ڈاکٹرمریم ادریس جیت گئی ہیں
سیاست میں کامیابی صرف ووٹوں کی گنتی کا نام نہیں۔ بعض اوقات ایک کامیابی اپنے اندر ایک پوری سوچ، ایک نئے امکان اور مستقبل کی ایک خوب صورت تصویر لیے ہوتی ہے۔ ڈاکٹر مریم ادریس کی کامیابی بھی ایسی ہی کامیابی ہے۔
مگر میری نظر میں ان کی اصل جیت انتخابی میدان میں کامیابی سے کہیں آگے ہے۔ ان کی جیت اس خیال کی جیت ہے کہ سیاست میں تعلیم، قابلیت، تجربہ اور میرٹ بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ اس سوچ کے لیے ایک مضبوط دلیل ہے کہ ایوانوں میں صرف روایتی سیاسی پس منظر رکھنے والے افراد ہی نہیں بلکہ یونیورسٹیوں، تحقیق، ٹیکنالوجی اور جدید علوم سے وابستہ لوگ بھی پہنچنے چاہییں۔
یہ بات خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے ڈاکٹر مریم ادریس کا خود انٹرویو کیا اور ان کی تعلیمی قابلیت، تجربے اور صلاحیتوں کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں پارٹی ٹکٹ دیا۔ اگر واقعی سیاسی فیصلوں میں ایسے معیار کو مستقل بنیاد بنایا جائے تو ہماری سیاست کا مزاج تبدیل ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔
ڈاکٹر مریم ادریس مینجمنٹ سائنسز میں پی ایچ ڈی ہیں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی تجربہ رکھتی ہیں۔ یہ امتزاج انہیں محض ایک سیاسی شخصیت نہیں بلکہ جدید دور کے تقاضوں کو سمجھنے والی ایک ممکنہ قانون ساز بناتا ہے۔
آج کی دنیا میں پارلیمنٹ میں بیٹھنے والے نمائندے کے سامنے صرف سڑک، گلی، نالی اور بجلی کے مسائل نہیں ہوتے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، سائبر سکیورٹی، نوجوانوں کے روزگار، آن لائن تعلیم، جدید صنعت، تحقیق، ماحولیاتی تبدیلی اور عالمی معاشی مسابقت جیسے موضوعات بھی قانون سازی کا حصہ بن چکے ہیں۔
ایسے میں اگر ایک پی ایچ ڈی خاتون، جو مینجمنٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی دونوں شعبوں کو سمجھتی ہو، قانون ساز اسمبلی میں پہنچ گئی ہے تو یہ خوش آئند تبدیلی ہے۔
مریم ادریس کی کامیابی کا ایک اور خوب صورت پہلو خواتین کے سیاسی کردار سے متعلق ہے۔ ہماری خواتین ملک کی یونیورسٹیوں میں نمایاں کارکردگی دکھا رہی ہیں، ڈاکٹر بن رہی ہیں، انجینئر بن رہی ہیں، پی ایچ ڈی کر رہی ہیں، تحقیق کر رہی ہیں، ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا سے مقابلہ کر رہی ہیں، لیکن سیاست کے میدان میں ان کی نمائندگی اب بھی ان کی صلاحیت کے تناسب سے کم دکھائی دیتی ہے۔
اس لیے ڈاکٹر مریم ادریس کا آگے آنا صرف ایک خاتون کی کامیابی نہیں، بلکہ ان ہزاروں تعلیم یافتہ لڑکیوں کے لیے ایک پیغام ہے جو یہ سوال کرتی ہیں کہ کیا ان کی اعلیٰ تعلیم انہیں عملی زندگی میں فیصلہ سازی کے مراکز تک بھی لے جا سکتی ہے؟
جواب ہے: ہاں، بالکل لے جا سکتی ہے۔
مگر یہاں ایک سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ کیا ڈاکٹر مریم ادریس کی جیت کو صرف ایک سیاسی کامیابی بنا کر چھوڑ دیا جائے گا یا اسے ایک نئے سیاسی کلچر کی بنیاد بنایا جائے گا؟
اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔
عوام یا عوامی نمائندوں نے کسی بھی نمائندے کو منتخب کیا ہو، اس کے بعد اس سے توقع یہی ہوتی ہے کہ وہ پارٹی، برادری اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اپنے حلقے اور خطے کے مسائل کو ایوان میں مؤثر انداز میں پیش کرے۔ ڈاکٹر مریم ادریس سے بھی یہی توقع وابستہ ہوگی کہ وہ اپنی علمی قابلیت کو عملی قانون سازی میں تبدیل کریں گی۔
آزاد کشمیر کو تعلیم، روزگار، سیاحت، ٹیکنالوجی، ماحولیاتی تحفظ اور نوجوانوں کے مستقبل جیسے کئی اہم چیلنجز درپیش ہیں۔ اگر ڈاکٹر مریم ادریس اپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو ان مسائل کے حل کے لیے بروئے کار لاتی ہیں تو ان کی کامیابی ایک فرد کی کامیابی سے بڑھ کر ایک ادارہ جاتی مثال بن سکتی ہے۔
وہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی پہلی پی ایچ ڈی رکن ہونے کا اعزاز حاصل چکی ہیں تو یہ صرف ایک خبر نہیں ہے؛ یہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک حوالہ ہے۔
ہمیں اپنی سیاست میں ایسے ہی حوالوں کی ضرورت ہے۔
ہمیں ایسے نوجوان چاہیے جو کتاب سے بھی جڑے ہوں اور معاشرے سے بھی۔ ہمیں ایسی خواتین چاہیے جو تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل کو سمجھتی ہوں۔ ہمیں ایسے سیاست دان چاہیے جو تقریروں کے بجائے پالیسی، نعروں کے بجائے منصوبہ بندی اور شخصیت پرستی کے بجائے ادارہ سازی کی بات کریں۔
ڈاکٹر مریم ادریس کی کامیابی ہمیں یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ ہم سیاست کو ایک نئے زاویے سے دیکھیں۔
یہ سوال نہ کریں کہ وہ کس کی امیدوار ہیں؛ یہ بھی پوچھیں کہ وہ کیا جانتی ہیں، کیا کر سکتی ہیں اور کیا تبدیلی لا سکتی ہیں۔
کیونکہ کسی بھی جمہوریت کی اصل طاقت صرف ووٹ کی پرچی نہیں ہوتی، بلکہ ووٹ کے بعد ایوان میں پہنچنے والی قابلیت بھی ہوتی ہے۔
ڈاکٹر مریم ادریس جیت گئی ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کی جیت صرف ایک انتخاب کی جیت ثابت ہوتی ہے یا میرٹ، تعلیم، خواتین کی باوقار سیاسی نمائندگی اور جدید سوچ کی بھی جیت بن جاتی ہے۔
اگر ایسا ہوا تو یقیناً ڈاکٹر مریم ادریس کی کامیابی کو آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک خوش آئند موڑ کے طور پر یاد کیا جائے گا۔
اور شاید آنے والے کل میں کسی باصلاحیت طالبہ کو سیاست میں آنے کے لیے سفارش نہیں، اپنی ڈگری، قابلیت اور کردار پر اعتماد ہوگا۔
یہی مریم ادریس کی سب سے بڑی جیت ہوگی۔












