127

افغانستان کی جغرافیائی سیاست، امریکی حکمت عملی اور نئے خطرات:احمدخان اچکزئی

محترم قارئین، جیسے پیٹرن کی بات ہے، جسے سیاسیات میں “Divide and Rule” یا “Controlled Chaos Strategy” کہتے ہیں، اور بہت سے تجزیہ کار امریکہ کی خارجہ پالیسی کو اسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ اگر دوسری جنگ عظیم کے بعد کے کیسز کا جائزہ لیا جائے تو یہ حکمت عملی چار مراحل میں کام کرتی ہے: سب سے پہلے کمزور حکومت، قدرتی وسائل یا جیو اسٹریٹجک مقام والے ملک کو ٹارگٹ کے طور پر چنا جاتا ہے تاکہ اثر و رسوخ بڑھایا جا سکے۔ دوسرے مرحلے میں موجود حکومت اور اپوزیشن یا نسلی و مذہبی گروہوں دونوں سے رابطہ کرکے توازن کے نام پر دونوں کو اسلحہ، پیسہ اور سیاسی مدد فراہم کی جاتی ہے تاکہ اختلاف پیدا ہو۔ تیسرے مرحلے میں دونوں فریقوں کو کبھی براہ راست حملے اور کبھی پراکسی جنگ کے ذریعے آپس میں لڑایا جاتا ہے تاکہ ملک اندر سے ٹوٹ جائے اور معیشت تباہ ہو جائے۔ چوتھے اور آخری مرحلے میں جنگ زدہ ملک میں امن، تعمیر نو اور جمہوریت کے نام پر فوجی اڈے، معاہدے اور قرضے حاصل کرکے نجات دہندہ کا روپ دھارا جاتا ہے، جس سے فوجی و معاشی انحصار کی بنیاد پر بالواسطہ کنٹرول قائم ہو جاتا ہے۔ تاریخ میں اس کی تین مشہور مثالیں ملتی ہیں۔ پہلی مثال افغانستان کی ہے جہاں 1979 سے 2021 کے دوران روس کے خلاف مجاہدین کو اسلحہ دیا گیا، 9/11 کے بعد طالبان پر حملہ کیا گیا اور پھر 20 سال تک کابل حکومت اور طالبان دونوں سے مذاکرات کیے گئے، جس کا نتیجہ 2.3 ٹریلین ڈالر خرچ ہونے، ملک کی تباہی اور آخر کار انخلاء کی صورت میں نکلا۔ دوسری مثال عراق 2003 کی ہے جہاں 1980 کی دہائی میں صدام کو ایران کے خلاف اسلحہ دینے کے بعد 2003 میں تباہ کن ہتھیاروں یعنی WMD کے نام پر حملہ کیا گیا، شیعہ سنی اختلاف کو ہوا دی گئی اور آج عراق میں امریکی اڈے اور تیل کے معاہدے موجود ہیں۔ تیسری مثال لیبیا 2011 کی ہے جہاں قذافی کو پہلے گلے لگایا گیا اور پھر اپوزیشن کی مدد کرکے نیٹو حملہ کرایا گیا، جس کے نتیجے میں قذافی کے زوال کے بعد ملک ملیشیا میں بٹ گیا اور تیل کی پیداوار پر غیر ملکی کمپنیوں کا کنٹرول قائم ہو گیا۔اس صورتحال پر تنقیدی نقطہ نظر کے دو مختلف پہلو ہیں۔ امریکہ کا اپنا موقف یہ ہے کہ وہ جمہوریت، انسانی حقوق اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مداخلت کرتا ہے اور ہر کیس میں مقامی لوگ خود مدد مانگتے ہیں۔ اس کے برعکس ناقدین کا موقف یہ ہے کہ یہ نوآبادیاتی نظام کا نیا روپ ہے جہاں پہلے انگریز براہ راست حکومت کرتے تھے، اب قرضے، آئی ایم ایف اور فوجی اڈوں کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ “Chaos is a ladder” کے اصول کے تحت کمزور ریاست میں امریکی کمپنیوں کو تیل، گیس اور معدنیات کے ٹھیکے آسانی سے مل جاتے ہیں، جبکہ ویتنام اور افغانستان سے انخلاء جیسے ناکامی کے کیسز یہ بتاتے ہیں کہ یہ حکمت عملی ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب صرف امریکہ کرتا ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ ہر بڑی طاقت نے ایسا کیا ہے؛ برطانیہ نے ہندوستان میں ہندو مسلم اور قبائل کے درمیان تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی اپنائی، روس یا یو ایس ایس آر نے مشرقی یورپ اور افغانستان میں پراکسی حکومتیں قائم کیں، اور فرانس نے افریقہ میں فرانسافریقہ پالیسی پر عمل کیا۔ فرق صرف یہ ہے کہ امریکہ کے پاس 1945 کے بعد سب سے زیادہ فوجی اور مالی طاقت رہی ہے، اس لیے اس کے کیسز زیادہ نظر آتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ نکتہ ریلپالیٹک اسکول آف تھاٹ سے ملتا ہے جو یہ کہتا ہے کہ بڑی طاقتیں اخلاقیات نہیں بلکہ صرف اپنے مفادات دیکھتی ہیں، لیکن ساتھ ہی ہر ملک کا اپنا داخلی کردار بھی ہوتا ہے کیونکہ بیرونی طاقت اسی وقت کامیاب ہوتی ہے جب اندرونی تقسیم پہلے سے موجود ہو، بالکل اسی طرح جیسے امیر یعقوب خان نے گندمک کے معاہدے پر دستخط کیے کیونکہ کابل پہلے ہی کمزور تھا۔اسی پس منظر اور تسلسل میں جنرل سمیع سعادت کے طالبان کی حکومت گرانے کا اعلان، افغانستان اور پاکستان کے مغربی حصوں میں شورش کی افواہیں اور جنگ کے نقارے بجنے کی اطلاعات کو ہمیں کئی زاویوں سے دیکھنا چاہیے۔ سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ امریکہ جو ان سارے اسرار و رموز کے پیچھے ہے اور عملی دنیا میں گزشتہ تین صدیوں سے جہاں مداخلت کرتا ہے، تو سب سے پہلے مداخلت کا بے ڈھنگا جواز ڈھونڈتا ہے، اس کے بعد اس ٹارگٹ کو نشانہ بنانے کے لیے دو فریق بناتا ہے اور پھر انہی دونوں فریقوں کو لڑنے کے لیے مدد دیتا ہے، اور جب لڑتے لڑتے وہ دونوں فریق اتنے کمزور ہو جاتے ہیں تو پھر امریکہ مداخلت کرکے اس پورے ملک پر قبضہ کر لیتا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت جب قطر کے معاہدے کے وقت افغانستان کی متسلیمات صرف کابل کے مضافات کی حد تک تھیں جبکہ نیشنل آرمی کابل میں حاکم ہوتی اور شمالی اور جنوبی افغانستان طالبان کے مقابلے میں کابل کے قبضے کے لیے جنگ جاری رکھتے اور امریکی بالادستی اور افغان ایک دوسرے کو مزید مارنے اور کمزور کرنے پر مامور ہوتے، لیکن جونہی قطر معاہدے کے تحت طالبان کو جنوب مغربی علاقے حوالے کیے گئے اور طالبان کابل کے مضافات میں پہنچے تو تین لاکھ افغان نیشنل آرمی جو ہر قسم کے اسلحے سے مجہز تھی، اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور سراسیمگی کی حالت میں کابل خالی کر گئی، جس کی وجہ سے طالبان نے پلان کے برعکس کابل اور شمال و جنوب پر قبضہ کر لیا۔ اس وقت ایسی اطلاعات بھی تھیں کہ قندھار سے 10 ہزار نیشنل آرمی کے عسكر شمال کی طرف بھاگے جا رہے تھے تاکہ جنگ جاری رکھی جا سکے، لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔اب موجودہ پلان یہ ہے کہ طالبان اور نیشنل آرمی کے عسكر کو آمنے سامنے شمال اور جنوب میں جنگ شروع کرائی جائے گی جس سے طالبان کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ امریکہ جنگ جاری رکھنے کے لیے حسب سابق دونوں فریقین کی مدد جاری رکھے گا، طالبان کو مزید مدرسوں کی تعداد اور طلباء کو اسلامی شعار اور مسلمانوں کے چین میں غصب شدہ علاقے چین کے سنکیانگ صوبے میں چینی حکومت کے مظالم اور بربریت کی آگاہی اور ایسٹ ترکستان میں اسلامی حکومت قائم کرنے کی کوشش کے ذریعے فراہم کی جائے گی، جبکہ افغان نیشنل آرمی طالبان پر دباؤ قائم رکھنے کے لیے جنگ جاری رکھے گی، اور انخلاء کے بعد امریکہ وہی ملک اور حکومت دونوں پر قابض ہو جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں