10

خاموش قتلِ عام اور ہماری اجتماعی بے حسی ​تحریر: رفیع صحرائی

گزشتہ شب ہمارے قریبی شہر کنگن پور میں رات گئے موٹر سائیکل پر مشکوک گوشت نظر آنے پر لوگوں نے روکنے کی کوشش کی تو نامعلوم موٹر سائیکل سوار گوشت پھینک کر فرار ہو گئے۔ چیک کرنے پر گوشت گدھے کا نکلا۔
یہ حرام گوشت کی ترسیل کا پہلا واقعہ نہیں۔ آج کل شدید حبس کا موسم چل رہا ہے۔ برائلر مرغیاں سپلائی کے دوران مرنے کی خبریں ہیں جو ہوٹلوں اور فاسٹ فوڈ پوائنٹس کے علاوہ بعض گوشت کے پھٹوں پر بھی نصف قیمت میں فروخت کر دی جاتی ہیں۔ آئے روز کئی کئی من مردہ مرغیاں ہوٹلوں وغیرہ کو فروخت کے لیے لوڈر پر لے جاتے ہوئے لوگ گرفتار ہوتے ہیں مگر ناقص قانونی نظام اور کمزور تفتیش کا فائدہ اٹھا کر چند روز بعد ضمانت پر رہا ہو کر پھر سے وہی مکروہ دھندا شروع کر دیتے ہیں۔ شاید ہی ہماری تاریخ میں کوئی ایسا واقعہ ہوا کہ کسی مردہ گوشت بیچنے والے کو عبرتناک سزا ہوئی ہو۔
​خوراک انسانی زندگی کی بقا، جسمانی نشوونما اور ایک صحت مند، فعال معاشرے کی تشکیل کے لیے سب سے بنیادی اور لازمی ضرورت ہے۔ اگر خوراک ہی محفوظ نہ رہے تو زندگی کی تمام تر رعنائیاں، ترقی کے دعوے اور خوشحالی کے نعرے یکسر بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں۔ مگر انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے ملک میں جب یہی خوراک انسانی صحت کے لیے زہرِ قاتل، جان لیوا بیماریوں کا پیش خیمہ اور شہریوں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرے کا سبب بن جائے، تو یہ محض کوئی عام کاروباری بدعنوانی، گراں فروشی یا مالیاتی دھوکہ دہی نہیں رہتی؛ بلکہ یہ انسانیت کے خلاف ایک بھیانک جرم، اخلاقی دیوالیہ پن اور ریاستی قوانین کی کھلی خلاف ورزی بن جاتی ہے۔
​پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے غیر معیاری، مضرِ صحت، کیمیکل زدہ اور ملاوٹ شدہ اشیائے خورونوش کی کھلے عام فروخت ایک ایسا کوڑھ بن چکی ہے جس نے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ملک کا شاید ہی کوئی ایسا قصبہ، گوٹھ یا شہر ہو جہاں کے شہری خالص اور محفوظ خوراک بلا خوف و خطر حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔
​ہمارے بازاروں کا جائزہ لیں تو دل دہل جاتا ہے۔ مردہ مرغیوں کا تعفن زدہ گوشت، کیمیکل لگا باسی اور بیمار جانوروں کا گوشت، پاؤڈر، صابن، یوریا اور زہریلے کیمیکلز سے تیار کردہ مصنوعی دودھ، کینسر پیدا کرنے والے غیر معیاری و جعلی مصالحہ جات، زہریلے مشروبات، جانوروں کی آلائشوں سے کشید کردہ بدبودار آئل و گھی اور استعمال کی آخری تاریخ ختم شدہ اشیاء کا غیر قانونی ری پیکنگ نیٹ ورک بلا روک ٹوک پھیل چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے چھوٹے بڑے ہسپتال گیسٹرو، گردوں کی خرابی، کینسر، جگر کی ہلاکت خیز بیماریوں اور دل کے عارضے میں مبتلا مریضوں سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ ایک ایسا خاموش قتلِ عام ہے جس کی کوئی گنتی ہو رہی ہے اور نہ ہی اس کے قاتلوں کو سزائے موت مل رہی ہے۔
​حکومتوں کے بلند بانگ دعوؤں، فوڈ اتھارٹیز کے نام نہاد چھاپوں اور انتظامی احکامات کے باوجود اس خونی کاروبار کا مکمل خاتمہ تو درکنار، اس کی رفتار میں بھی کوئی نمایاں کمی واقع نہیں ہو سکی۔ اس سنگین اور بھیانک تناظر میں لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے مردہ مرغیوں کا گوشت فروخت کرنے کے سنگین جرم میں ملوث ایک ملزم کی درخواستِ ضمانت مسترد کرتے ہوئے یہ دوٹوک قرار دینا کہ “انسانی جانوں سے کھیلنے والے ایسے گھناؤنہ جرائم میں ملوث افراد کو کسی صورت کھلی چھوٹ یا رعایت نہیں دی جا سکتی”، ایک انتہائی بروقت، جرات مندانہ اور چشم کشا عدالتی موقف ہے۔
​عدالتِ عالیہ کا یہ فیصلہ دراصل اس تلخ سچائی کی طرف پوری ریاست کی توجہ مبذول کرواتا ہے کہ خوراک میں ملاوٹ یا زہریلی اشیاء کی فروخت کو معمولی دفعات کے تحت دیکھنا یا چند ہزار روپے جرمانہ کر کے مجرموں کو چھوڑ دینا دراصل کروڑوں بے گناہ شہریوں کی صحت اور زندگی کے ساتھ صریح ناانصافی اور عدل کے تقاضوں کا خون کرنے کے مترادف ہے۔ جو عناصر محض چند روپے کے اضافی منافع یا لالچ کی خاطر معصوم بچوں اور شہریوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگاتے ہیں، وہ درحقیقت پورے معاشرے کے اجتماعی امن، اعتماد اور مستقبل کو داغدار کرتے ہیں۔
​مضرِ صحت اور غیر معیاری خوراک کا یہ خوفناک مسئلہ دراصل چند دکانداروں، چھابڑی فروشوں، ہوٹل مالکان یا قصابوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے ایک منظم، بااثر اور کثیر الجہتی مافیا اور غیر قانونی پروڈکشن نیٹ ورک پوری طاقت سے سرگرمِ عمل ہے۔
​یہ امر بھی گہرے تفکر اور سنجیدہ خود احتسابی کا تقاضا کرتا ہے کہ صوبائی فوڈ سیفٹی اتھارٹیز اور ضلعی انتظامیہ وقتاً فوقتاً بازاروں اور فیکٹریوں پر چھاپے مارتی ہیں، ہزاروں کلو مضرِ صحت گوشت و اشیاء ضبط کرنے کے دعوے کیے جاتے ہیں، دکانیں اور کارخانے سیل ہوتے ہیں اور چند نچلے درجے کے افراد کو کیمروں کے سامنے ہتھکڑیاں لگا کر پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان نمائشی کارروائیوں کے بعد کتنے مقدمات کو مضبوط سائنسی اور دستاویزی شواہد کے ساتھ عدالتوں میں منطقی انجام تک پہنچایا جاتا ہے؟ کتنے بااثر ملزمان کو واقعی سخت سزائیں ملتی ہیں؟ کتنے تجارتی اور صنعتی مراکز مستقل طور پر قانون کی گرفت میں آتے ہیں؟ اور کتنے ایسے عناصر ہیں جو کچھ عرصے کی خاموشی کے بعد رشوت یا قانونی کمزوریوں کا سہارا لے کر دوسری گلی یا دوسرے محلے میں وہی کاروبار پھر سے چمکانے لگتے ہیں؟ اگر ان بنیادی سوالات کے کوئی ٹھوس اور تسلی بخش جوابات موجود نہیں ہیں تو پھر یہ تمام تر کارروائیاں محض اخباری بیانات، وقتی پبلیسٹی اور خانہ پوری بن کر رہ جاتی ہیں جس کا زمین پر کوئی مثبت اثر مرتب نہیں ہوتا۔
​اس دلدوز صورتِ حال سے نظام کو پاک کرنے کے لیے محض روایتی چھاپے کافی نہیں، بلکہ ریاست کو فوری طور پر سخت قانون سازی کرنا ہو گی اور ان مکروہ دھندوں میں ملوث افراد کے لیے سخت ترین اور عبرتناک سزائیں تجویز کر کے اس زہریلے کاروبار کا قلع قمع کرنے کے لیے عملی قدم اٹھانا ہو گا۔ اس سلسلے میں ملاوٹ اور مضرِ صحت خوراک کی تیاری و فروخت کو ناقابلِ ضمانت جرم قرار دے کر کم از کم سزا دس سال سے لے کر عمر قید تک کر دی جائے تو بہت اچھا فیصلہ ہو گا۔
​فوڈ سیفٹی کے مقدمات کے لیے الگ سے تیز رفتار عدالتیں قائم کی جائیں جو ایک سے دو ماہ کے اندر کیس کا فیصلہ سنائیں تاکہ مجرموں کو جلدی سزا مل سکے۔ ہر ضلع کی سطح پر عالمی معیار کی فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریز بنائی جائیں جہاں موقع پر ہی موبائل ٹیمیں دودھ، گوشت اور مصالحہ جات کے نمونوں کی سائنسی تصدیق کر سکیں تاکہ عدالت میں نا قابلِ تردید شواہد پیش کیے جا سکیں۔ منڈیوں، سلاٹر ہاؤسز (ذبح خانوں) اور فارمز پر کیمروں اور ڈجیٹل ٹیگنگ کا نظام نافذ کیا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ گوشت یا دودھ کہاں سے آ رہا ہے اور کہاں جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ شہریوں کو ملاوٹ شدہ خوراک کی نشاندہی پر انعام دیا جائے اور ان کی شناخت خفیہ رکھی جائے تاکہ عوام خود بھی اس مافیا کے خلاف مخبر بن سکیں۔
​اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فوڈ مافیا کو “دہشت گرد” تسلیم کریں۔ جو شخص پانی میں زہر ملاتا ہے یا مردہ جانور کا گوشت کھلا کر کسی کے گردے اور جگر تباہ کرتا ہے، وہ کسی مسلح دہشت گرد سے کم نہیں ہے۔ اگر اب بھی سخت ترین اقدامات نہ کیے گئے تو ہماری آنے والی نسلیں بیماریوں کا گڑھ بن جائیں گی اور ہم ایک بیمار قوم کے روپ میں دنیا کے سامنے رسوا ہوتے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں