8

ٹیکنوکریٹ وزیراعظم :ابصار احمد اعوان

آزاد کشمیر میں گزشتہ تین سال سے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک جاری ہے اور اس وقت بھی راولاکوٹ میں دھرنا جاری ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مختلف مطالبات میں ایک اہم مطالبہ اہلِ کشمیر کو حقِ حکمرانی دینا ہے، جو کہیں نہ کہیں اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے صاحبِ اقتدار طبقے کے پاس ہے۔ یہ مطالبہ صرف جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا نہیں بلکہ آزاد کشمیر کی اصولی سیاسی قیادت بھی ہمیشہ سے اس کا مطالبہ کرتی آئی ہے۔ سردار خالد ابراہیم خان، جو غازیِ ملت کے فرزند اور آزاد کشمیر کے منجھے ہوئے سیاست دان تھے، انہوں نے بھی ہمیشہ یہی مطالبہ کیا کہ اہلِ کشمیر کو حقِ حکمرانی دیا جائے، کشمیر کے فیصلے اسلام آباد میں نہ ہوں بلکہ مظفرآباد میں اہلِ کشمیر کی منتخب قیادت خود کرے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آزاد کشمیر میں گزشتہ 79 سال سے اسی طرزِ عمل پر کسی نہ کسی شکل میں عمل درآمد ہو رہا ہے۔ شاید ماضی میں یہ طریقۂ کار اس طرح واضح نہیں تھا کہ عام آدمی بھی اس کا ادراک کر سکے، لیکن گزشتہ پانچ سالہ دورِ حکومت میں وہ تمام اقدامات جو کبھی مبہم ہوا کرتے تھے، اب اعلانیہ ہونے لگے ہیں۔ سیاسی طور پر نومولود شخصیات کو وزیراعظم بنائے جانا اور اس کے نتیجے میں ریاست کی سیاسی ساکھ کا متاثر ہونا اس کی ایک واضح مثال ہے۔
یہ بات درست ہے کہ اس وقت آزاد کشمیر میں سیاسی قیادت کا فقدان ہے۔ ایسی اصل سیاسی قیادت جو ڈٹ کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے حق کی بات کر سکے، جو اعلانیہ اپنی ریاست کا مقدمہ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے صاحبِ اقتدار طبقے کے سامنے پیش کر سکے، موجودہ دور میں کہیں نظر نہیں آتی۔ لیکن جو سیاسی قیادت موجود ہے، جو طویل عرصے سے سیاست میں ہے اور سیاسی تجربہ بھی رکھتی ہے، اسے بھی مسلسل پسِ پشت ڈالنا اور پھر ایسے نئے لوگوں کو، جو سیاسی سطح پر ابھی پختگی حاصل نہ کر سکے ہوں، محض ذاتی پسند اور تعلقات کی بنیاد پر اقتدار میں لانا، اگر سیاست کا دیوالیہ پن نہیں تو پھر اسے کیا کہا جائے؟
صرف یہی نہیں، جس شخص کو عوام نے مینڈیٹ ہی نہ دیا ہو، جو عوام کی عدالت سے شکست کھا چکا ہو، اسے ٹیکنوکریٹ کی نشست پر لانا، جبکہ وہ اس نشست کا حقدار نہ تھا، محض پسند کی بنیاد پر وزیراعظم بنانے کی راہ ہموار کرنا صرف ایک سیاسی عمل نہیں بلکہ سیاست کو دفنانے کے مترادف ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر عوامی مینڈیٹ کی اہمیت ختم کر دی جائے اور سیاسی جدوجہد و عوامی حمایت کے بجائے پسند، تعلقات اور مخصوص حلقوں کی مرضی فیصلہ کن بن جائے تو پھر جمہوری سیاست کی بنیاد کہاں باقی رہ جاتی ہے؟
جب ریاست جموں و کشمیر میں عوامی حقوق کی تحریک چل رہی ہو، لوگ اپنے بنیادی حقوق کے لیے سڑکوں پر ہوں اور اسی معاہدے پر عمل درآمد کا مطالبہ کر رہے ہوں جس پر موجودہ حکومت نے گزشتہ سال ستمبر میں خود اتفاق کیا تھا، تو ایسے وقت میں ریاستی سیاسی نظام کے فیصلے انتہائی احتیاط اور سیاسی بصیرت کے متقاضی ہوتے ہیں۔ 5 جون 2026 سے اب تک جو کچھ ہوا، گزشتہ تین ماہ کے دوران جس خونریزی کا سامنا کرنا پڑا، درجنوں جانیں ضائع ہوئیں، سینکڑوں لوگ گرفتار ہوئے اور آج بھی پونچھ ڈویژن کی سطح پر کرفیو ہے، اس پوری صورتحال کے باوجود آزاد کشمیر میں ڈھونگ الیکشنز منعقد کیے گئے اور ان کے نتیجے میں من پسند لوگوں کو سلیکٹ کیا گیا۔ کوششوں کے باوجود جو من پسند لوگ کامیاب نہ ہو سکے، انہیں ٹیکنوکریٹ کی نشست پر لایا گیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آزاد کشمیر میں حکمران جماعت کے پاس ان افراد کے علاوہ کوئی ایسا شخص موجود ہی نہیں تھا جو ٹیکنوکریٹ کی نشست کے لیے اہل ہوتا۔
ٹیکنوکریٹ کی نشست سے وزیراعظم کی نامزدگی تک کا یہ پورا عمل بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کیا یہ کوئی سیاسی فیصلہ ہے؟ کیا یہ سیاست کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے؟ کیا یہ ریاست کے استحکام کی کوشش ہے؟ اگر حقیقتاً دیکھا جائے تو اس پورے عمل میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی جو سیاست کے لیے مفید، ریاست کے لیے کارگر یا سیاسی نظام کے استحکام کے لیے معاون ہو۔ بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوامی حقوق کی تحریک کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے باوجود ایک ایسا طرزِ عمل اختیار کیا جا رہا ہے جو مستقبل کو مزید تاریک کرنے کے مترادف ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف ریاست کی سیاست کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ تحریکِ آزادیِ کشمیر کو بھی نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی قیادت کے ساتھ کیا جانے والا یہ طرزِ عمل کہیں ان گناہوں کی سزا تو نہیں جو ماضی میں یہی قیادت خود کرتی رہی ہے؟ جب سردار خالد ابراہیم خان ہر فورم پر حقِ حکمرانی کی آواز بلند کر رہے تھے تو کسی نے ان کا بھرپور ساتھ نہیں دیا بلکہ سب اقتدار کے مزے لوٹتے رہے اور اپنی باری کا انتظار کرتے رہے۔ سردار خالد ابراہیم خان نے ججز کی تعیناتی کے حوالے سے ایک واضح مؤقف اختیار کیا، جس پر انہیں توہینِ عدالت کا نوٹس بھی جاری ہوا، لیکن اس موقع پر بھی اسمبلی میں موجود یہی سیاسی قیادت خاموش تماشائی بنی رہی۔ کسی کو یہ جرأت نہیں ہوئی کہ وہ کھل کر ان کے مؤقف کی حمایت کرتا یا ریاست کے حق میں کوئی واضح آواز بلند کرتا۔
پھر کشمیر کے مستقبل سے متعلق ایسے فیصلے بھی سامنے آئے جنہیں کشمیری حلقوں نے کشمیر کے مفاد کے خلاف قرار دیا۔ اس موقع پر بھی یہی سیاسی قیادت وقتی بیان بازی سے آگے نہ بڑھ سکی اور اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے خاموش رہی۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے، یقینا اس سیاسی قیادت کو سوچنا چاہیے کہ کہیں یہ ان کے ماضی کے اعمال کی سزا تو نہیں؟ کہیں اپنے ذاتی اقتدار کے حصول کی کوششوں میں کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کا صلہ تو نہیں مل رہا؟
آزاد کشمیر میں اگر کوئی سیاسی طور پر میچور قیادت موجود ہے، اگر ایسے سیاسی کارکن موجود ہیں جو سیاست کو محض اقتدار کا ذریعہ نہیں بلکہ ریاستی مفاد کا راستہ سمجھتے ہیں تو ان کے لیے بھی یہ ایک بڑا امتحان ہے۔ انہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ موجودہ حالات اور ان فیصلوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور ان پر کس طرح کا ردِعمل دیتے ہیں۔ اگر آج بھی خاموشی اختیار کی گئی تو یہ خاموشی شاید ہمیشہ کے لیے سیاسی کردار کو لے ڈوبے گی۔ اگر آج سیاست ان مصلحتوں، ذاتی تعلقات اور اقتدار کی خواہشات کی نذر ہو گئی تو کل حالات اس سے بھی زیادہ خراب ہوں گے۔
ریاست بچانی ہے تو اصولی سیاست اپنانا ہوگی۔ اگر ہر معاملے پر سمجھوتہ کر لیا گیا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ کل ریاست کے بنیادی تشخص اور حیثیت پر بھی سمجھوتہ کرنا پڑے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آنے والی نسلیں آزاد کشمیر کو اس کے موجودہ سیاسی تشخص کے بجائے کسی صوبے یا وفاقی اکائی کی صورت میں دیکھنے پر مجبور ہو جائیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ اہلِ بصیرت لوگ غور کریں کہ جو کچھ آزاد کشمیر میں ہو رہا ہے، وہ ریاست کے سیاسی نظام کے لیے کس قدر مفید یا نقصان دہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں