3

ٹیکنوکریٹ نشست سے وزیراعظم ہاؤس تک: حمید علی

آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر ایسا موڑ آیا ہے جس نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ افتخار گیلانی نے وزیراعظم آزاد کشمیر کا حلف اٹھا لیا ہے اور یوں اقتدار کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں آ گئی ہے۔ بظاہر یہ ایک معمول کا آئینی عمل ہے مگر اس کے پس منظر میں موجود سیاسی کہانی کئی سوالات اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ سب سے نمایاں سوال یہ ہے کہ جس شخص کو جنرل نشست پر عوامی کامیابی حاصل نہیں ہوئی، وہ ٹیکنوکریٹ نشست کے ذریعے ایوان میں پہنچا اور پھر وزارتِ عظمیٰ کی کرسی تک جا پہنچا۔

یہ صورتِ حال قانونی اور آئینی دائرے میں ضرور آتی ہے مگر جمہوریت صرف آئینی شقوں کا نام نہیں۔ جمہوریت عوامی اعتماد، سیاسی اخلاقیات، عوامی رابطے اور مینڈیٹ کے احترام کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ اسی لیے افتخار گیلانی کی وزارتِ عظمیٰ کے ساتھ یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ کیا ٹیکنوکریٹ نشست سے حاصل ہونے والی سیاسی طاقت کو عوامی قبولیت میں تبدیل کیا جا سکے گا؟ کیوں کہ ایوان تک پہنچنے کا راستہ اور عوام کے دل تک پہنچنے کا سفر دو مختلف مرحلے ہیں۔

آزاد کشمیر کی تاریخ میں یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ ٹیکنوکریٹ نشست کسی سیاسی شخصیت کو وزارتِ عظمیٰ تک لے گئی ہو۔ تاہم موجودہ حالات میں افتخار گیلانی کا معاملہ اس لیے زیادہ توجہ طلب ہے کہ انھیں ایک ایسے سیاسی ماحول میں حکومت ملی ہے جہاں عوامی بے چینی، احتجاج اور بنیادی سہولیات سے متعلق شکایات پہلے ہی موجود ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت کی ہر پیش رفت عوام کی نگاہ میں ہوگی۔

اس پورے معاملے میں مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی سیاست بھی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر ایک تجربہ کار اور قد آور سیاسی شخصیت ہیں جب کہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر بھی جماعت کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ موجودہ سیاسی بندوبست میں ان دونوں شخصیات کے سیاسی کردار اور جماعتی فیصلوں پر بحث فطری ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا ان جیسے تجربہ کار رہنماؤں کو وہ سیاسی اہمیت اور فیصلہ سازی میں وہ مقام ملا ہے جس کے وہ حق دار تھے؟

تاہم کسی سیاسی شخصیت کے ساتھ زیادتی کا فیصلہ محض جذبات کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ سیاسی معاملات کو شواہد، حالات اور فیصلوں کے تسلسل میں دیکھنا ضروری ہے۔ سیاست میں اختلاف اور مقابلہ جمہوریت کا حسن ہے مگر، اگر سیاسی فیصلے ذاتی پسند، گروہی مفادات یا وقتی مصلحتوں کے تابع ہو جائیں تو جمہوری ادارے کم زور پڑنے لگتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی اصل طاقت بھی اسی میں ہے کہ وہ اپنے تجربہ کار رہنماؤں اور کارکنوں کو اعتماد میں لے کر فیصلے کریں۔

اب اصل بات افتخار گیلانی کی وزارتِ عظمیٰ اور ان کے سامنے موجود چیلنجز کی ہے۔ وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنا ان کے سیاسی سفر کا اختتام نہیں بل کہ اصل آغاز ہے۔ ان کے سامنے کئی مسائل ہیں مگر سب سے بڑا اور فوری چیلنج راولاکوٹ میں گزشتہ 80 روز سے جاری دھرنا ہے۔ یہ دھرنا اب محض ایک احتجاج نہیں رہا بل کہ نئی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی، انتظامی اور عوامی امتحان بن چکا ہے۔

افتخار گیلانی کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ حکومت عوامی احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کے بجائے سیاسی دانش مندی، مذاکرات اور باہمی اعتماد کے ذریعے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ راولاکوٹ کے دھرنے کا پرامن اور قابلِ قبول حل ان کی حکومت کے لیے پہلی بڑی کامیابی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ انٹرنیٹ کی بحالی بھی فوری ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے کیوں کہ آج انٹرنیٹ محض رابطے یا تفریح کا ذریعہ نہیں بل کہ تعلیم، کاروبار، روزگار، صحافت اور نوجوانوں کے مستقبل سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

راستوں کی بندش ختم کرنا بھی نئی حکومت کے لیے ایک اہم مرحلہ ہوگا۔ راستے صرف سڑکیں نہیں ہوتے، یہ لوگوں کے درمیان رابطے، تجارت، علاج، تعلیم اور روزگار کی راہیں بھی ہوتے ہیں۔ جب راستے بند ہوتے ہیں تو سب سے زیادہ مشکلات عام آدمی کو برداشت کرنا پڑتی ہیں۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ عوامی مشکلات کو فوری طور پر کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور ایسے تمام راستے کھولنے کی کوشش کرے جو عوامی زندگی اور معمولات میں رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔

یہاں ایک سیاسی حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ افتخار گیلانی کے بارے میں یہ تاثر موجود ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے منظورِ نظر ہیں۔ تاہم اقتدار میں آنے کے بعد کسی بھی وزیراعظم کی اصل آزمائش یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے سیاسی وجود کو محض کسی طاقت ور حلقے کی حمایت تک محدود رکھتا ہے یا اپنی کارکردگی کے ذریعے عوامی اعتماد حاصل کرتا ہے کیوں کہ سیاسی پشت پناہی اقتدار تک پہنچا سکتی ہے مگر عوامی مقبولیت صرف کارکردگی سے حاصل ہوتی ہے۔

ٹیکنوکریٹ نشست کو عوامی نشست میں بدلنا کوئی آسان کام نہیں۔ ٹیکنوکریٹ نشست ایوان تک پہنچنے کا راستہ فراہم کر سکتی ہے لیکن عوام کے دل تک پہنچنے کے لیے خدمت، کارکردگی، رابطہ اور مسائل کا حل درکار ہوتا ہے۔ جنرل نشست پر شکست کے بعد ٹیکنوکریٹ نشست کے ذریعے وزارتِ عظمیٰ تک پہنچنے والے افتخار گیلانی کے لیے یہ چیلنج مزید بڑا ہے کہ وہ اپنی حکومت کے ذریعے یہ ثابت کریں کہ ان کی سیاسی قوت صرف ایوان کے اندر نہیں بل کہ عوام کے درمیان بھی موجود ہے۔

راولاکوٹ کا دھرنا، انٹرنیٹ کی بحالی اور راستوں کی بندش دراصل ان کے لیے ایک سیاسی لٹمس ٹیسٹ ہیں۔ اگر وہ ان مسائل کو مذاکرات، مفاہمت اور سیاسی بصیرت سے حل کر لیتے ہیں تو یہ ان کے سیاسی سفر کی مضبوط بنیاد بن سکتی ہے۔ لیکن اگر یہ مسائل طول پکڑتے رہے تو عوامی بے چینی میں اضافہ ہوگا اور حکومت کے لیے مشکلات بھی بڑھیں گی۔ اس لیے ابتدائی دنوں میں کیے جانے والے ان کے فیصلے مستقبل کی سیاسی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

افتخار گیلانی کے پاس اب ایک اہم موقع ہے۔ وہ چاہیں تو ٹیکنوکریٹ نشست سے حاصل ہونے والی وزارتِ عظمیٰ کو محض ایک سیاسی بندوبست کے طور پر گزار دیں، یا پھر اپنی کارکردگی سے اسے عوامی قبولیت کے سفر میں تبدیل کر دیں۔ آزاد کشمیر کو اس وقت محض نیا وزیراعظم نہیں، ایک ایسی سیاسی سوچ درکار ہے جو اقتدار کو منزل نہیں، خدمت کا وسیلہ سمجھے اور عوامی مسائل کو سیاسی مفادات پر ترجیح دے۔

وقت ہمیشہ سب سے بڑا منصف ہوتا ہے۔ افتخار گیلانی آج وزیراعظم ہیں مگر تاریخ کل ان سے یہ نہیں پوچھے گی کہ وہ کس نشست سے ایوان میں پہنچے تھے۔ تاریخ یہ پوچھے گی کہ جب راولاکوٹ میں عوام سڑکوں پر تھے، جب راستے بند تھے، جب انٹرنیٹ کی بحالی کا مطالبہ ہو رہا تھا اور جب سیاسی اعتماد کا بحران موجود تھا، تب وزیراعظم نے عوام کے لیے کیا کیا۔ یہی فیصلے ان کی سیاسی شناخت اور مستقبل کا تعین کریں گے۔

وزیراعظم بن جانا شاید ایک سیاسی کامیابی ہو مگر وزیراعظم ثابت ہونا اصل امتحان ہے۔ افتخار گیلانی کے لیے یہ امتحان آج سے شروع ہو چکا ہے۔ اگر وہ عوامی اضطراب کو اطمینان میں، بند راستوں کو کھلے راستوں میں، خاموش رابطوں کو بحال مواصلات میں اور ٹیکنوکریٹ نشست کو عوامی اعتماد میں بدلنے میں کامیاب ہو گئے، تو شاید آنے والا وقت ان کے سیاسی سفر کو ایک مختلف نظر سے دیکھے۔ ورنہ اقتدار کی کرسی بدلتے دیر نہیں لگتی مگر عوام کے دل میں جگہ بنانے کے لیے پوری سیاسی زندگی بھی کم پڑ جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں