118

وزیراعظم آزادکشمیر افتخار گیلانی کی زیر صدارت اجلاس، اہم فیصلے

مظفرآباد (خبرنگار) وزیراعظم آزادکشمیر افتخار گیلانی کی زیر صدارت آزادکشمیر میں وزیراعظم پاکستان کی جانب سے دئیے گئے دانش سکولز کے قیام کے حوالے سے اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں آزادکشمیر میں زیر تعمیر پانچ دانش سکولز کے تعمیراتی کام، انتظامی امور، تعلیمی سہولیات اور مستقبل کے انتظام و انصرام کے حوالے سے وزیراعظم کو وفاقی سیکرٹری منسٹری آف فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل پلاننگ ندیم محبوب نے بریفنگ دی اور دانش سکولز کے جاری تعمیراتی کام، منصوبوں کی پیش رفت اور دیگر متعلقہ امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ دانش سکول باغ اور بھمبر میں تعمیراتی کام تقریباً 83 فیصد مکمل ہو چکا ہے جبکہ حویلی، نیلم اور کوٹلی میں بھی سکولز کی تعمیر پر کام جاری ہے۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ دانش سکولز میں طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے ساتھ ساتھ جدید تعلیمی ماحول، رہائشی سہولیات، کھیلوں، صحت، ڈیجیٹل لائبریری، آئی ٹی، سائنس و کمپیوٹر لیبارٹریز سمیت دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی، تاکہ آزادکشمیر کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت اور مستحق طلبہ کو بہترین تعلیمی مواقع میسر آسکیں۔ اجلاس میں وزیر جنگلات کرنل (ر) وقار احمد نور، وزیر ہائر ایجوکیشن اظہر صادق، چیف سیکرٹری خوشحال خان، پرنسپل سیکرٹری عدنان خورشید، سیکرٹری تعلیم سکولز قاضی عنایت، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن چوہدری عبدالرحمان اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم افتخار گیلانی نے کہا کہ آزادکشمیر میں دانش سکولز کا قیام تاریخی تعلیمی اقدام ہے، ان سکولز کے ذریعے ایسے بچوں کو معیاری تعلیم کے مواقع میسر آئیں گے جو صلاحیت اور استعداد رکھنے کے باوجود وسائل کی کمی کے باعث اعلیٰ معیار کے تعلیمی اداروں تک رسائی حاصل نہیں کر پاتے۔وزیراعظم نے کہا کہ میاں محمد نواز شریف اور وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی خصوصی شفقت اور کشمیری عوام کے ساتھ گہری وابستگی کی وجہ سے آزادکشمیر میں پانچ دانش سکولز قائم کیے جا رہے ہیں، جس پر حکومت آزادکشمیر اور آزادکشمیر کے عوام ان کے شکر گزار ہیں۔ افتخار گیلانی نے کہا کہ میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف نے ہمیشہ آزادکشمیر کی ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی توجہ دی ہے۔ آزادکشمیر میں دانش سکولز کا قیام بھی اسی محبت اور تعاون کا ثبوت ہے۔ معیاری تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہے۔وزیراعظم آزادکشمیر نے واضح کیا کہ دانش سکولز کے قیام اور انہیں مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لیے حکومت آزادکشمیر ہر ممکن تعاون یقینی بنائے گی۔ ان منصوبوں کی بروقت تکمیل اور دیگر ضروری امور کی یقینی بنائے جائیں تاکہ ان اداروں کو جلد از جلد آزادکشمیر کے طلبہ و طالبات ان جدید تعلیمی سہولیات سے استفادہ کر سکیں۔علاوہ ازیں وزیراعظم آزادکشمیر افتخار گیلانی کا دارالحکومت مظفرآباد میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل کے مستقل حل کیلئے بڑے ٹرانسپورٹ اڈوں کو شہر سے باہر منتقل کرنے، نئے لاری اڈے کیلئے مجوزہ سائٹس کا فوری وزٹ کرکے رپورٹ پیش کرنے، مختص مقامات کے علاوہ شہر میں قائم تمام غیر قانونی ٹرانسپورٹ اڈے ختم کرنے، سبزی منڈی کو مختص جگہ پر منتقل کرنے اور شہر کی سڑکوں کو فزیبلٹی دیکھتے ہوئے کشادہ کرنے کا حکم۔ وزیراعظم نے شہر کے تمام انٹری پوائنٹس کو صاف ستھرا اور خوبصورت بنانے، نیلم پارک اور ٹاہلی منڈی کی جدید ڈیزائننگ کر تزئین و آرائش کیلئے جامع پلان تیار کرنے کی بھی ہدایت۔ اس سلسلہ میں وزیراعظم آزادکشمیر افتخار گیلانی کی زیر صدارت دارالحکومت مظفرآباد میں ٹریفک مینجمنٹ اینڈ پبلک ٹرانسپورٹ ری لوکیشن پلان کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مظفرآباد شہر میں ٹریفک کے مسائل، پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام، ٹرانسپورٹ اڈوں کی منتقلی، سڑکوں کی کشادگی، سبزی منڈی کی منتقلی اور شہر کی خوبصورتی و تزئین و آرائش سے متعلق مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ کمشنر مظفرآباد بدر منیر نے وزیراعظم آزادکشمیر کو مجوزہ ٹریفک مینجمنٹ اور پبلک ٹرانسپورٹ ری لوکیشن پلان کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔پرنسپل سیکرٹری سردار عدنان خورشید اور سیکرٹری ورکس محمد نعیم بسمل، ڈی آئی جی شہریار سکندر، صدر ٹرانسپورٹ یونین خواجہ اعظم رسول، ڈپٹی کمشنر منیر قریشی، ایس ایس پی ریاض مغل سمیت دیگر متعلقہ حکام اجلاس میں شریک تھے۔ وزیراعظم آزادکشمیر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مظفرآباد شہر میں ٹریفک کے نظام کو بہتر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ شہریوں کو روزانہ ٹریفک جام اور غیر منظم ٹرانسپورٹ کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کا مستقل حل ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک کے مسئلے کا عارضی نہیں بلکہ مستقل حل کیا جائے۔ ٹرانسپورٹ اڈوں کو شہر کے گنجان علاقوں سے باہر منتقل کرنے کیلئے مجوزہ مقامات کا دورہ کرکے جائزہ لیکر کام شروع کیا جائے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ لاری اڈے کیلئے تجویز کردہ تمام سائٹس کا متعلقہ حکام خود موقع پر جا کر معائنہ کریں اور زمین کی دستیابی، ٹریفک کی روانی، مستقبل کی ضروریات اور دیگر تکنیکی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے جامع رپورٹ پیش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ نئے لاری اڈے کا انتخاب صرف موجودہ ضروریات کو مدنظر رکھ کر نہیں بلکہ آئندہ کئی برسوں کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹریفک کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے۔افتخار گیلانی نے ہدایت کی کہ شہر میں مختص کردہ مقامات کے علاوہ کسی بھی جگہ غیر قانونی ٹرانسپورٹ اڈے قائم نہیں رہنے دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک کے نظام میں بہتری کیلئے سڑکوں کی کشادگی اور متبادل روٹس کا بھی جائزہ لیا جائے۔ اس مقصد کیلئے باقاعدہ فزیبلٹی رپورٹ تیار کی جائے۔ وزیراعظم نے سبزی منڈی کے حوالے سے بھی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ سبزی منڈی کو مختص کردہ جگہ پر منتقل کرنے کے عمل کو تیز کیا جائے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ اس حوالے سے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے اور تمام ضروری سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔ وزیراعظم آزادکشمیر نے شہر کے داخلی راستوں پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مظفرآباد کے انٹری پوائنٹس شہر کا پہلا تعارف ہیں، اس لیے انہیں صاف، خوبصورت، منظم اور دیدہ زیب بنایا جائے۔ داخلی راستوں پر صفائی، شجرکاری، لینڈ سکیپنگ اور مناسب سائن بورڈز سمیت دیگر ضروری اقدامات کیے جائیں تاکہ شہر میں داخل ہونے والے شہریوں اور سیاحوں کو اچھا اور خوشگوار تاثر ملے۔علاوہ ازیں  وزیراعظم آزادکشمیر افتخار گیلانی کی زیر صدارت انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پرنسپل سیکرٹری سردار عدنان خورشید، سیکرٹری آئی ٹی و اطلاعات محمد راشد حنیف، ڈپٹی سیکرٹری ملک حامد صدیق سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری آئی ٹی و اطلاعات محمد راشد حنیف نے وزیراعظم کو آئی ٹی بورڈ کے جاریہ منصوبوں آئی ٹی ایکسیلنس سینٹرز، لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن سمیت دیگر منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے وزیراعظم کو ون ونڈو آپریشن اور شکایات سیل پر بھی بریف کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم افتخار گیلانی نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے سرکاری خدمات کو عوام کیلئے مزید آسان، شفاف اور تیز بنایا جائے۔ہمارا فوکس عوامی خدمت ہے، ایسے اقدامات کرنے ہیں جن سے لوگوں کی زندگی میں بہتری اور آسانی پیدا ہو۔ وزیراعظم نے کہا کہ شہریوں کی شکایات کے بروقت ازالے، سروس ڈیلیوری میں بہتری اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے شکایات سیل کا قیام عمل میں لا رہے ہیں، اس میں شکایات کے اندراج، نگرانی اور ازالے کیلئے مؤثر اور شفاف نظام وضع کیا جائے تاکہ شہریوں کو اپنی شکایات کے حل کیلئے دفاتر کے غیر ضروری چکر نہ لگانے پڑیں۔علاوہ ازیں وزیراعظم آزادکشمیر افتخار گیلانی نے کہا ہے کہ ستھرا کشمیر پروگرام کو جلد تمام اضلاع میں شروع کریں گے، محکمہ لوکل گورنمنٹ میں خالی آسامیوں پر بھرتی کیلئے مستند اور اچھی شہرت کی حامل تھرڈ پارٹی کی خدمات لیکر شفاف اور میرٹ پر بھرتیوں کا عمل شروع کیا جائے۔جو بلدیاتی ادارے خسارے میں جا رہے ہیں ان میں اصلاحات لانے کیلئے قابل عمل تجاویز مرتب کی جائیں۔محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کی مشاورت سے لوکل گورنمنٹ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی مالیت میں اضافہ کریں گے، ترقیاتی منصوبہ جات کی رفتار اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ شہروں کیساتھ دیہی علاقوں میں بھی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اور سروسز کے معیار کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے۔ اجلاس میں پرنسپل سیکرٹری سردار عدنان خورشید، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ ودیہی ترقی ارشاد قریشی، ڈائریکٹر جنرل طاہر اشرف، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ بورڈ اشفاق نور، چیف انجینئر نیاز کیانی،چیف پلاننگ خواجہ مسعود، ڈپٹی ڈائریکٹر بابر منہاس اور ڈائریکٹر بورڈ قاضی افتخار ودیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی نے وزیراعظم کو بریفنگ دی۔ وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کا محکمہ عوامی خدمت اور گراس روٹ لیول پر انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ منتخب بلدیاتی نمائندگان بھی لوکل گورنمنٹ سسٹم کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی ہر صورت معیار کے مطابق بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے۔سیکرٹری لوکل گورنمنٹ ارشاد احمد قریشی نے وزیر اعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس مالی سال کیلئے لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی کا ترقیاتی بجٹ 3200.00 ملین روپے کا ہے جس میں پی سی ون منصوبہ جات کی مالیت 725 ملین روپے جبکہ نان پی سی ون منصوبہ جات کی مالیت 2474 ملین روپے ہے۔ ان منصوبہ جات میں مظفرآباد سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، پراجیکٹ، صاف پانی کی فراہمی بذریعہ فلٹریشن پلانٹس اور پل ہاؤ کی تعمیر شامل ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم کو حکومت کے 100 دنوں کے پلان کے حوالہ سے بھی بتایا کہ ستھرا کشمیر پروگرام، ضلعی سطح پر ویسٹ مینجمنٹ، ماڈرن فلیٹ کی خریداری اور سالڈ ویسٹ ری سائیکلنگ اور سرگریشن شامل ہیں۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے وزیراعظم کو بلدیاتی ادارہ جات کا مالی سال 26-2025 کا بجٹ خلاصہ اور ضلع کونسل، میونسپل کارپوریشنز، میونسپل کمیٹیز اور ٹاؤن کمیٹیز کی آمدن اور اخراجات پر بھی بریف کیا اور ان ادارہ جات میں اصلاحات کیلئے بھی وزیر اعظم سے گائیڈ لائنز حاصل کیں اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور صفائی ستھرائی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے بھی تجاویز دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں