24

میرا ملک ہے میرے شجرہ نسب کی طرح از قلم: حمید علی

پاکستان محض نقشے پر کھینچی ہوئی چند سرحدی لکیروں، زمین کے ایک ٹکڑے یا چند شہروں کا مجموعہ نہیں؛ پاکستان ہمارے بزرگوں کی وہ عظیم میراث ہے جو ہمیں قربانیوں کے ایک طویل سفر کے بعد نصیب ہوئی۔ یہ شہیدوں کے مقدس لہو سے حاصل کیا ہوا وہ خوب صورت خطۂ ارض ہے جو آج پوری دنیا میں ہماری شناخت اور پہچان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ہمارے لیے صرف ایک ملک نہیں، ایک جذباتی نسبت، ایک قومی شناخت اور ایک مقدس امانت ہے۔

14 اگست 1947ء ہماری قومی تاریخ کا وہ روشن دن ہے جب پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد اور خود مختار ملک کی حیثیت سے معرضِ وجود میں آیا۔ یہ آزادی کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں تھی، بل کہ اس کے پیچھے ایک طویل جدوجہد، ایک واضح نظریہ اور بے شمار قربانیوں کی داستان موجود ہے۔ قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کی بے مثال قیادت اور برصغیر کے مسلمانوں کی انتھک جدوجہد نے اس خواب کو حقیقت میں بدلا جسے ایک آزاد وطن کی صورت میں دیکھا گیا تھا۔

آزادی کی وہ صبح اپنے دامن میں خوشیوں کے ساتھ بے شمار آنسو بھی لیے ہوئے تھی۔ ہجرت کے قافلے، اجڑے ہوئے گھر، بچھڑتے ہوئے خاندان، ماؤں کی آہیں، بہنوں کے آنسو اور نوجوانوں کی قربانیاں اس تاریخ کا وہ باب ہیں جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ لاکھوں لوگوں نے اپنے گھر بار چھوڑے، اپنے پیاروں سے بچھڑے اور اپنی جانوں تک کی قربانی دی، تب کہیں جا کر ہمیں پاکستان جیسی نعمت نصیب ہوئی۔

آج ہم آزادی کا جشن مناتے ہیں، گھروں، بازاروں اور شاہراہوں کو سبز ہلالی پرچموں سے سجاتے ہیں، ملی نغموں سے فضائیں گونجتی ہیں اور ہر طرف جشن کا سماں ہوتا ہے؛ مگر ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس آزادی کی قیمت کیا تھی۔ ہمیں ان ماؤں کو یاد کرنا چاہیے جنہوں نے اپنے لختِ جگر وطن پر قربان کر دیے۔ ان بہنوں کو یاد کرنا چاہیے جن کے بھائی واپس نہ آئے۔ ان بچوں کو یاد کرنا چاہیے جنہوں نے ہجرت کے ہنگامے میں اپنے والدین یا گھر کے کسی فرد کو ہمیشہ کے لیے کھو دیا۔

پاکستان ہمارے بزرگوں کی میراث ہے اور شہیدوں کے لہو سے حاصل کیا ہوا وہ خوب صورت خطۂ ارض ہے جس پر ہمیں فخر ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں، ہماری شناخت پاکستان سے ہے۔ ہمارا تعارف ہماری ذات، زبان، شہر یا پیشے سے پہلے پاکستانی ہونے سے ہوتا ہے۔ ہمارے پاسپورٹ پر لکھا ہوا پاکستان کا نام ہمیں دنیا کے سامنے ایک الگ شناخت دیتا ہے۔ یہی وطن ہماری عزت، ہماری پہچان اور ہماری قومی نسبت ہے۔

وطن سے محبت کسی دلیل کی محتاج نہیں ہوتی۔ یہ محبت دل میں جنم لیتی ہے اور انسان کی روح میں اتر جاتی ہے۔ جس طرح انسان اپنی ماں سے محبت کے لیے کسی دلیل کا محتاج نہیں ہوتا، اسی طرح وطن کی محبت بھی کسی منطق کی پابند نہیں۔ پاکستان کی مٹی کی خوش بو، اس کے پہاڑ، دریا، میدان، صحرا، شہر اور گاؤں ہمارے وجود سے جڑے ہوئے ہیں۔ سبز ہلالی پرچم لہراتا ہے تو دل میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہوتی ہے جسے شاید الفاظ میں مکمل طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔

لیکن پاکستان سے محبت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم اپنے ملک میں موجود خرابیوں پر خاموش ہو جائیں۔ ہمیں پاکستان سے محبت ہے، مگر پاکستان میں چلنے والے نظام سے اختلاف ہو سکتا ہے۔ ہمیں حکومتوں کی پالیسیوں سے اختلاف ہو سکتا ہے، سیاسی فیصلوں پر سوال اٹھائے جا سکتے ہیں، اداروں کی کارکردگی پر تنقید ہو سکتی ہے اور معاشرتی مسائل کے خلاف آواز بھی بلند کی جا سکتی ہے؛ لیکن ان اختلافات کو پاکستان سے محبت کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔

حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی اور اپوزیشن میں جاتی رہتی ہیں، پالیسیاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، مگر پاکستان ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ ہمیں اس فرق کو سمجھنا ہوگا کہ حکومت سے اختلاف، پاکستان سے اختلاف نہیں؛ نظام پر تنقید، وطن سے بے وفائی نہیں؛ بل کہ ایک بہتر پاکستان کی خواہش بھی حب الوطنی کی ایک صورت ہے۔

ایک باشعور قوم اپنے وطن کی کم زوریوں کو چھپاتی نہیں، ان کی اصلاح کی کوشش کرتی ہے۔ وطن سے سچی محبت یہ ہے کہ ہم پاکستان کو کم زور نہیں، مضبوط دیکھنا چاہیں؛ اسے تقسیم نہیں، متحد دیکھنا چاہیں؛ اسے انتشار نہیں، استحکام کی طرف بڑھتا ہوا دیکھنا چاہیں۔ اگر ہمیں نظام میں کوئی خرابی نظر آتی ہے تو ہمیں اسے درست کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، نہ کہ مایوسی کو اپنی سوچ پر غالب آنے دینا چاہیے۔

14 اگست صرف جشن منانے کا دن نہیں، خود احتسابی کا دن بھی ہے۔ آزادی صرف ایک نعمت نہیں، ایک ذمہ داری بھی ہے۔ ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ ہم نے پاکستان کے لیے کیا کیا؟ کیا ہم اپنے فرائض دیانت داری سے ادا کر رہے ہیں؟ کیا ہم قانون کا احترام کرتے ہیں؟ کیا ہم دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں؟ کیا ہم اپنے بچوں کو ایک بہتر پاکستان دینے کے لیے اپنے حصے کا کردار ادا کر رہے ہیں؟

پاکستان کی تعمیر صرف حکومتوں یا اداروں کی ذمہ داری نہیں۔ ایک استاد جب اپنے شاگردوں کو دیانت داری سے تعلیم دیتا ہے تو وہ پاکستان بناتا ہے۔ ایک ڈاکٹر جب مریض کی خدمت کو عبادت سمجھ کر علاج کرتا ہے تو وہ پاکستان بناتا ہے۔ ایک مزدور جب حلال روزی کے لیے اپنا پسینہ بہاتا ہے تو وہ پاکستان بناتا ہے۔ ایک صحافی جب اپنے قلم کو سچ اور حق کے لیے استعمال کرتا ہے تو وہ پاکستان بناتا ہے۔ ایک طالب علم جب علم کو اپنی منزل بناتا ہے تو وہ پاکستان کا مستقبل سنوارتا ہے۔

ہمیں اپنے قومی پرچم کو صرف ہاتھ میں نہیں، اپنے کردار میں تھامنے کی ضرورت ہے۔ سبز ہلالی پرچم ہماری آزادی، امید، اتحاد اور قومی تشخص کی علامت ہے۔ اگر ہم واقعی اس پرچم کی عزت چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے کردار میں بھی اس کی حرمت دکھانا ہوگی۔ ہمیں نفرت کے بجائے محبت، تعصب کے بجائے برداشت، جھوٹ کے بجائے سچ اور ذاتی مفاد کے بجائے قومی ذمہ داری کو ترجیح دینا ہوگی۔

آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ایک دوسرے کو کم زور کرنے کی نہیں، ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوط کرنے کی ہے۔ ہمیں اپنے سیاسی، لسانی، علاقائی اور فکری اختلافات کے باوجود پاکستانی ہونے کی مشترکہ شناخت کو مقدم رکھنا ہوگا۔ ہماری اصل طاقت ہماری وحدت ہے۔ ہم نے پاکستان حاصل بھی ایک اجتماعی جدوجہد کے نتیجے میں کیا تھا اور اسے مضبوط بھی اجتماعی کردار سے ہی بنا سکتے ہیں۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ آزادی صرف ہمارا ماضی نہیں، ہمارے مستقبل کی ذمہ داری بھی ہے۔ ہم نے یہ وطن اپنے بزرگوں سے ورثے میں لیا ہے اور آنے والی نسلوں کے حوالے کرنا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان ہمیں کیسا ملا؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم پاکستان کو کیسا بنا کر اپنی آنے والی نسلوں کے سپرد کریں گے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد ایک مضبوط، خوش حال، باوقار اور ترقی یافتہ پاکستان میں زندگی بسر کرے تو ہمیں آج سے اپنے کردار بدلنے ہوں گے۔ ہمیں قانون کی پاس داری، دیانت، محنت، برداشت، علم اور اتحاد کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ پاکستان صرف نعروں سے مضبوط نہیں ہوگا؛ پاکستان اس وقت مضبوط ہوگا جب اس کے شہری اپنے فرائض کو بھی اتنی ہی اہمیت دیں گے جتنی اپنے حقوق کو دیتے ہیں۔

آج جب 14 اگست کے موقع پر سبز ہلالی پرچم فضا میں لہراتا ہے، جب گلیاں اور بازار ملی نغموں سے گونجتے ہیں اور جب ہر طرف جشنِ آزادی کی خوشی نظر آتی ہے تو آئیے ایک لمحے کے لیے ان آنکھوں کو یاد کریں جنہوں نے پاکستان کا خواب دیکھا تھا۔ ان قدموں کو یاد کریں جنہوں نے ہجرت کے کٹھن راستے طے کیے تھے۔ ان ماؤں کو یاد کریں جنہوں نے اپنے لختِ جگر وطن پر قربان کیے۔ ان شہیدوں کو یاد کریں جن کے لہو نے اس سرزمین کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔

آئیے اس یومِ آزادی پر صرف یہ نہ کہیں کہ پاکستان زندہ باد؛ بل کہ اپنے عمل سے ثابت کریں کہ پاکستان ہمارے لیے واقعی زندہ حقیقت ہے۔ ہم عہد کریں کہ اپنے وطن کی سالمیت، خود مختاری اور وقار کی حفاظت کریں گے۔ اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کریں گے، قانون کی پاس داری کریں گے، نفرت اور تعصب سے دور رہیں گے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر پاکستان چھوڑنے کی کوشش کریں گے۔

پاکستان کسی ایک فرد، جماعت یا نسل کی ملکیت نہیں؛ یہ ہم سب کی مشترکہ امانت ہے۔ یہ ہمارے بزرگوں کی میراث ہے، ہمارے شہیدوں کے لہو کی نشانی ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل ہے۔ ہمیں اس امانت کی حفاظت کرنی ہے، اسے مضبوط کرنا ہے اور دنیا کے سامنے اس کا وقار بلند کرنا ہے۔

ہمیں نظام سے اختلاف ہو سکتا ہے، حالات سے شکایت ہو سکتی ہے، حکومتوں سے سوال ہو سکتے ہیں؛ مگر پاکستان سے محبت میں کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی۔ کیوں کہ پاکستان ہماری پہچان ہے، ہماری شناخت ہے، ہماری نسبت ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دیں اور جس کے لیے ہمارے شہیدوں نے اپنا لہو پیش کیا۔

پاکستان صرف ایک ملک نہیں؛ پاکستان ہمارا فخر، ہماری شناخت، ہماری پہچان اور ہماری آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔

پاکستان زندہ باد!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں