118

نئے عدالتی سال کا آغاز،فیصلوں پر عمل درآمد نہ ہونے پر تشویش ہے،سپریم کورٹ

مظفرآباد(خبرنگار)سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر میں گرمائی تعطیلات کے اختتام پر نئے عدالتی سال 2026-27 کا آغازہوا اور مقدمات کی باقاعدہ سماعت شروع کر دی گئی۔ نئے عدالتی سال کے آغاز پر سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر میں نہایت پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان کے ہمراہ سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان ،جج سپریم کورٹ جسٹس خالد یوسف چوہدری نے شرکت کی۔ نئے عدالتی سال کی تقریب میں ایڈووکیٹ جنرل آزاد جموں و کشمیرراجہ محمد ندیم خان، چیئرمین اپیلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیوشیخ راشد مجید ،چیئرمین ماحولیاتی ٹربیونل راجہ راشد نسیم ،رجسٹرار ہائی کورٹ راجہ شمریزخان، جج الیکشن ٹریبونل ، وائس چیئرمین بارکونسل راجہ اشتیاق احمد خان ، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن راجہ آفتاب احمد ، صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن راجہ جہانگیر اکرم خان ،صدر سینٹرل بار ایسوسی ایشن راجہ ضیغم افتخارکے علاو ہ سپریم کورٹ بارکے سینئر عہدیداران اور وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ نئے عدالتی سال کے موقع پر چیف جسٹس آزاد جموںوکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم عدالتی سال 27-2026 کاآغاز کررہے ہیں جو اس ادارہ کے قیام کا 52 واں سال ہے۔تمام شرکائے تقریب کو دلی طور پر خوش آمدید کہتے ہوئے نئے عدالتی سال کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ہم سب ایک عدالتی خاندان کے افراد ہیں جو ریاست میں نظام فراہمی انصاف کا ضامن ہے۔ہمیں آج کے دن سوچنا ہے کہ فراہمی انصاف کے لئے ہم پہلے سے کتنی بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں،جو خامیاں اور کمزوریاں پچھلے سالوں میں رہی ہیں ان کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنی ہے۔انصاف کا سنہری اصول یہ ہے کہ انصاف نظر آنا چاہیے۔انصاف اگر نظر نہ آئے تو پھر خالی ایک عدالتی فیصلہ سے جس پر عمل درآمد نہ ہو سکے فریقین کی دادرسی نہیں ہو سکتی اور جب داد رسی نہیں ہو گی تو حقیقی انصاف نظر نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ بطور جج اور چیف جسٹس عدالتی فیصلوں پر عمل درآمدہمیشہ میری اولین ترجیح رہی ہے۔ عدالتیں شہریوں کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کی ضامن ہوتی ہیں ، تمام ریاستی افراد اور اداروں کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد میں تاخیر یا خلاف ورزی چاہے ریاستی اداروں کی جانب سے ہو یا عام شہریوں کی جانب سے ہر دو صورت میں انصاف کی متلاشی عوام کا اعتماد ریاست اور نظام انصاف پر متزلزل ہو جاتا ہے ،ہمیں اس جانب خصوصی توجہ دینا ہوگی۔چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے رہائشی مقاصدکے لیے مختص اراضیات پر کمرشل پلازوں کی تعمیرات کے خلاف واضح احکامات جاری کر رکھے ہیں لیکن ہمارے نوٹس میں لایا گیا ہے کہ ترقیاتی ادارہ میرپور کی جانب سے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی معمول بن چکی ہے اور ایسے رہائشی پلاٹوں پر کمرشل عمارتوں کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ترقیاتی ادارہ میرپور کے اہلکاران اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہیں۔ عاملین سرکار کی جانب سے عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد میں رکاوٹ اور خلاف ورزی پر ہمیں تشویش ہے ۔ ہم نے وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر کی توجہ بھی اس جانب مبذول کروائی ہے۔ رہائشی مقاصدکے لیے مختص پلاٹوں پرغیر قانونی طور پر کمرشل پلازوں کی تعمیر میں ملوث ترقیاتی ادارہ میر پور اور دیگر سرکاری آفیسران و اہلکاران کے کے خلاف حکومتی سطح پر کارروائی کے لیے تحریک کی ہے جبکہ سپریم کورٹ بھی ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی گی۔ انہوںنے کہا کہ آج مصنوعی ذہانت کا دور ہے۔قانون کی تعلیم سے لے کر فراہمی عدل و انصاف میں بہتری اور مؤثر انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کا تقاضا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے مقدمات کے فوری فیصلے کرنے، عدالتی عاملین کی کارکردگی کو جانچنے ، مزید بہتر بنانے، مقدمات میں شہادت کو پرکھنے اور ہر قسم کی عدالتی دستاویزات کی فوری فراہمی، عدالتی ریکارڈ کو آن لائن کرنے، فریقین مقدمہ کی عدالتی فیصلوں تک رسائی، قانون اور آئین کے بارہ میں شعور اجاگر کرنے میں مدد لی جا سکتی ہے۔انہو ں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں اس وقت Online Public Facilitation Portal پر کاز لیسٹ، مختلف عدالتی بینچوں کے روسٹر، تازہ ترین فیصلوں تک رسائی کی سہولت موجود ہے۔ public facilitation centre بھی قائم کیا جا رہا ہے جس سے فریقین مقدمہ اور وکلاء کے لئے معلومات تک رسائی آسان ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ECopy-Application,EChallan,ATM Bank Desk کے قیام کے علاوہ میرپور سرکٹ میں نئی تعمیر شدہ عمارت میں جدید ای کورٹس قائم کی جا رہی ہیں۔ ایک اوورسیز پورٹل پر بھی کام جاری ہے جس میں بیرون ملک مقیم شہری اپنی شکایات درج کروا سکیں گے۔ اعلیٰ عدلیہ ہو یا ماتحت عدلیہ دور جدید کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی تربیت عدالتی عملہ کے لئے لازمی ہے۔ اس سلسلہ میں اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ دور جدید کی سہولیات کا استفادہ کرنے میں مزید آسانی ہو سکے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے عدالتی نظام میں مقدمات کے متبادل طریقہ سے فیصلوں کا کوئی میکنزم موجود نہ ہے۔ Alternate Dispute Resolution اس وقت پوری دنیا میں رائج ہے اور پاکستان کے عدالتی نظام میں بھی اس پر عمل درآمد کے لئے تیزی کے ساتھ کام جاری ہے جبکہ آزاد جموں و کشمیر میںاب تک اس جانب خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا سکی۔ ہمیں اس جانب آگے بڑھنا ہو گا تاکہ ایک جانب فریقین مقدمہ کے مابین تنازعات کا وقت ضائع کئے بغیر مؤثر حل ممکن ہو سکے اور دوسری جانب عدالتوں میں مقدمات کا بوجھ بھی کم ہو۔ہمارے اکابرین، علمائے کرام، سول سوسائٹی، صحافیوں ،دانشوروں اور اساتذہ کرام کی اعلیٰ ترین خدمات کے ساتھ ساتھ ریاستی عدلیہ نے اپنے فیصلوں کے ذریعے اداروں اور ریاست پر شہریوں کا اعتماد بحال رکھنے میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے اور اس کو مزید مضبوط بنانے کے لئے مؤثر اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں مقننہ، انتظامیہ اور عاملہ کے ساتھ ساتھ عدلیہ کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔بلا شبہ ماضی میں متعدد مقدمات میں ہماری عدلیہ نے ریاست کے استحکام کے لئے اپنے فیصلوں کے ذریعے بنیادی اور کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ہم نے ریاستی عوام کی صحت، تعلیم، روزگار، خوراک، ترقیاتی منصوبہ جات، میرٹ پر عمل درآمد، گڈ گورننس، آئین اور قانون کی حکمرانی کے ساتھ ساتھ طلباء، معذور افراد، سمندر پار مقیم شہریوں کے معاملات سمیت اقلیتوں کے حقوق اور ان کی مذہبی اقدار، مذہبی نشانات، عبادت گاہوں اور تاریخی اہمیت کے مقامات کی حفاظت کے لئے واضح احکامات صادر کئے ہیں۔ملاوٹ شدہ اشیائے خوردونوش کی خرید و فروخت کو روکنے اور ایسے گھناؤنے کاروبار میں ملوث افراد کو قانون کے دائرے میں لانے، فوڈ اتھارٹی کے قیام سمیت پوری ریاست میں فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کا قیام عمل میں لانے کے لئے احکامات صادر کئے اور ان احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لئے عدالتی چیک رکھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ شہریوں کی صحت کے تحفظ اور ان کو ماحولیاتی آلودگی سے محفوظ بنانے کے لئے جنگلات کی حفاظت، آلودگی پھیلانے والے کاروبار کی بندش کا حکم بھی صادر کیا ہے۔ جنگلات اور محکمہ اوقاف کی اربوں روپے مالیت کی اراضی کو قبضہ مافیا سے واگزار کروا کر متعلقہ محکموں کے سپرد کیا۔ ریاستی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے قواعد و ضوابط میں ترامیم کا حکم دیا جس پر قانون سازی عمل میں لائی جا چکی ہے اور بہت سے معاملات زیر کار ہیں۔ سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر میں فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کو فعال بنانے کے ساتھ ساتھ ریاست میں پہلی بار فوڈ اتھارٹی کے قیام پر حکومت اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی قابل ستائش رہی۔ تا ہم فوڈ اتھارٹی میں تعینات کچھ اہلکاران کی جانب سیسپریم کورٹ کے احکامات کی آڑ میں کچھ تاجروں کو بلا وجہ پریشان کیا جاتا ہے ۔ ایسی کسی بھی سرگرمی میں ملوث سرکاری عاملین کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔حکومت اور متعلقہ سیکرٹری محکمہ کی ذمہ داری ہے کہ پوری ریاست میں بلا تخصیص فوڈ ٹیسٹنگ اور چیکنگ کا دائرہ کار وسیع کیا جائے اور تمام اضلاع اور تحصیلوں میں سخت ترین نگرانی کرتے ہوئے ملاوٹ شدہ اور مضر صحت اشیائے خوردونوش کے خلاف آپریشن کیا جائے اور عوام کو صحتمند اور ملاوٹ سے پاک خوراک کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔انہوںنے کہا کہ 2005 کے زلزلہ کے فوری بعد عدالتی انفراسٹرکچر پر کام شروع کیاگیااور اس سلسلہ میں سینئر جج سپریم کورٹ کی سربراہی میں ایک بلڈنگ کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ بلڈنگ کمیٹی نے پوری ریاست میں عدالتی مکانیت کے منصوبہ جات پر توجہ دی اور الحمدللہ آج تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز پر ماسوائے ایک یا دو اضلاع کے بہترین عدالتی عمارات تعمیر ہو چکی ہیں۔ اسی طرح تحصیلوں میں بھی بہتر عدالتی مکانیت فراہم کی جا چکی ہے۔ سپریم کورٹ کی بلڈنگ کمیٹی کے زیر اہتمام عدالتی مکانیت کے تعمیراتی منصوبہ جات کی مؤثر نگرانی کی جا رہی ہے۔میرپور میں سپریم کورٹ کی سٹیٹ آف دی آرٹ عمارت کا کام تکمیل کے مراحل میں ہے تاہم فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث تعمیراتی کام میں رکاوٹ پیش آ رہی ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ تعمیراتی منصوبہ کے لئے مختص فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مقررہ مدت کے اندر یہ منصوبہ مکمل ہو سکے۔ مزید یہ کہ موجودہ عمارت میں گنجائش نہ ہونے کی بنا پر عدالتی کام متاثر ہو رہا ہے۔ سیکرٹری فزیکل پلاننگ و ہاوسنگ کی ذمہ داری ہے کہ اس جانب خصوصی توجہ دیتے ہوئے فنڈز کی فوری فراہمی کا بندو بست کرتے ہوئے رپورٹ پیش کرے۔انہوںنے کہا کہ گزشتہ عدالتی سال میں2325 مقدمات کے ریکارڈ فیصلے ہوئے۔کرنٹ ڈسپوزل کو قائم رکھنے میں جج صاحبان سپریم کورٹ کی بصیرت اور انتھک محنت شامل ہے جس پرانہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ مقدمات کے انفصال میں ہمارے وکلاء کابھی اہم ترین کردار ہے جنہوں نے روزانہ کی کاز لیسٹ کے مطابق پوری تیاری کے ساتھ پیش ہو کر معاونت کی اور مقدمات کو نمٹانے میں اہم کردار ادا کیا جو قابل ستائش ہے۔نظام عدل میں خود احتسابی اور چیک اینڈ بیلنس لازمی ہے تاکہ اگر کہیں کسی قسم کی کمی یا کوتاہی ہو تو اسے دور کیا جا سکے۔ چیف جسٹس ہائی کورٹ کی مشاورت سے اس سلسلہ میں متعدد ہدایات جاری کی ہیں۔ہائی کورٹ میں ججز کی کمی کے باعث سرکٹ بینچوں اور ہیڈ کوارٹر میں بھی زیر کار مقدمات میں اضا فہ دیکھنے میں آیا ہے۔ انشاء اللہ بہت جلدی ججز کی کمی کو پورا کر لیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ماتحت عدلیہ کی کارکردگی کو مزید بہتر اور مؤثر بنانے کے لئے سٹیٹ جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی اور لا ء کمیشن کے فورم سے ہم نے ایڈمنسٹریٹو جج ہائی کورٹ کی تعیناتی اور ماتحت عدلیہ کی انسپکشن کے علاوہ جیل خانہ جات کے معائنہ فوجداری اور دیوانی مقدمات کے علاوہ عائلی و دیگر مقدمات کے انفصال کے لئے بھی مختلف تجاویز پر عمل درآمد کے لئے چیف جسٹس عدالت عالیہ کی مشاورت سے میکنزم بنایا ہے تاکہ عوام الناس کو فوری او ر مؤثر انصاف کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔انہوںنے کہا کہ 2026 کے ابتدائی مہینوں میں ایران اور امریکہ جنگ کے باعث ایندہن کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے ہم نے Austerity Measures لئے اور جس قدر ممکن تھا قومی خزانہ کی بچت کے لئے پٹرول، سفر خرچ اور دیگر اخراجات میں پچاس فیصد کمی کی گئی۔سب کو مل کر ریاستی عدلیہ کے شاندار ماضی کو مد نظر رکھتے ہوئے بہترین مستقبل کے لئے بھی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ پاکستان میں منعقد ہونے والی متعدد جوڈیشل کانفرنسوں، سیمینارز اور دیگر عدالتی تقریبات میں خصوصی دعوت پر آزاد جموں و کشمیر کی عدلیہ کی نمائندگی کی۔ چیف جسٹس پاکستان، ججز اور صوبائی چیف جسٹس صاحبان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر کو اہم ترین تقریبات میں نمائندگی دی اور مجھے خصوصی طور پر شرکت کی دعوت دی۔چیف جسٹس نے کہا کہ وکلاء کسی بھی مہذب معاشرے میں قانون کی حکمرانی، بنیادی حقوق کے تحفظ، میرٹ، گڈ گورننس، عدلیہ کی آزادی اور آئین اور قانون کی سربلندی کے ضامن ہوتے ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر میں بار کونسل، سپریم کورٹ بار،ہائی کورٹ بار اور تمام ضلعی اور تحصیل بار ایسوسی ایشنز نے جس طرح سے آئین اور قانون کی حکمرانی، میرٹ کی بالادستی، بنیادی حقوق کے تحفظ، بار اور بینچ کی مضبوطی اور عدلیہ کی آزادی کے لئے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ میں نے ہمیشہ وکلاء کے مسائل کے حل کو ترجیح دی۔ عدلیہ کے کاندھوں پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہیں۔ ججز صاحبان کو چاہئے کہ وہ بلا خوف اپنے فرائض کی بجا آوری کرتے رہیں اور مظلوم کو انصاف دیں چاہے ظالم کتنا ہی طاقتور، جابر اور سرکش کیوں نہ ہو۔ لیکن دوسری جانب وکلاء پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عدالتوں میں پوری تیاری کے ساتھ پیش ہوں اور حتی المقدور کوشش کریں کہ زیر کار مقدمات کے بر وقت فیصلے صادر ہو سکیں۔تقریب سے ایڈووکیٹ جنرل آزاد جموں و کشمیرراجہ محمد ندیم خان، وائس چیئرمین بارکونسل راجہ اشتیاق احمد خان ، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن راجہ آفتاب احمد اور خواتین وکلاء کی نمائندگی کرتے ہوئے محترمہ کوثر اعوان ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں