17

ایک قانون، دو معیار؟ :حمید علی

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے سابق وزیرِاعظم عمران خان کو طبی بنیادوں پر اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت محض ایک عدالتی حکم نہیں، بل کہ ہمارے نظامِ انصاف، سیاسی برداشت اور انسانی حقوق کا ایک بڑا امتحان ہے۔ یہ سوال صرف عمران خان کا نہیں، بل کہ اس اصول کا ہے کہ پاکستان میں قانون سب کے لیے برابر ہے یا سیاسی وابستگی کے ساتھ اس کا معیار بھی بدل جاتا ہے؟

اگر ایک سابق وزیرِاعظم بیماری کی حالت میں بہتر علاج کے لیے بیرونِ ملک جا سکتا ہے تو دوسرے سابق وزیرِاعظم کو اپنے ہی ملک کے ایک معیاری ہسپتال میں علاج کی سہولت دینے میں تردد کیوں؟ اگر بیماری کی بنیاد پر انسانی ہمدردی کا دروازہ کسی ایک کے لیے کھل سکتا ہے تو دوسرے کے لیے وہی دروازہ بند کیوں ہو؟ یہی وہ سوال ہے جو آج عوام کے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے۔

ہمیں ماضی کا ایک اہم واقعہ یاد رکھنا چاہیے۔ سابق وزیرِاعظم میاں نواز شریف کو جیل میں قید کے دوران طبی بنیادوں پر علاج کے لیے بیرونِ ملک، لندن جانے کی اجازت دی گئی تھی۔ وہ لندن گئے، وہاں علاج ہوا اور ایک طویل عرصے تک بیرونِ ملک مقیم رہے۔ اس وقت بیماری کو انسانی اور طبی مسئلے کے طور پر دیکھا گیا۔ آج اگر عمران خان کی صحت کے بارے میں جیل حکام کی میڈیکل رپورٹ میں تشویش ظاہر کی جا رہی ہے اور عدالتِ عظمیٰ نے بھی انہیں شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے تو پھر اصول کا اطلاق یکساں ہونا چاہیے۔

یہاں کسی فرد کی حمایت یا مخالفت سے زیادہ اہم سوال دوہرے معیار کا ہے۔ اگر نواز شریف کے لیے بیماری علاج اور انسانی ہمدردی کا جواز بن سکتی تھی تو عمران خان کے لیے بھی بیماری کو اسی نظر سے دیکھا جانا چاہیے۔ اگر اس وقت حکومت نے ایک سابق وزیرِاعظم کی طبی ضرورت کو تسلیم کیا تھا تو آج موجودہ حکومت سے بھی اسی کشادہ دلی کی توقع کی جا سکتی ہے۔

یہ دلیل بھی درست نہیں کہ عمران خان اور نواز شریف کے مقدمات، حالات یا قانونی معاملات مختلف تھے، اس لیے تقابل نہیں کیا جا سکتا۔ یقیناً ہر مقدمے کے اپنے قانونی حقائق ہوتے ہیں اور عدالتیں انہی حقائق کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں۔ لیکن انسانی صحت، بنیادی طبی سہولت اور ایک بیمار قیدی کے ساتھ مناسب سلوک کا اصول کسی ایک سیاسی جماعت کے لیے مخصوص نہیں ہونا چاہیے۔ قانون کی روح یہی ہے کہ اصول شخصیات کے تابع نہ ہوں۔

عمران خان سابق وزیرِاعظم ہیں، لیکن اس وقت سب سے پہلے ایک قیدی اور ایک مریض ہیں۔ اگر ان کی صحت واقعی تشویش ناک ہے تو ان کے علاج میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے پیش کی گئی میڈیکل رپورٹ میں ہسپتال منتقل کرنے کی سفارش اور پھر عدالتِ عظمیٰ کی ہدایت اس معاملے کی سنجیدگی کو مزید واضح کرتی ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ عمران خان کے علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال کا میڈیکل پینل تشکیل دیا جائے، جس میں ان کے فیملی ڈاکٹر ڈاکٹر عاصم اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ بھی شامل ہوں۔ اہلِ خانہ کو ہفتہ وار ملاقات کی اجازت دینے کی ہدایت بھی ایک اہم انسانی پہلو رکھتی ہے۔ بیماری کے دوران خاندان سے رابطہ مریض کے حوصلے اور ذہنی سکون کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

حکومت کو اب سیاسی مصلحتوں سے بلند ہو کر فیصلہ کرنا ہوگا۔ عدالت کا حکم اپنی جگہ، مگر اس سے بڑھ کر انسانی زندگی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ علاج کے معاملے میں کوئی کوتاہی نہ ہو۔ اگر عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جانا ہے تو یہ عمل غیر ضروری تاخیر، سیاسی بیان بازی یا انتظامی رکاوٹوں کے بغیر مکمل ہونا چاہیے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی سیاست میں اقتدار کی کشمکش نے بارہا سیاسی مخالفین کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کیا ہے۔ آج جو جماعت حکومت میں ہے، کل وہ اپوزیشن میں ہو سکتی ہے؛ آج جو شخص طاقت کے ایوان میں ہے، کل وہ قید کی کوٹھڑی میں بھی ہو سکتا ہے۔ اسی لیے قانون اور انسانی حقوق کے اصول وقتی سیاسی فائدے کے لیے تبدیل نہیں کیے جانے چاہئیں۔

ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ پاکستان میں قانون شخص کو دیکھ کر اپنا رنگ بدلے گا یا اصول کے مطابق سب کے لیے ایک جیسا رہے گا۔ اگر نواز شریف کو طبی بنیادوں پر بیرونِ ملک علاج کی سہولت دی جا سکتی ہے تو عمران خان کو بھی ان کی طبی ضرورت کے مطابق علاج کا حق ملنا چاہیے۔ اگر کسی کے بیرونِ ملک جانے کے معاملے میں انسانی ہمدردی کا اصول قابلِ قبول تھا تو کسی دوسرے کے لیے اسی اصول کو ناقابلِ قبول قرار دینا عوام کے ذہن میں سوال ضرور پیدا کرے گا۔

یہ معاملہ عمران خان کے حامیوں یا مخالفین کا نہیں، قانون کی ساکھ کا معاملہ ہے۔ حکومت اگر بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدالتی حکم تسلیم کرتی ہے، عمران خان کو مناسب طبی سہولت فراہم کرتی ہے اور ان کے اہلِ خانہ کو مقررہ اصولوں کے مطابق ملاقات کی اجازت دیتی ہے تو اس سے حکومت کمزور نہیں ہوگی، بل کہ ریاست مضبوط ہوگی۔

سیاسی مخالف کو حق دینا شکست نہیں، جمہوری بلوغت کی علامت ہے۔ آج عمران خان کے لیے جو اصول قائم ہوگا، کل وہی اصول نواز شریف، شہباز شریف، آصف علی زرداری یا کسی بھی دوسرے سیاسی رہنما کے لیے ڈھال بن سکتا ہے۔ انصاف کا حسن یہی ہے کہ وہ اپنے اور پرائے میں فرق نہیں کرتا۔

پاکستان کو اب ’’دو قانون، دو معیار‘‘ کی سیاست سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ایک قانون، ایک معیار اور ایک انصاف ہی وہ راستہ ہے جو ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کر سکتا ہے۔ عمران خان کی سیاست سے اختلاف کیجیے، ان کی پالیسیوں پر تنقید کیجیے، ان کے خلاف مقدمات عدالتوں میں چلائیے، لیکن اگر وہ بیمار ہیں تو ان کا علاج ضرور کیجیے۔

کیوں کہ ایک جمہوری ریاست اپنے مخالف کو شکست دے سکتی ہے، مگر اسے بنیادی انسانی حقوق سے محروم نہیں کرتی۔ آج اصل سوال عمران خان کا نہیں، اصول کا ہے: اگر قانون نواز شریف کے لیے ایک تھا تو عمران خان کے لیے دوسرا کیوں؟ یہ سوال صرف ایک سیاسی جماعت کا نہیں، پاکستان کے ہر اس شہری کا سوال ہے جو قانون کی بالادستی اور انصاف کے یکساں معیار پر یقین رکھتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں