میرپور (بیورورورپورٹ) آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی رکن محترمہ سحرش قمر نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں مسئلہ کشمیر، پاکستان کے آبی حقوق، دہشت گردی، فلسطین اور عالمی و علاقائی امن کے حوالے سے پاکستان کا واضح اور اصولی مؤقف پیش کرنے کا خیرمقدم کیا ہے۔محترمہ سحرش قمر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی برادری کے سامنے پاکستان کے اہم قومی اور بین الاقوامی مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔ بالخصوص کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت، سندھ طاس معاہدے، پاکستان کے آبی حقوق اور بھارتی اقدامات کے حوالے سے وزیراعظم کا مؤقف انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے واضح کیا کہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوئی بھی کوشش اقدام جنگ تصور کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے تناظر میں عالمی فورم پر اٹھانا پاکستان کی دیرینہ پالیسی کا تسلسل ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے واضح کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک انہیں ان کا حقِ خودارادیت حاصل نہیں ہو جاتا۔ سحرش قمر نے فلسطین کے حوالے سے وزیراعظم کے خطاب کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں انسانی المیے، فلسطینی عوام کی مشکلات اور فلسطین کے دیرینہ مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے عالمی برادری کو عملی کردار ادا کرنا ہوگا۔ وزیراعظم پاکستان نے ایک آزاد، خودمختار اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام، 1967 سے پہلے کی سرحدوں اور القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے کو پاکستان کے مؤقف کے طور پر پیش کیا۔ وزیراعظم پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو بھی عالمی برادری کے سامنے اجاگر کیا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ جانوں کی قربانیاں دیں اور 150 ارب ڈالر سے زائد کے معاشی نقصانات برداشت کیے، جبکہ وزیراعظم نے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قابلِ تصدیق اور فیصلہ کن اقدامات پر زور دیا۔ محترمہ سحرش قمر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ میں خطاب اس امر کا اظہار ہے کہ پاکستان خطے اور دنیا میں جنگ اور کشیدگی کے بجائے امن، مذاکرات، سفارت کاری اور منصفانہ حل کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر، فلسطین، پانی اور دہشت گردی جیسے اہم معاملات پر پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر مسلسل اور مؤثر انداز میں پیش کیا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام وزیراعظم پاکستان کے اس واضح مؤقف کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمارا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے، پاکستان ہے تو ہم سب ہیں، ملک خداد پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے اور بلخصوص وطن کی ترقی و خوشحالی کے لیے مل کر کام کریں، پاکستان مسلم لیگ (ن) عوام کی فلاح کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی۔
25











