چودہ اگست آتے ہی گلیاں سبز ہلالی پرچموں سے سج جاتی ہیں، شاہراہوں پر چراغاں ہوتا ہے، فضا میں ملی نغموں کی گونج سنائی دیتی ہے اور ہر سو ’’جشنِ آزادی مبارک‘‘ کے نعرے بلند ہونے لگتے ہیں۔ بچوں کے ہاتھوں میں جھنڈے، سینوں پر سبز بیجز اور چہروں پر مسکراہٹیں سج جاتی ہیں۔ یہ سب دیکھ کر دل بے اختیار پوچھتا ہے: کس بات کا جشنِ آزادی؟
یہ سوال وطن سے محبت کے انکار میں نہیں، بلکہ وطن سے محبت ہی کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ آزادی ایک عظیم نعمت ہے، مگر کیا صرف سرحد کا آزاد ہونا ہی مکمل آزادی ہے؟ کیا آزادی کا مطلب یہ ہے کہ ایک ملک اپنی جغرافیائی حدود میں خود مختار ہو، مگر اس کے اندر بسنے والا عام انسان بنیادی ضروریات کے لیے ترستا رہے؟ کیا آزادی کا مفہوم صرف پرچم لہرانا ہے، یا اس میں ایک محفوظ، باوقار اور آسودہ زندگی کا حق بھی شامل ہے؟
ہم نے برصغیر کی غلامی سے نجات حاصل کی، ایک آزاد مملکت کا خواب حقیقت بنایا، بے شمار قربانیاں دیں اور اپنے لیے ایک الگ وطن حاصل کیا۔ ہمارے بزرگوں نے ہجرت کی، اپنے گھر بار چھوڑے، اپنے پیاروں سے بچھڑے اور ایک آزاد سرزمین کے لیے اپنی زندگیاں قربان کیں۔ ان قربانیوں کی عظمت سے انکار ممکن نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ آج، اتنے برس بعد، اس آزادی کا ثمر عام آدمی کی دہلیز تک کس قدر پہنچا ہے؟
اگر آزادی کا مطلب خوف سے نجات ہے تو پھر وہ اٹھارہ ماہ کی بچی کون سی آزادی محسوس کرے جس کے لیے اس دنیا میں آنا بھی تحفظ کی ضمانت نہیں بن سکا؟ ایک معصوم بچی، جسے ابھی لفظوں کا مفہوم تک معلوم نہیں، جس کے ہاتھ میں قلم ہونا چاہیے، جس کی آنکھوں میں خواب ہونے چاہییں، اگر وہ بھی معاشرتی درندگی اور عدمِ تحفظ کی زد میں آ جائے تو پھر ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔
ایک ایسا معاشرہ جہاں بچیاں محفوظ نہ ہوں، جہاں والدین اپنی اولاد کو گھر سے باہر بھیجتے ہوئے بے شمار خدشات کا شکار رہیں، وہاں آزادی کے چراغوں کی روشنی کچھ مدھم سی محسوس ہوتی ہے۔ ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کہ ہم نے وطن تو آزاد کر لیا، مگر کیا اپنی سوچ، اپنی ترجیحات اور اپنی اجتماعی ذمہ داریوں کو بھی آزاد کیا؟
آزادی اس وقت ادھوری محسوس ہوتی ہے جب ایک تعلیم یافتہ نوجوان ہاتھ میں ڈگری لیے روزگار کے دروازے پر دستک دیتا رہے اور جواب میں خاموشی اس کا مقدر بن جائے۔ ہمارے نوجوان قابلیت رکھتے ہیں، خواب رکھتے ہیں، محنت کرنے کا عزم رکھتے ہیں، مگر روزگار کے محدود مواقع اور بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات ان کے قدم روک دیتی ہیں۔ کئی نوجوان برسوں تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہیں۔ کوئی ملازمت کی تلاش میں در بدر ہے، کوئی معمولی سی آسامی کے لیے سینکڑوں امیدواروں کے ہجوم میں کھڑا ہے اور کوئی اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے مواقع نہ ملنے پر مایوسی کا شکار ہے۔
پھر سوال اٹھتا ہے: کیا معاشی بے یقینی سے دوچار نوجوان مکمل طور پر آزاد ہے؟
آزادی صرف زنجیریں توڑنے کا نام نہیں؛ آزادی تو وہ احساس ہے جس میں انسان اپنی محنت کے ذریعے باعزت زندگی گزار سکے۔ ایک باپ اپنے بچوں کی فیس ادا کرنے کے لیے پریشان نہ ہو، ایک ماں راشن کی قیمتیں دیکھ کر خاموش نہ ہو جائے، ایک طالب علم کتاب خریدنے سے پہلے اپنی جیب نہ ٹٹولے اور ایک مزدور دن بھر پسینہ بہانے کے بعد بھی اپنے گھر کے چولہے کی فکر میں مبتلا نہ ہو۔
مگر آج مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔ آٹا، چاول، دالیں، سبزیاں، بجلی، گیس، پٹرول، ادویات اور تعلیم—زندگی کی تقریباً ہر بنیادی ضرورت عام شہری کے لیے ایک نیا امتحان بن چکی ہے۔ آمدن محدود ہے اور اخراجات بے قابو۔ تنخواہ وہیں کھڑی ہے مگر ضروریات ہر ماہ ایک قدم آگے بڑھ جاتی ہیں۔
وہ شخص جو صبح سویرے گھر سے نکلتا ہے، شام کو تھکا ہارا واپس آتا ہے، مگر پھر بھی اس کے ذہن میں یہی حساب چلتا رہتا ہے کہ بچوں کی فیس کیسے دینی ہے، بجلی کا بل کیسے ادا کرنا ہے، راشن کیسے آئے گا اور گھر کے دیگر اخراجات کہاں سے پورے ہوں گے۔ اگر ایک محنت کش اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل پریشانی میں مبتلا ہے تو ہمیں جشن کے شور میں اس کی خاموشی بھی سننی چاہیے۔
ہماری آزادی کا ایک اور سوال انصاف سے جڑا ہوا ہے۔
کیا انصاف سب کے لیے یکساں ہے؟ کیا طاقتور اور کمزور قانون کے سامنے واقعی ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں؟ کیا غریب کی فریاد بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے جتنی صاحبِ حیثیت شخص کی آواز؟ اگر کسی مظلوم کو انصاف کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑے تو پھر ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہماری آزادی کی بنیادیں کتنی مضبوط ہیں۔
ہمیں ان لوگوں کا ذکر بھی کرنا چاہیے جنہوں نے اس ملک کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالا، مگر تاریخ کے شور میں ان کے نام کہیں دب گئے۔ کسان، مزدور، خاکروب، رکشہ ڈرائیور، دیہاڑی دار، نرس، استاد، سپاہی اور وہ تمام لوگ جو خاموشی سے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں، دراصل وطن کی اصل بنیاد ہیں۔ ان کے پسینے سے بازار آباد ہوتے ہیں، ان کی محنت سے کھیت لہلہاتے ہیں، ان کی خدمت سے شہر چلتے ہیں اور ان کی ذمہ داری سے معاشرہ قائم رہتا ہے۔
مگر کیا ہم نے کبھی ان کے حالات پر سنجیدگی سے غور کیا؟
ہم جشنِ آزادی کے موقع پر بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، مگر کیا ہم اس مزدور کے گھر کا چراغ بھی روشن کر سکے جو ہمارے لیے عمارتیں تعمیر کرتا ہے؟ کیا ہم اس کسان کی زندگی آسان کر سکے جو ہمارے دسترخوان تک اناج پہنچاتا ہے؟ کیا ہم اس استاد کو وہ مقام دے سکے جس کے ہاتھ قوم کا مستقبل تشکیل دیتے ہیں؟
اور پھر ہمارے تعلیمی نظام کا سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ تعلیم کسی بھی آزاد قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے، مگر ہمارے ہاں بے شمار بچے اب بھی معیاری تعلیم سے محروم ہیں۔ کہیں اسکول موجود نہیں، کہیں اساتذہ کی کمی ہے، کہیں غربت بچے کے ہاتھ سے کتاب چھین کر اسے مزدوری کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ جس قوم کے بچے علم سے محروم رہ جائیں، اس قوم کی آزادی خطرے میں پڑ جاتی ہے، کیونکہ جہالت بھی ایک ایسی زنجیر ہے جو نظر نہیں آتی مگر نسلوں کو باندھے رکھتی ہے۔
ہمیں اپنی زبان، اپنی تہذیب، اپنی اقدار اور اپنی اجتماعی ذمہ داریوں پر بھی غور کرنا ہوگا۔ ہم نے آزادی تو حاصل کر لی، مگر کیا ہم نے اپنے اندر سے تعصب، نفرت، حسد، ناانصافی، سفارش اور اقربا پروری کو بھی آزاد کر دیا؟ کیا ہم نے اپنے دلوں کو اتنا وسیع کیا کہ اختلاف رکھنے والے کو بھی انسان سمجھ سکیں؟ کیا ہم نے یہ سیکھ لیا کہ کسی کی کمزوری کا فائدہ اٹھانا کامیابی نہیں، بلکہ اخلاقی شکست ہے؟
آزادی کا جشن صرف حکومتوں کا کام نہیں؛ یہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
اگر ایک شخص رشوت دیتا ہے اور دوسرا رشوت لیتا ہے تو دونوں آزادی کے معنی کو کمزور کرتے ہیں۔ اگر کوئی ملاوٹ کرتا ہے، ذخیرہ اندوزی کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، حق تلفی کرتا ہے یا اپنے منصب کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتا ہے تو وہ وطن کی بنیادوں میں ایک اور دراڑ ڈال دیتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ وطن صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا۔ وطن ان کروڑوں انسانوں کا نام ہے جو اس سرزمین پر سانس لیتے ہیں۔ وطن اس ماں کی دعا ہے جو اپنے بچے کو اسکول بھیجتی ہے، اس باپ کی محنت ہے جو گھر کا چولہا جلاتا ہے، اس کسان کا پسینہ ہے جو زمین کو سیراب کرتا ہے، اس سپاہی کی ذمہ داری ہے جو سرحد پر کھڑا ہے اور اس طالب علم کا خواب ہے جو ایک بہتر پاکستان دیکھنا چاہتا ہے۔
لہٰذا چودہ اگست پر ہمیں جشن ضرور منانا چاہیے، مگر صرف سڑکوں پر نہیں؛ اپنے کردار میں بھی۔ پرچم ضرور لہرانا چاہیے، مگر اپنے ضمیر میں بھی۔ ملی نغمے ضرور گانے چاہییں، مگر اپنے عمل سے بھی وطن سے وفا کا ثبوت دینا چاہیے۔
ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا ہوگا کہ ہم کہاں سے آزاد ہوئے اور کہاں اب بھی قید ہیں؟
ہم جغرافیائی غلامی سے آزاد ہوئے، مگر کیا غربت سے آزاد ہیں؟
ہم بیرونی اقتدار سے آزاد ہوئے، مگر کیا ناانصافی سے آزاد ہیں؟
ہم نے اپنا وطن حاصل کیا، مگر کیا ہر شہری کو تحفظ حاصل ہے؟
ہم نے پرچم حاصل کیا، مگر کیا ہر بچے کو مستقبل حاصل ہے؟
ہم نے آزادی حاصل کی، مگر کیا ہر انسان کو عزتِ نفس کے ساتھ جینے کا حق بھی دیا؟
یہ سوال جشن کو ماند کرنے کے لیے نہیں، بلکہ جشن کو معنی دینے کے لیے ہیں۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ اگلی نسل ہم سے پوچھے بغیر آزادی کا جشن منا سکے تو ہمیں ایسا پاکستان تعمیر کرنا ہوگا جہاں اٹھارہ ماہ کی بچی محفوظ ہو، نوجوان کو روزگار کی امید ہو، مزدور کو اپنی محنت کا پورا صلہ ملے، طالب علم کو معیاری تعلیم میسر ہو، مریض کو علاج کے لیے دروازے نہ کھٹکھٹانے پڑیں، غریب کو انصاف خریدنا نہ پڑے اور کسی ماں کو اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے ہر رات فکر مند ہو کر نہ سونا پڑے۔
تب شاید چودہ اگست کا سبز پرچم صرف ایک قومی علامت نہیں رہے گا، بلکہ ہر پاکستانی کے لیے امید، تحفظ، عزت اور خوش حالی کی علامت بن جائے گا۔
سو، اس بار جشنِ آزادی منائیے، ضرور منائیے؛ مگر چند لمحوں کے لیے خاموش بھی رہیے۔ ان لوگوں کو یاد کیجیے جنہوں نے اس وطن کے لیے جانیں دیں، اور ان لوگوں کو بھی دیکھیے جو آج اسی وطن میں زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
کیونکہ اصل آزادی وہ دن ہوگا جب پاکستان کا ہر شہری یہ کہہ سکے گا:
میں صرف ایک آزاد ملک میں پیدا نہیں ہوا، بلکہ ایک آزاد، محفوظ، باوقار اور منصفانہ زندگی بھی گزار رہا ہوں۔
تب کوئی یہ سوال نہیں کرے گا:
’’کس بات کا جشنِ آزادی؟‘‘
بلکہ ہر دل سے بے ساختہ آواز آئے گی:
’’ہاں، آج واقعی آزادی کا جشن ہے۔‘‘











