آج جب پاکستانی قوم آزادی کا جشن منانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جبکہ دوسری طرف قائد کا ملک مختلف سازشوں اور مسائل کا شکار ہے ،جس کی بنیادی وجہ قائد اعظم کے نظریہ پاکستان سے انحراف اور پاکستان کے قیام کے مقاصد کو مکمل طور پر نظرانداز کرنا ہے۔یہ موقع اس بات کا متقاضی ہے کہ قیام پاکستان کے تصور اور اس کے پس منظر کا ازسر نو جائزہ لیا جائے۔ ان تمام حالات و واقعات کا تجزیہ کیا جائے جو پاکستان کے قیام کا باعث بنے۔اس بات پر غور وفکر کیا جائے کہ آج ہم کس مقام پر کھڑے ہیں اور مستقبل کے لیے ہمیں کون سا لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی تخلیق ایک معجزہ ہے اور بقول ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ، قرآن میں اس کی تمثیل ان آیات میں ملتی ہے:
وَاذْکُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىکُمْ وَاَیَّدَکُمْ بِنَصْرِہٖ وَرَزَقَکُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ (الانفال:۲۶)
’’اور اس حالت کو یاد کرو جب کہ تم زمین میں قلیل تھے کمزور شمار کیے جاتے تھے ، اس اندیشہ میں رہتے تھے کہ تم کو لوگ نوچ کھسوٹ نہ لیں،سو اللہ نے تم کو رہنے کی جگہ دی اور تم کو اپنی نصرت سے قوت دی اور تم کو نفیس نفیس چیزیں عطا فرمائیں تاکہ تم شکر کرو ۔‘‘
پاکستان کا قیام کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اسے ممکن بنایا اور اس کو ہمارے بزرگوں کے وعدے،عزم اور عمل کو جانچنے کا ذریعہ بنایا۔قیام پاکستان کی فکری بنیاد قرآن کے عظیم سکالر علامہ اقبال نے رکھی۔ ان کے دور میں پوری ملت اسلامیہ غلامی میں جکڑی ہوئی تھی ۔ زمین کے کسی بھی علاقے میں اسلام کا نظام قائم نہ تھا ۔ اسلام کا بطور دین تصور ختم ہو گیا تھا اور دیگر مذاہب عالم کی طرح اسے بھی بس ایک مذہب سمجھا جانے لگا تھا۔ مسلمانوں میں ذہنی غلامی اور پس ماندگی مکمل طور پر سرایت کر چکی تھی۔ دین اسلام مکمل طور پر مغلوب ہو چکا تھا اور مسلمانوں میں اسلام صرف مذہبی عبادات اور رسومات تک محدود ہو کر رہ گیا تھا۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے علامہ اقبال کو منتخب کیا اور ان کو یہ صلاحیت عطا فرمائی کہ وہ مسلمانوں کو ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلا کر ان میں اسلام کے غلبہ واقامت اور عظمت رفتہ کو بحال کرنے کا عزم پیدا کریں۔ علامہ اقبال نے مسلمانوں کو نہ صرف ان کے زوال کی وجوہات سے آگاہ کیا بلکہ اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ بھی دکھایا۔انہوں نے اپنا پیغام اردو اور فارسی میں شاعری اور نثر کی صورت میں پیش کیا اور دین اسلام کے احیاء و قیام کے لیے عملی لائحہ عمل فراہم کیا۔
بطور صدر مسلم لیگ، انہوں نے احیاء اسلام کے لیے پاکستان کا تصور دیا، جس کے مطابق ایک نئی مسلم مملکت ہندوستان کے مسلم اکثریتی آبادی والے صوبوں پر مشتمل ہو گی۔ اس میں دین اسلام کے مکمل قیام کا موقع ملے گا اوریہ ریاست خلافت راشدہ کا ماڈل ہو گی۔ تمام دنیا عدل اجتماعی پر مبنی اس نظام کے ثمرات کو دیکھے گی اور اس طرح اسلام کی طرف مائل ہو جائے گی۔پھر آہستہ آہستہ دین اسلام دنیا بھر میں غالب ہونے لگے گا۔ تحریک پاکستان میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیےعلامہ اقبال نے قائداعظم کو قائل کیا۔یہ وہ وقت تھا جب قائداعظم مسلم لیگ کے رہنماؤں کے رویوں سے مایوس ہو کر لندن منتقل ہو چکے تھے۔انہوں نے ہندوستان واپس آ کر اس عظیم مشن کی تکمیل اور پاکستان کے حصول کے لیے انتہائی محنت اور جدوجہد کی اور پاکستان کا مقصد دین اسلام کا قیام قرار دیا۔ تحریک پاکستان بہت جلد عوامی مقبولیت حاصل کر کے ہندوستان کے طول وعرض میں پھیل گئی اور اس نے عوام میں جذبہ حریت پیدا کر دیا۔ اسلامیانِ ہند میں دین اسلام کے قیام کے لیے ایک خطہ ارضی کے حصول کا احساس نمایاں ہونے لگا اوریہ نعرہ ایک مکمل تصوّر بن کر زبان زدِ عام ہوگیا: ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا اِلہ الا اللہ!‘‘
اس بات کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ تصورِ پاکستان کو اسلامی نظام کے قیام سے کیوں منسلک کیا گیا تھا!دراصل پاکستان کی تخلیق جن جغرافیائی بنیادوں پر ہو رہی تھی ان میں کوئی بھی ایسی چیز مشترک نہیں تھی جو قوم کی تعریف پر پوری اترتی۔ کہیں بھی زبان، ثقافت،رسم و رواج کی مماثلت نہیں تھی۔ اتحاد کی اگر کوئی بنیاد تھی تو وہ صرف اور صرف دین اسلام تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کیا اور آخرکار 14 اگست 1947ءکو دنیا کے نقشے پر مملکت پاکستان کا وجودعمل میں آیا۔اس جدوجہد میں لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جان، عزت اور جائیداد کی قربانی دی۔اس موقع پر جو ہجرت ہوئی وہ تاریخ انسانی میں اپنی مثال آپ ہے ۔ اسے ’’ہجرت مدینہ ثانیہ‘‘ کا نام بھی دیا گیا کیونکہ یہ پاکستان میں دین اسلام کے قیام کے لیے ہوئی تھی۔اس حوالے سے ہزاروں واقعات ہماری قومی تاریخ کا ناقابل فراموش حصہ ہیں۔
آج کی نسل علامہ محمد اسد کے نام سے بھی واقف نہیں ہے ، جن کوبانیٔ قوم نے پاکستان بننے کے بعد پاکستانی شہریت دی۔ قائد نے انہیں پاکستان کا سیاسی ، معاشرتی ، معاشی اور تعلیمی نظام تیار کرنے کا کام سونپا تھا ۔چنانچہ انہیں اس مقصد کے لیے قائم کردہ ’’شعبہ اسلامی تعمیر نو‘‘ کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ پیدائشی طور پروہ یہودی تھے،جنہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ ہندوستان کے دورے کے دوران علامہ اقبال سے ان کی دوستی ہوئی اورانہوں نے ان کو اس بات پر راضی کیا کہ وہ مشرق کی طرف اپنا سفر ملتوی کر دیں اور ان کے ساتھ فکر اسلامی کی تعمیر ِنو کا کام کریں۔ بعد ازاں علامہ اسد نے فیصلہ کیا کہ نئی وجود میں آنے والی اسلامی ریاست پاکستان کو اپنا مسکن بنا کر اپنی صلاحیتوں سےاس ریاست کے فکری احاطے اور نظام کو واضح کرنے میں مدد کریں۔
قیام پاکستان کے بعد علامہ اسد نے انتہائی محنت اور لگن سے اس کام کو تکمیل تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیا۔انہوں نے اپنا کام عقیدت کے ساتھ کیا اور بہت سارے معاملات حکومت کی منظوری اور عمل درآمد کے لیے تیار تھے۔ ریڈیو پاکستان سے نشر شدہ ان کی روزانہ تقاریر اب بھی آرکائیوز میں دستیاب ہیں۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ قائداعظم وفات پا گئے اور علامہ اسد کی سفارشات پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ سول/ملٹری بیوروکریسی کی اکثریت اپنے برطانوی آقاؤں کے ساتھ وفادار تھی اور انہوں نے پہلے دن ہی سے راہ راست میں رکاوٹیں پیدا کیں۔ آخر کار’’محکمہ اسلامی تعمیر نو‘‘ کو ختم کر دیا گیا۔ یوں علامہ محمداسد کی ساری محنت فائلوں میں بند ہو کر رہ گئی۔ اس صورتِ حال سے مایوس ہو کر وہ سعودی عرب چلے گئے اور اہم کتابیں لکھیں جن میں ’’The Road to Makkah‘‘ اور ’’The Message of the Quran‘‘ شامل ہیں۔
قیام پاکستان کے بعد نئے ملک کی بقا بھی ایک اہم مسئلہ تھا جس کے لیے بڑی جدوجہد کی گئی، کیونکہ تقسیم کے وقت زیادہ تر وسائل ہندوستان نے روک رکھے تھے۔ قائداعظم قیام پاکستان کے صرف ایک سال بعد فوت ہو گئے۔ پاکستان کے حصے میں جو بھی سول اور ملٹری بیوروکریسی آئی ، وہ اپنے برطانوی آقاؤں کی وفادار تھی۔ پاکستان یا اسلام سے انہیں کوئی ہمدردی نہیں تھی۔ ان کا واحد مقصد ریاست کے کمزور نظام کو اپنے قابو میں لانا اور حکومت پر اپنا اقتدار قائم کرنا تھا۔چنانچہ قیام پاکستان کے بعد کے واقعات اس بات کی گواہی دیتے ہیں وہ کس طرح اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوئے اور آخر کار 1958ء میں فوجی آمریت کے ذریعہ مطلق اختیارات حاصل کر لیے۔ المیہ یہ ہے کہ قیام پاکستان میں کلیدی کردار ادا کرنے والے اکابرین کو کنارے لگا دیا گیا۔یوں آہستہ آہستہ تمام ریاستی امور پر لالچی اور مفاد پرست عناصر کا مکمل غلبہ ہو گیا۔
آج اس بات کی بہت ضرورت ہے کہ ان تاریخی واقعات کے حوالے سے نئی نسل کو اِدراک ہو جائے کہ پاکستان کو بنانے کا مقصد کیا تھا اور قائد اعظم کس قسم کا پاکستان چاہتے تھے۔ وہ درحقیقت ملکی نظام حکومت کو مکمل طور پر دین اسلام کے اصولوں پر استوار کرنا چاہتے تھے۔موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم ان تمام حالات و واقعات کو دوبارہ سے ذہن میں تازہ کریں، تاکہ ان گمراہ اور لبرل عناصر کو منہ توڑ جواب دیا جائے جن کا پاکستان کے قیام کی جدوجہد میں تو کوئی کردار نہیں تھا لیکن وہ قائداعظم اور نظریہ پاکستان کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں ۔ اس سلسلے میں وہ ہمیشہ صرف قائداعظم کی 11 اگست 1947 کی تقریر کے ایک حصے کو پیش کرتے ہیں جس کا مقصد لوگوں کو گمراہ کن پراپیگنڈے کا شکار کرکے قیام پاکستان کے بارے میں تاریخی حقائق سے بے خبر رکھنا ہے۔اس تقریر کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے تووضح ہو جاتا ہے کہ یہ مکمل طور پر دین اسلام کے اساسی قوانین کے عین مطابق کی گئی تھی اور اس میں تمام مذہبی اکائیوں کے حقوق کی ضمانت دی گئی ہے جو کہ ہمارے دین اسلام کے عین مطابق ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں مذہب اور دین میں فرق کو سمجھنا ہوگا کیونکہ اکثر مسلمانوں کو اس فرق کا علم نہیں ہے ،جس کی وجہ ہم نام نہاد مسلمانوں کی اسلام سے دوری اور اس کو سمجھنے کے لیے اپنا وقت وقف نہ کرنا اور سنی سنائی باتوں پر بغیر علم حاصل کیے یقین کرنا ہے۔دین کا مطلب مکمل نظام زندگی ہے جو مکمل سیاسی، معاشی، معاشرتی، تہذیبی قوانین اور دیگر معاملات زندگی کے مجموعہ کا نام ہے۔ اس لیے دین اسلام شریعت کے کلی معاملات، احکامات اور قوانین کے نفاذ کا نام ہے، جبکہ مذہب صرف عقیدے، مراسم عبودیت ، سماجی رسومات اور ذاتی معاملات تک محدود ہوتا ہے۔ اسلام نے تمام مذہبی اکائیوں کو ان کے مذہبی عقائد کی ادائیگی میں آزادی دی ہے بلکہ ان کو اس میں تحفظ فراہم کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ جتنی مذہبی آزادی دین اسلام نے مذہبی اقلیتوں کو دی ہے آج کی نام نہاد بڑی سے بڑی سیکولر ریاستیں بھی دینے کا تصور نہیں کر سکتیں۔ دین اسلام تمام مذہبی اکائیوں کو ان کے پرسنل معاملات اور وراثتی قوانین کی ان کے مذہبی عقائد کے مطابق ادائیگی کی ضمانت دیتا ہے ۔اس قسم کی آزادی کا تصور آج دنیا کی کسی بھی نام نہاد سیکولر و جمہوری ریاست میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔اس کے علاوہ اسلامی ریاست میں تمام اقلیتوں کو جہاد سے استثناء حاصل ہے اور اس کے بدلے میں ان پر معمولی جزیہ لاگو ہوتا ہے جو ان کی اپنی حفاظت کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے۔چنانچہ دین اسلام میں دی گئی آزادی، مساوات اور انسانی حقوق کا کسی بھی دوسرے نظام زندگی سے تقابل کا کوئی بھی ذی شعور انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔
آخر میں نظریہ پاکستان کی یہ وضاحت ہی کافی ہے جس کی تصدیق قائد اعظم کے اپنے الفاظ سے ہوتی ہے جو انہوں نے خود اپنے ذاتی معالج سے کہے:
’’ تم جانتے ھو کہ جب مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ پاکستان بن چکا ہے تو میری روح کو کس قدر اطمینان ہوتا ہے۔ یہ مشکل کام تھا اور میں اکیلا اسے کبھی نہیں کر سکتا تھا ۔میرا ایمان ہے کہ یہ رسولِ خدا ﷺ کا روحانی فیض ہے کہ پاکستان وجود میں آیا ۔اب یہ پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اسے خلافت راشدہ کا نمونہ بنائیں تاکہ خدا اپنا وعدہ پورا کرے اور مسلمانوں کو زمیں کی بادشاہت دے۔‘‘
وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے حکمران اور عام قیام پاکستان کے مقاصد سے روگردانی کرتے گئے اور ذاتی مفادات، لالچ، جھوٹ، فریب جیسی بیماریاں ہم میں سرایت کر تی گئیں اور اللہ کی نافرمانیاں بڑھتی رہیں۔ اس طرزِ عمل کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے۱۹۷۱ء میں ہمیں بڑی شکست دے کر اور اس ملک کو دو حصوں میں تقسیم کرکے ہم پر عذاب کا کوڑا برسایا، لیکن ہم نے اس شکست سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا اورآج نصف صدی سے زاید گزرنے کے بعد بھی اپنی تمام تر صلاحیتوں اور قابلیتوں کے باوجود اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت وفرماں برداری کا راستہ اختیار کرنے سے گریزاں ہیں اور نافرمانی کے راستے پر اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کا نتیجہ مزید تباہی و بربادی کی صورت میں ہمارے سامنے ہے کہ آج پاکستان بھر میں زبان ونسل، فرقہ پرستی، سماجی اور علاقائی حدود کی بنیاد پر منافرت میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے۔
اگرچہ بنگلہ دیش کا قیام ہمارے لیے ایک بہت بڑا سانحہ تھا مگر اس کا ایک آزاد اور الگ وجود آج بھی دو قومی نظریہ کی سچائی کی گواہی دے رہا ہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کی تخلیق اللہ سبحانہ و تعالٰی کا ایک معجزہ ہے اور اس کی تخلیق ایک خاص مقصد کے لیے ہوئی ہے۔ یعنی اسے دنیا میں دوبارہ سے احیاء اسلام کے لیے ایک مرکزی کردار ادا کرنا ہے۔ اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ سبحانہ و تعالٰی کے سپرد ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلام دشمن قوتوں نے پوری طاقت کے ساتھ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور اس کے خاتمے کے متعدد سازشیں کی ہیں اور جو آج بھی انتہائی شدت سے جاری ہیں۔ ان اسلام دشمن قوتوں کو کچھ گمراہ اندرونی عناصر کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ مگر یہ اللہ سبحانہ و تعالٰی کی رحمت اور اس کا فضل ہے کہ اس نے ان تمام سازشوں کو ہمیشہ ناکام بنایا ہے اور آئندہ بھی ہمیشہ ناکامی سے دوچار کرے گا۔ ان شاءاللہ ۔
آج ہوم آزادی پر ہمیں دوبارہ سے پاکستان میں دین اسلام کے قیام اور اسے دنیا کے لیے مینارۂ نور بنانے کے لیے اپنے وعدوں کا عزم بالجزم کے ساتھ اعادہ کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین اسلام کی طرف لوٹنے اور اپنے مقصد تخلیق کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!











