16

جامع مسجد کے منبرو محراب کو خاموش کرانے کی پابندیاں بظاہر ریاستی پالیسی کا حصہ ہیں،میرواعظ

سری نگر ( نیوز ایجنسیاں )میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نےتاریخی جامع مسجد سرینگر میں نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً دو ہفتوں تک عائد پابندیوں کے بعدجس دوران انہیں جامع مسجد میں خطبۂ جمعہ دینے سے روکا گیا اور تاریخی آستانہ عالیہ نقشبند صاحبؒ میں منعقد ہونے والی بابرکت خوجۂ دگر کی روایتی تقریب سے خطاب کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی، آج میں ایک مرتبہ پھر عوام کے درمیان حاضر ہونے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔میرواعظ نے کہا کہ عوام کے درمیان موجود ہونے کا ہر موقع وہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت سمجھتے ہیں کیونکہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جامع مسجد کے منبر پر پابندیاں عائد کرنا اور اس کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کرنا بظاہر اس وقت ریاستی پالیسی کا حصہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں صبر و استقامت سے کام لیتے ہوئے جس حد تک ممکن ہو، خیر اور اصلاح کا کام جاری رکھنا ہی ایک مؤمن کا شیوہ ہے۔میرواعظ نے ان افراد کو مخاطب کرتے ہوئے، جو ان پابندیوں کا نفاذ کرتے ہیں اور شاید وہ اس تاریخی منبرومحراب کی اہمیت سے پوری طرح واقف نہیں ہیں کہا کہ یہ منبر صدیوں سے افراد کی دینی و اخلاقی تربیت اور معاشرے کی مثبت تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا آیا ہے۔ اس نے ہمیشہ لوگوں میں نہ صرف ان کے حقوق بلکہ ان کی ذمہ داریوں اور فرائض کے بارے میں بھی شعور اور بیداری پیدا کی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب بھی ضرورت پیش آئی، یہی منبر عوام کی ایک مضبوط آواز بنا، ان کے مسائل اور خدشات کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا اور ان کی جائز امنگوں اور مطالبات کی موثرترجمانی کی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے مختلف طبقات اور برادریوں کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کو فروغ دیا اور اقلیتوں کے حقوق کی پُر زور وکالت کی۔میرواعظ نے کہا کہ اس منبر کا طریقۂ کار ہمیشہ اسلامی تعلیمات کے مطابق رہا ہےامن، اصول پسندی اور وقار کے ساتھ تصادم کے بجائے مکالمے کو ترجیح دینا، اور شخصیات کے بجائے مسائل کو بنیاد بنا کر گفتگو کرنا۔انہوںنے کہا” کہ ان شاء اللہ، جب بھی موقع فراہم کیا جائے گا، یہ منبر آئندہ بھی اسی ذمہ داری کو ادا کرتا رہے گا۔ یہ ہمارے اسلاف کی عظیم میراث اور جموں و کشمیر کے عوام کی مشترکہ امانت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں