آزادی کسی قوم کو تحفے میں نہیں ملتی، اس کے پیچھے نسلوں کی قربانیاں، ماؤں کی دعائیں، نوجوانوں کا لہو، بہنوں کے اجڑے سہاگ، بیٹیوں کی پامال عزتیں اور بے شمار خاندانوں کی ہجرت کی داستانیں چھپی ہوتی ہیں۔ پاکستان کا قیام بھی ایک ایسی ہی کربناک تاریخ کا نتیجہ ہے جسے پڑھتے ہوئے آج بھی دل کانپ اٹھتا ہے۔ ہم ہر سال چودہ اگست کو سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں، گھروں کو سجاتے ہیں، ملی نغمے سنتے ہیں، آتش بازی کرتے ہیں اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں، لیکن کیا ہم نے کبھی چند لمحوں کے لیے رک کر یہ سوچا ہے کہ یہ آزادی ہمیں کس قیمت پر ملی تھی؟ کیا ہم نے کبھی ان قافلوں کا تصور کیا ہے جو اپنے آبائی گھروں، کھیتوں، دکانوں اور یادوں کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر ایک ایسے ملک کی طرف روانہ ہوئے تھے جسے انہوں نے صرف خوابوں میں دیکھا تھا؟
ہجرت کا وہ سفر آج بھی تاریخ کے صفحات پر ایک کربناک داستان کی صورت میں موجود ہے۔ لاکھوں انسان اپنے گھر بار چھوڑ کر پاکستان کی طرف روانہ ہوئے۔ کسی کے پاس چند کپڑے تھے، کسی کے ہاتھ میں قرآن مجید تھا، کسی ماں نے بچے کو سینے سے لگا رکھا تھا اور کسی بوڑھے نے اپنی آبائی زمین کی مٹی آخری بار آنکھوں سے لگائی تھی۔ لوگ سمجھتے تھے کہ چند دنوں کا سفر ہے، سرحد پار کریں گے اور ایک محفوظ وطن میں پہنچ جائیں گے، مگر بہت سے قافلوں کے لیے یہ سفر موت اور زندگی کے درمیان ایک طویل آزمائش بن گیا۔ راستے میں بھوک تھی، پیاس تھی، خوف تھا، بیماری تھی اور ہر قدم پر جان کا خطرہ تھا۔ ٹرینیں جو مسافروں کو نئی منزل تک پہنچانے کے لیے روانہ ہوتی تھیں، بعض اوقات خون آلود داستانیں لے کر پہنچتی تھیں۔ قافلے راستوں میں لٹتے، بستیاں اجڑتیں اور خاندان ایک دوسرے سے بچھڑ جاتے۔ کہیں باپ اپنے بیٹے کو تلاش کر رہا تھا، کہیں بہن اپنے بھائی کو پکار رہی تھی اور کہیں ایک ماں اپنے بچے کو سینے سے لگائے آنکھوں میں امید لیے بیٹھی تھی۔ جن گھروں میں کل تک بچوں کی ہنسی گونجتی تھی، وہاں اچانک موت اور خاموشی نے ڈیرے ڈال دیے۔ خاندان کے خاندان پاکستان پہنچنے سے پہلے ہی قربان ہوگئے۔
اس ہجرت کی سب سے بڑی قیمت ماؤں نے ادا کی۔ کتنی ہی مائیں ایسی تھیں جنہوں نے اپنے جوان بیٹوں کو وطن کی امید میں رخصت کیا، مگر وہ کبھی واپس نہ آئے۔ کسی کا بیٹا راستے میں شہید ہوگیا، کسی کا شوہر بچھڑ گیا اور کسی کی پوری دنیا ہی اجڑ گئی۔ وہ مائیں جنہوں نے اپنے بچوں کو ایک آزاد وطن کا خواب دکھایا تھا، انہی بچوں کے خون سے آزادی کی تاریخ لکھی گئی۔ بہنوں کے سہاگ اجڑے، بچوں کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا اور کتنی ہی بیٹیوں کو ایسے خوفناک حالات کا سامنا کرنا پڑا جن کا تصور بھی انسان کے رونگٹے کھڑے کردیتا ہے۔ تقسیم کے فسادات میں خواتین پر ہونے والے مظالم تاریخ کا ایک انتہائی سیاہ باب ہیں۔ عزتیں پامال ہوئیں، خاندان بکھرے اور انسانی رشتوں کی حرمت کو روند دیا گیا۔ یہ صرف ایک ہجرت نہیں تھی، یہ انسانیت کے صبر کا امتحان تھا۔
ہر طرف قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا۔ بستیاں جلائی جا رہی تھیں، گھر ویران ہو رہے تھے اور لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے بے سروسامانی کے عالم میں سفر کر رہے تھے۔ اس پرآشوب دور میں مذہبی شخصیات، علماء کرام اور عام شہری بھی ظلم کا نشانہ بنے۔ تاریخ میں ایسے انتہائی سفاک واقعات بھی بیان ہوئے ہیں جن میں لوگوں کو توپوں کے ساتھ باندھ کر گولہ بارود کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ مناظر اس دور کی وحشت اور بربریت کی ایسی یادگار ہیں جنہیں بھلانا ممکن نہیں۔ لوگ صرف گھر نہیں چھوڑ رہے تھے، وہ اپنی پوری زندگی پیچھے چھوڑ رہے تھے۔ کسی نے اپنے بزرگوں کی قبریں چھوڑیں، کسی نے آبائی زمین، کسی نے کاروبار اور کسی نے وہ گلیاں چھوڑ دیں جہاں اس کا بچپن گزرا تھا۔ کسی نے اپنے گھر کا دروازہ آخری بار بند کیا اور اسے معلوم تھا کہ شاید دوبارہ کبھی اس دہلیز پر قدم رکھنے کا موقع نہ ملے۔ ان سب کے سامنے صرف ایک امید تھی، پاکستان۔
یہی امید لاکھوں لوگوں کو آگے بڑھاتی رہی۔ راستے میں اپنے پیاروں کی لاشیں دیکھنے کے باوجود قافلے چلتے رہے۔ بھوک اور پیاس کے باوجود سفر جاری رہا۔ لوگ اپنے بچوں کو سینے سے لگائے پاکستان پہنچنے کی دعا کرتے رہے۔ جب وہ سرحد پار پہنچے تو بہت سے لوگوں کے پاس نہ گھر تھا، نہ کاروبار، نہ زمین اور نہ ہی مال و دولت، مگر ان کے پاس ایک عظیم نعمت تھی، ایک آزاد وطن، پاکستان۔ آج ہم اسی پاکستان میں آزادی کے ساتھ سانس لے رہے ہیں۔ ہمارے پاس اپنا پرچم ہے، اپنی شناخت ہے، اپنی سرزمین ہے اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہم اس آزادی کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ کیا ہم نے اپنے بزرگوں کی قربانیوں سے کچھ سیکھا؟ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ جن لوگوں نے اپنا سب کچھ قربان کردیا، وہ پاکستان کو کیسا دیکھنا چاہتے تھے؟ کیا انہوں نے آزادی اس لیے حاصل کی تھی کہ ہم چند گھنٹوں کے شور شرابے کو جشن سمجھیں؟ چودہ اگست آتا ہے تو سڑکوں پر باجے بجتے ہیں، موٹر سائیکلوں کے سائلنسر نکالے جاتے ہیں، بے ہنگم شور کیا جاتا ہے اور بعض اوقات جشن کے نام پر دوسروں کے سکون کو بھی برباد کردیا جاتا ہے۔ ذرا سوچیے، کیا آزادی اس لیے ملی تھی؟ کیا ان ماؤں نے اپنے لخت جگر اس لیے قربان کیے تھے کہ ہم آزادی کو صرف شور شرابے میں تبدیل کردیں؟ کیا بہنوں نے اپنے سہاگ اس لیے گنوائے تھے کہ ہم قومی دن کی اصل روح کو بھول جائیں؟ کیا ان خاندانوں نے اپنا گھر بار اس لیے چھوڑا تھا کہ ہم اپنے وطن کی قدر نہ کریں؟ آزادی کا حقیقی جشن صرف باجے بجانا، جھنڈیاں لگانا اور سڑکوں پر نکلنا نہیں، بلکہ آزادی کا حقیقی جشن اپنے کردار سے وطن کی خدمت کرنا ہے۔ قانون کا احترام کرنا، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا، غریب کی مدد کرنا، تعلیم کو فروغ دینا، بدعنوانی سے بچنا، نفرت کے بجائے محبت بانٹنا اور پاکستان کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہی آزادی کی اصل قدر ہے۔
ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ نہیں بتانا چاہیے کہ پاکستان چودہ اگست کو آزاد ہوا تھا، بلکہ انہیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ اس آزادی کے پیچھے کتنی قربانیاں تھیں۔ انہیں ہجرت کے قافلوں کی داستان سنانی چاہیے، ان ماؤں کو یاد کرنا چاہیے جن کی گودیں اجڑ گئیں، ان نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کرنا چاہیے جنہوں نے اپنی جوانیاں قربان کردیں، ان بہنوں کے دکھ کو یاد رکھنا چاہیے جن کے سہاگ اجڑ گئے اور ان خاندانوں کو سلام پیش کرنا چاہیے جو پاکستان پہنچنے سے پہلے ہی راستوں میں قربان ہوگئے۔ ہمیں جشن ضرور منانا چاہیے، مگر وقار کے ساتھ۔ پرچم ضرور لہرانا چاہیے، مگر دل میں وطن کی محبت کے ساتھ۔ ملی نغمے ضرور سننے چاہئیں، مگر اپنے کردار کو بھی وطن کی محبت کا آئینہ بنانا چاہیے۔ ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم اس ملک کو کمزور نہیں ہونے دیں گے، اس کی وحدت کو نقصان نہیں پہنچائیں گے اور اپنی آنے والی نسلوں کو ایک بہتر پاکستان دیں گے۔ جب چودہ اگست کو سبز ہلالی پرچم ہماری چھتوں پر لہراتا ہے تو ہمیں ان قافلوں کو یاد کرنا چاہیے جو خون میں نہائے راستوں سے گزر کر پاکستان پہنچے تھے۔ ان ماؤں کو یاد کرنا چاہیے جن کی گودیں اجڑ گئیں، ان باپوں کو یاد کرنا چاہیے جنہوں نے اپنے بیٹوں کو قربان کیا، ان بہنوں کو یاد کرنا چاہیے جن کے سہاگ چھن گئے اور ان بچوں کو یاد کرنا چاہیے جو ہجرت کے سفر میں یتیم ہوگئے۔ یہ پرچم صرف کپڑے کا ٹکڑا نہیں، یہ لاکھوں قربانیوں کی علامت ہے۔ آئیے اس آزادی کو صرف شور اور باجوں سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے منائیں۔ کسی ضرورت مند کی مدد کریں، کسی بچے کو تعلیم کی طرف راغب کریں، کسی مظلوم کا ساتھ دیں اور اپنے دل میں یہ عہد تازہ کریں کہ جن قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان حاصل ہوا، ہم ان قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ آزادی ہمیں صرف خوشیاں منانے کے لیے نہیں ملی تھی، آزادی ہمیں ایک ذمہ داری، ایک امانت اور ایک عہد کے طور پر ملی تھی۔ ذرا سوچیے، اگر ہمارے بزرگ اپنے گھر، زمین، مال، اولاد اور جانیں قربان کرکے پاکستان حاصل کرسکتے تھے تو کیا ہم اس پاکستان کے لیے اپنے کردار، اپنی دیانت اور اپنی ذمہ داری کی قربانی بھی نہیں دے سکتے؟ یہی سوچ آزادی کے جشن کو حقیقی معنوں میں بامقصد بنا سکتی ہے۔
87











