مظفرآباد(خبرنگار)ڈائریکٹر جنرل اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (SDMA) آزاد جموں و کشمیر سعید الرحمان قریشی نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے PIMS ہسپتال میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے، جس میں متعدد نومولود بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں کے تناظر میں SDMA نے آزاد کشمیر بھر میں اہم سرکاری عمارات کے فائر سیفٹی آڈٹ کا عمل شروع کر دیا ہے۔اس اقدام کا مقصد کسی بھی ممکنہ سانحے سے پہلے فائر سیفٹی کے انتظامات، ہنگامی انخلاء کے نظام اور دیگر حفاظتی اقدامات میں موجود خامیوں کی بروقت نشاندہی اور ان کا تدارک یقینی بنانا ہے۔SDMA کے مطابق ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر اہم سرکاری عمارات کو اس آڈٹ میں شامل کیا جا رہا ہے۔ ہر ضلع میں ضلعی فائر سیفٹی آڈٹ کمیٹی قائم کی گئی ہے، جو منتخب عمارات کا تفصیلی تکنیکی سروے کرے گی۔ آڈٹ کے دوران فائر الارم اور ڈیٹیکشن سسٹم، فائر فائٹنگ آلات، ایمرجنسی ایگزٹ، انخلاء کے راستوں، بجلی کے نظام، ایمرجنسی رسپانس اور فائر ڈرلز سمیت دیگر اہم حفاظتی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔ڈائریکٹر جنرل SDMA نے کہا کہ PIMS کا واقعہ اس امر کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ فائر سیفٹی کے انتظامات محض موجود ہونا کافی نہیں بلکہ ان کی باقاعدہ جانچ، دیکھ بھال، عملی تر بیت اور مؤثر انخلاء کے طریقہ کار کی موجودگی بھی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلعی کمیٹیوں کی آڈٹ رپورٹس کی بنیاد پر خامیوں کی نشاندہی اور ان کے ازالے کے لیے واضح سفارشات مرتب کی جائیں گی۔ تمام رپورٹس کو یکجا کرکے جامع آزاد کشمیر فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹ تیار کی جائے گی اور مجاز حکام کو پیش کی جائے گی تاکہ ضروری اصلاحی اقدامات بروقت کیے جا سکیں۔ ڈائریکٹر جنرل اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے متعلقہ ضلعی کمیٹیوں کو ہدایت کی ہے کہ آڈٹ کا عمل جامع، تکنیکی اور مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ انسانی جانوں، اہم انفراسٹرکچر اور سرکاری و عوامی املاک کے تحفظ کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔SDMA کا یہ اقدام حادثات کے بعد ردِعمل کے بجائے پیشگی خطرات کی نشاندہی، تیاری اور روک تھام کے اصول کے تحت فائر سیفٹی کو مزید مؤثربنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
18











