہاں کے عوام کی خوشحالی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا، ہماری خواہش ہے کہ خیبرپختونخوا میں بھی ملک کے دیگر حصوں کی طرح ترقی ہو، خیبرپختونخوا کے عوام کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان ریلوے کی اصلاحات اور مین لائن ون (ایم ایل ون) منصوبے پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریلوے کو مضبوط، منافع بخش اور مالی طور پر خود کفیل ادارہ بنانے کے لیے کارپوریٹ طرز کی اصلاحات ناگزیر ہیں۔وزیراعظم کی زیر صدارت پاکستان ریلوے میں اصلاحات سے متعلق جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں ایم ایل ون منصوبے، ریلوے کی اراضی کے استعمال اور ادارے کی مالی و انتظامی بہتری سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران وزیراعظم نے ریلوے کی قبضہ شدہ زمینوں کی نشاندہی اور واگزاری کے لیے چیئرمین نیب کی سربراہی میں نیب اور وزارتِ ریلوے کی ٹیموں کی کاوشوں کو سراہا، پاکستان ریلوے کی ترقی، مسافروں کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی اور فریٹ ٹرانسپورٹ میں اضافے کے لیے ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔شہباز شریف نے ہدایت کی کہ ریلوے کی اربوں روپے مالیت کی اراضی کو کمرشل بنیادوں پر مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے ایم ایل ون منصوبے کی تعمیر کو آگے بڑھایا جائے، ریلوے کی املاک میں موجود حقیقی تجارتی صلاحیت کو بروئے کار لا کر نہ صرف ادارے کی آمدن بڑھائی جا سکتی ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔وزیراعظم نے ریلوے کی اراضی پر مختلف کمرشل منصوبوں کے ذریعے بینکوں سے فنڈنگ حاصل کرکے ایم ایل ون کی تعمیر میں استعمال کرنے کی اصولی منظوری بھی دی، انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ریلوے کی اراضی کی تجارتی استعداد اور فنڈنگ کے امکانات کے حوالے سے دو ہفتوں میں جامع منصوبہ پیش کیا جائے۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 1,726 کلومیٹر طویل ایم ایل ون منصوبے کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں کراچی۔روہڑی، روہڑی۔ملتان، ملتان۔لاہور اور لاہور۔پشاور سیکشن شامل ہیں، کراچی۔روہڑی سیکشن کی اپ گریڈیشن کے لیے بین الاقوامی فنانسنگ سے استفادہ کیا جا رہا ہے، جبکہ دیگر حصوں کی تکمیل کے لیے مقامی وسائل سے فنڈنگ کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، حنیف عباسی، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد، چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ اور دیگر حکام نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں