بچوں کا دل نہایت نرم اور حساس ہوتا ہے۔ اگر ماحول یا رویہ درست نہ ہو تو یہی بچہ آہستہ آہستہ ڈرپوک اور غیر پراعتماد بن سکتا ہے۔ والدین کے چند رویے ایسے ہوتے ہیں جو انجانے میں بچے کے اندر خوف پیدا کر دیتے ہیں۔
وہ 5 چیزیں جو بچے کو ڈرپوک بنا دیتی ہیں:
1. ہر وقت ڈرانا اور دھمکانا
“اگر یہ نہ کیا تو مار پڑے گی” یا “پولیس آ جائے گی” جیسے جملے بچے کے دل میں مستقل خوف پیدا کر دیتے ہیں۔ اس سے بچہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔
2. حد سے زیادہ ڈانٹ ڈپٹ
بار بار سختی سے ڈانٹنے سے بچہ اعتماد کھو دیتا ہے۔ وہ ہر کام کرنے سے پہلے ڈرنے لگتا ہے کہ کہیں غلطی نہ ہو جائے۔
3. بچوں کو خود سے کام نہ کرنے دینا
جب بچے کو ہر کام میں روکا جائے یا کہا جائے کہ “تم نہیں کر سکتے”، تو وہ خود پر یقین کھو دیتا ہے اور ہر نئی چیز سے ڈرنے لگتا ہے۔
4. دوسروں کے سامنے شرمندہ کرنا
اگر بچے کو لوگوں کے سامنے ڈانٹا یا نیچا دکھایا جائے تو وہ اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔ اس کی خود اعتمادی کم ہو جاتی ہے اور وہ لوگوں سے گھبرانے لگتا ہے۔
5. حد سے زیادہ حفاظت (Overprotection)
ہر وقت بچے کو خطرات سے ڈراتے رہنا یا اسے ہر چیز سے بچا کر رکھنا بھی نقصان دہ ہے۔ اس سے بچہ دنیا کا سامنا کرنے سے ڈرتا ہے اور خود پر بھروسہ نہیں کر پاتا۔
یاد رکھیں، بچے کو بہادر بنانے کے لیے اسے محفوظ ماحول کے ساتھ ساتھ اعتماد بھی دینا ضروری ہے۔ محبت، حوصلہ افزائی اور چھوٹی چھوٹی آزادی بچے کے اندر ہمت اور خود اعتمادی پیدا کرتی ہے۔
تحریر کو صدقہ جاریہ اور اللہ کی رضا کی نیت سے اپنے عزیز و اقارب اور مقامی گروپس میں شیئر کیجئے ہو سکتا ہے آپ کی تھوڑی سی محنت یا کوشش











