ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کیلئے تین بار گھر گیا، لچک دکھائی جاتی تو پونچھ سانحہ نہ ہوتا، وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور
آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہو سکتی ہے، مسلم لیگ (ن) نئی حکومت بننے کے بعد اس معاملے کو سنجیدگی سے حل کرے: فیصل ممتاز راٹھور
اسلام آباد (خبرنگار)وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور سے کشمیر جرنلسٹس فورم( KJf )کے وفد نے ایک خصوصی ملاقات کی، وفد میں صدر کے جے ایف سردار عرفان سدوزئی زاہد اکبر عباسی بشیر عثمانی محمد اقبال اعوان خالد شاہ گردیزی ,مقصود منتظر سردار عمران اعظم سید علی حسین نقوی شیراز گردیزی عابد ہاشمی فوزیہ علی،قاضی صغیر راجہ رئیس الرحمان، صداقت عباسی، سید عمر گردیزی فیصل عظیم شامل تھے اس موقع پر پریس سیکرٹری وزیراعظم راجہ آصف راٹھور بھی موجود تھے وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور سے آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات، حالیہ انتخابات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر کھل کر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ انہوں نے بحران کے حل کے لیے ایکشن کمیٹی کے ایک اہم رہنما کے گھر خود تین مرتبہ دورے کیے اور متعدد بار ٹیلی فون پر بھی رابطہ کیا، تاکہ مذاکرات کے ذریعے معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کیا جا سکے۔ ان کے مطابق مقتدر حلقوں کی حمایت بھی اس کوشش کے پیچھے شامل تھی اور وہ مسلسل یہ باور کرا رہے تھے کہ ریاست سختی کی طرف جا سکتی ہے لہٰذا افہام و تفہیم کا راستہ اپنایا جائے، تاہم ایک مرحلے پر انہیں جواب دیا گیا کہ وہ درمیان سے ہٹ جائیں پھر بات ہوگی۔ فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا تھا کہ ایک موقع پر معاملات کو سمیٹنے کے لیے نشستوں کی پیشکش بھی کی گئی لیکن ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے ان کا مشورہ نہیں مانا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اگر اس وقت بروقت لچک دکھائی جاتی تو پونچھ کے تلخ سانحات سے بچا جا سکتا تھا اور قیمتی جانوں کے ضیاع کا المناک سانحہ رونما نہ ہوتا۔ اب پونچھ میں ان قیمتی جانوں کے ضیاع کا ذمہ دار کون ہے؟حلقہ حویلی کے انتخابات سے متعلق الزامات پر دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ حویلی آزاد کشمیر کا واحد حلقہ ہے جہاں انتخابات کے دوران کوئی فائرنگ نہیں ہوئی، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی لاش گِری۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس حلقے میں انتخابات کے دوران مہینہ مہینہ ہڑتالیں اور بندشیں رہتی تھیں مگر ان کے دورِ حکومت میں پیپلز پارٹی کی طرف سے الیکشن میں کوئی مداخلت نہیں کی گئی۔ انہوں نے مخالفین کو چیلنج کیا کہ جنہیں دھاندلی کی شکایت ہے وہ الیکشن ٹریبونل سمیت تمام آئینی و قانونی فورمز سے رجوع کر سکتے ہیں اور وہ عدالت کے ہر فیصلے کو من و عن قبول کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت اقتدار کے حصول کی جلد بازی میں انتخابات کی طرف گئی، اور چوہدری انوارالحق کی قیادت میں جو حکومت قائم ہوئی اس نے نظام میں مزید خرابیاں پیدا کیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ‘ٹروتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کمیشن کے قیام کے لیے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے بھی بات کی گئی تھی مگر اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل راٹھور نے زور دیا کہ آزاد کشمیر کا روایتی فرسودہ نظام اب مزید نہیں چل سکتا۔ ہمیں فرسودہ طریقوں سے نکل کر سیاحت اور زراعت (ایگریکلچر) کے فروغ کے ذریعے خطے کی ترقی کا سفر شروع کرنا ہوگا۔ آزاد کشمیر محض تحریک آزادی کا بیس کیمپ ہونے کے روایتی تصور سے آگے بڑھ کر حقیقی معنوں میں تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا تبھی اس بیس کیمپ کی اصطلاح کے حقیقی معنی اجاگر ہوں گے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ نئی حکومت کے قیام کے بعد خاص طور پر 5 جون کے بعد کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے تمام مسائل کا پائیدار حل نکالا جائے گا۔
23











