قومیں صرف اپنی سرحدوں سے نہیں پہچانی جاتیں، ان کی شناخت کچھ ایسی علامتوں میں بھی سانس لیتی ہے جو پوری تاریخ کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہیں۔ قومی پرچم بھی ایسی ہی ایک علامت ہے۔ یہ کپڑے کا چند رنگوں پر مشتمل ٹکڑا نہیں، بل کہ ایک قوم کی غیرت، آزادی، شناخت، نظریے اور قربانیوں کا لہراتا ہوا استعارہ ہے۔ جب پرچم سربلند ہوتا ہے تو صرف ایک کپڑا فضا میں نہیں لہراتا، بل کہ ایک قوم کا وقار، اس کی تاریخ اور اس کے خواب دنیا کے سامنے اپنا تعارف پیش کرتے ہیں۔
14 اگست آتا ہے تو سبز ہلالی پرچم ہر طرف دکھائی دیتا ہے۔ گھروں کی چھتیں سجتی ہیں، بازار جگمگاتے ہیں، گلیاں جھنڈیوں سے بھر جاتی ہیں، بچوں کے ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم لہراتا ہے اور ملی نغموں سے فضائیں گونج اٹھتی ہیں۔ ہر چہرے پر آزادی کی خوشی ہوتی ہے۔ یہ منظر خوب صورت بھی ہے اور دل کو چھو لینے والا بھی، مگر اس جشن کی اصل خوب صورتی تب ہے جب جشن ختم ہونے کے بعد بھی پرچم کی حرمت ہمارے دلوں میں زندہ رہے۔
افسوس! 14 اگست کی شام ڈھلتے ہی کہیں وہی پرچم گرد آلود سڑک پر پڑا ہوتا ہے جسے صبح عقیدت سے بلند کیا گیا تھا، کہیں جھنڈیاں نالیوں میں بہہ رہی ہوتی ہیں اور کہیں سبز ہلالی نشان قدموں تلے روندتا دکھائی دیتا ہے۔ چند گھنٹوں پہلے جس پرچم کے ساتھ تصویریں بنوا کر ہم فخر محسوس کر رہے تھے، وہی اگلے روز ہماری بے حسی کی گواہی بن جاتا ہے۔ یہ صرف پرچم کا گرنا نہیں؛ یہ ہمارے قومی شعور کے گرنے کا منظر ہے۔
ذرا سوچیے! اس سبز ہلالی پرچم کے پیچھے کتنی داستانیں دفن ہیں۔ یہ ان لاکھوں انسانوں کی ہجرت کا گواہ ہے جنہوں نے آزادی کے لیے اپنے گھر بار چھوڑے۔ یہ ان ماؤں کے آنسوؤں کو جانتا ہے جنہوں نے اپنے لختِ جگر وطن پر قربان کیے۔ یہ ان بہنوں کی آہوں سے واقف ہے جن کے بھائی آزادی کی منزل تک پہنچتے پہنچتے خون میں نہا گئے۔ یہ ان بزرگوں کے خوابوں کی علامت ہے جنہوں نے ایک آزاد وطن کے لیے اپنی زندگیوں کا سکون قربان کر دیا۔ اس لیے جب ہم پرچم کی بے حرمتی کرتے ہیں تو دراصل اپنی تاریخ کے زخموں کو بے توقیر کرتے ہیں۔
پاکستان کا قومی پرچم اپنے اندر ایک مکمل پیغام رکھتا ہے۔ سبز رنگ مسلم اکثریت کی نمائندگی کرتا ہے، سفید پٹی اقلیتوں کے حقوق اور احترام کی علامت ہے، ہلال ترقی کی امید دلاتا ہے اور ستارہ علم و روشنی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ یہ پرچم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں، بل کہ ایک نظریے، ایک جدوجہد اور ایک اجتماعی خواب کا نام ہے۔ اس کے رنگوں میں ہماری شناخت ہے اور اس کی بلندی میں ہماری عزت۔
دنیا کی باوقار قومیں اپنے پرچم کو محض قومی دنوں کی سجاوٹ نہیں سمجھتیں۔ ان کے لیے پرچم ایک مقدس قومی علامت ہوتا ہے۔ اسے بلند کرتے ہوئے احترام کیا جاتا ہے اور اتارتے ہوئے بھی اس کی حرمت کا خیال رکھا جاتا ہے۔ ہمیں بھی یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ قومی پرچم کو لہرانا حب الوطنی کا اظہار ضرور ہے، مگر اسے زمین پر گرنے سے بچانا حب الوطنی کا امتحان ہے۔
ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ نہیں سکھانا کہ 14 اگست کو جھنڈیاں لگانی ہیں، سبز لباس پہننا ہے اور ملی نغمے گانے ہیں۔ انہیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ جھنڈی کو سڑک پر پھینکنا کیوں غلط ہے، پرچم کو پاؤں تلے آنا کیوں تکلیف دہ ہے اور جشن ختم ہونے کے بعد اسے احترام سے اتارنا کیوں ضروری ہے۔ قومیں صرف نعروں سے زندہ نہیں رہتیں؛ قومیں اپنے شعور، کردار اور اپنی قومی علامتوں کے احترام سے زندہ رہتی ہیں۔
جشنِ آزادی کی اصل روح صرف چراغاں، آتش بازی، ملی نغموں اور سبز و سفید لباس میں نہیں۔ آزادی ایک ذمہ داری ہے۔ وطن سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہم اس کی املاک کی حفاظت کریں، قانون کا احترام کریں، اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کریں اور اس ملک کی شناخت کو اپنی ذات سے زیادہ مقدم رکھیں۔ اگر ہم پرچم لہرا کر حب الوطنی کا اعلان کریں، مگر اگلے دن اسی پرچم کو کوڑے میں پڑا رہنے دیں تو ہمارا جشن محض ایک رسم بن کر رہ جاتا ہے۔
14 اگست کو پرچم لہرانا جشن ہے، مگر 15 اگست کو اس کی حرمت بچانا کردار ہے۔ ہمیں جشن سے زیادہ اس کردار کی ضرورت ہے۔ اس بار جب سبز ہلالی پرچم ہاتھ میں اٹھائیں تو ایک عہد بھی ساتھ اٹھائیں کہ اسے زمین پر نہیں گرنے دیں گے، اسے کچرے کا حصہ نہیں بننے دیں گے اور جشن ختم ہونے کے بعد بھی اس کی عزت کو اپنی ذمہ داری سمجھیں گے۔
کیوں کہ پرچم کی حرمت صرف ایک قومی نشان کی حفاظت نہیں؛ یہ ان شہیدوں کی آخری نشانی کی حفاظت ہے جن کے خون سے آزادی کی صبح طلوع ہوئی۔ یہ ان ماؤں کے آنسوؤں کا احترام ہے جنہوں نے اپنے بیٹے پاکستان کے نام کیے۔ یہ ان ہجرتوں، قربانیوں اور خوابوں کی پاس داری ہے جن سے ہمارا وطن وجود میں آیا۔
آئیے اس بار 14 اگست پر صرف پرچم نہ لہرائیں، پرچم کا حق بھی ادا کریں۔ جشن ضرور منائیں، مگر شعور کے ساتھ؛ جھنڈیاں ضرور لگائیں، مگر ذمہ داری کے ساتھ؛ ملی نغمے ضرور گائیں، مگر وطن کی حرمت کو دل میں اتار کر۔
سبز ہلالی پرچم صرف فضا میں بلند نہیں ہونا چاہیے؛ اسے ہمارے کردار میں بھی بلند ہونا چاہیے۔ کیونکہ جس دن ہماری نسل نے پرچم کی حرمت کو سمجھ لیا، اس دن جشنِ آزادی ایک دن کی تقریب نہیں رہے گا، بل کہ پاکستان سے وفاداری کا ایک زندہ عہد بن جائے گا۔
15











