پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ میں ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی اور دفاعی صورتِ حال میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس معاہدے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف مسلح جارحیت کو تینوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ یہ پیش رفت محض ایک اچانک سامنے آنے والا سفارتی فیصلہ نہیں، بل کہ اس کے پسِ پردہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے باہمی تعلقات، دفاعی تعاون اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا کئی برسوں پر محیط پس منظر موجود ہے۔ تینوں ممالک نے گزشتہ برسوں کے دوران اپنے دوطرفہ تعلقات کو دفاع، معیشت اور سفارت کاری کے شعبوں میں مسلسل وسعت دی ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات کئی دہائیوں پرانے ہیں۔ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان تربیتی تعاون، مشترکہ مشقیں اور دفاعی روابط پہلے ہی موجود رہے ہیں۔ پاکستانی فوجی ماہرین نے مختلف ادوار میں سعودی افواج کی تربیت اور دفاعی صلاحیت بڑھانے میں کردار ادا کیا، جب کہ سعودی عرب پاکستان کے اہم معاشی اور سفارتی شراکت داروں میں شمار ہوتا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات صرف دفاعی میدان تک محدود نہیں، بل کہ مذہبی، اقتصادی اور سیاسی سطح پر بھی گہرے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب خطے میں سکیورٹی کے خطرات بڑھے تو اسلام آباد اور ریاض کے درمیان دفاعی تعاون کو ایک نئے اور زیادہ منظم فریم ورک میں ڈھالنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔
اس سلسلے میں 17 ستمبر 2025ء کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔ اس معاہدے میں دونوں ممالک نے اس اصول پر اتفاق کیا کہ ایک ملک کے خلاف جارحیت دونوں کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی۔ اس پیش رفت نے پاکستان اور سعودی عرب کے روایتی دفاعی تعلقات کو ایک واضح تزویراتی شکل دی۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان عسکری رابطے اور عملی تعاون مزید نمایاں ہوئے۔ یوں 7 اگست 2026ء میں ہونے والا سہ فریقی معاہدہ ایک ایسے عمل کا اگلا مرحلہ بن کر سامنے آیا، جس کی بنیاد پہلے ہی پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان رکھی جا چکی تھی۔
پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کا پس منظر بھی اس معاہدے کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور عوامی روابط کے ساتھ ساتھ دفاعی تعاون میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دفاعی پیداوار، فوجی تربیت، مشترکہ مشقوں، بحری تعاون اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دونوں ملکوں نے مختلف منصوبوں پر کام کیا ہے۔ ترکیہ نے اپنی دفاعی صنعت میں غیر معمولی ترقی کی ہے اور ڈرونز، بحری نظام، میزائل ٹیکنالوجی اور دیگر عسکری شعبوں میں اس کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کے لیے ترکیہ ایک اہم دفاعی شراکت دار بن چکا ہے، جب کہ انقرہ بھی پاکستان کو خطے میں ایک قابلِ اعتماد تزویراتی ساتھی سمجھتا ہے۔
سعودی عرب اور ترکیہ کے تعلقات بھی گزشتہ چند برسوں میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعلقات کے ساتھ ساتھ دفاعی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔ سعودی عرب ترک دفاعی صنعت سے جدید ٹیکنالوجی حاصل کرنے اور اپنی مقامی دفاعی پیداوار بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ترکیہ کے جدید ڈرون نظام اور دیگر دفاعی ٹیکنالوجی نے عالمی سطح پر اس کی دفاعی صنعت کو ایک مضبوط مقام دیا ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا مشترکہ دفاعی فریم ورک تینوں ممالک کی موجودہ دوطرفہ شراکت داریوں کو ایک وسیع تر علاقائی شکل دینے کی کوشش بھی سمجھا جا سکتا ہے۔
مکہ مکرمہ میں ہونے والے معاہدے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کی صورتِ حال انتہائی پیچیدہ ہو چکی ہے۔ خطے میں اسرائیل، ایران، امریکہ اور مختلف غیر ریاستی گروہوں کے درمیان کشیدگی نے خلیجی ممالک کے سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ میزائل اور ڈرون حملوں، سمندری راستوں کو لاحق خطرات اور خطے میں جاری تنازعات نے خلیجی ریاستوں کو اپنی دفاعی صلاحیت اور علاقائی شراکت داریوں پر زیادہ توجہ دینے پر مجبور کیا ہے۔ سعودی عرب کے لیے اپنی سلامتی کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ قابلِ اعتماد علاقائی دفاعی شراکت داروں کا ہونا ایک اہم ترجیح بن چکا ہے۔
پاکستان کے لیے بھی اس معاہدے کی اہمیت کئی پہلوؤں سے ہے۔ ایک طرف اسے سعودی عرب کے ساتھ اپنے دیرینہ دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا موقع ملتا ہے، تو دوسری طرف ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون کو ایک وسیع علاقائی نظام میں جگہ ملتی ہے۔ پاکستان دنیا کی بڑی فوجی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے اور جوہری صلاحیت رکھنے والی ریاست بھی ہے، جب کہ ترکیہ جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور مضبوط عسکری صنعت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے پاس معاشی طاقت، توانائی کے وسائل اور مشرقِ وسطیٰ میں انتہائی اہم جغرافیائی حیثیت موجود ہے۔ یوں تینوں ممالک کی مختلف طاقتیں ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو تقویت دے سکتی ہیں۔
تاہم، اس معاہدے کو کسی مخصوص ملک کے خلاف جارحانہ اتحاد سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ تینوں ممالک نے اس تعاون کو دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے اور اس کا بنیادی مقصد ممکنہ جارحیت کی حوصلہ شکنی اور مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کے باوجود اس معاہدے کی اصل اہمیت اس وقت سامنے آئے گی جب اس کے تحت عملی فوجی تعاون، مشترکہ مشقوں، انٹیلی جنس شیئرنگ، دفاعی ٹیکنالوجی اور ہنگامی حالات میں باہمی تعاون کے طریقۂ کار مزید واضح ہوں گے۔ صرف معاہدے پر دستخط کسی اتحاد کو مؤثر نہیں بناتے؛ اصل طاقت اس کے عملی نفاذ اور سیاسی عزم میں ہوتی ہے۔
سعودی عرب کے لیے اس معاہدے کا ایک اہم پہلو اپنی دفاعی شراکت داری کو متنوع بنانا بھی ہے۔ ریاض تاریخی طور پر امریکہ سمیت مغربی ممالک کے ساتھ قریبی دفاعی تعلقات رکھتا ہے، لیکن حالیہ علاقائی بحرانوں نے خلیجی ممالک کو اپنی دفاعی خود انحصاری اور علاقائی شراکت داری بڑھانے کی طرف متوجہ کیا ہے۔ پاکستان اور ترکیہ دونوں مسلم دنیا کی اہم فوجی طاقتیں ہیں اور ان کے ساتھ مشترکہ دفاعی تعاون سعودی عرب کو ایک اضافی تزویراتی سہارا فراہم کر سکتا ہے۔ دوسری طرف، ترکیہ کے لیے یہ معاہدہ خلیج اور جنوبی ایشیا کے درمیان اپنے سیاسی و دفاعی اثر و رسوخ کو بڑھانے کا ایک نیا راستہ کھول سکتا ہے۔
اس معاہدے کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ تینوں ممالک اس شراکت داری کو کس حد تک عملی شکل دیتے ہیں۔ اگر مشترکہ فوجی مشقیں، دفاعی پیداوار، انٹیلی جنس تعاون، سائبر سکیورٹی، فضائی دفاع اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مستقل تعاون بڑھتا ہے تو یہ معاہدہ محض ایک سفارتی اعلان نہیں رہے گا، بل کہ ایک مؤثر علاقائی دفاعی ڈھانچے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ تاہم، تینوں ممالک کے اپنے اپنے علاقائی مفادات بھی ہیں، اس لیے مستقبل میں کسی بحران کے دوران مشترکہ موقف اختیار کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوگا۔ خاص طور پر پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات کے باوجود ایران کے ساتھ اپنے جغرافیائی اور سفارتی مفادات کو بھی پیشِ نظر رکھنا ہوگا۔
مجموعی طور پر، مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ مسلم دنیا کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست میں ایک اہم باب کا آغاز ہے۔ اس معاہدے کی بنیاد کسی ایک دن میں نہیں رکھی گئی، بل کہ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعاون، پاکستان اور ترکیہ کی تزویراتی شراکت داری اور سعودی عرب و ترکیہ کے بڑھتے ہوئے دفاعی روابط نے اس کے لیے ماحول تیار کیا۔ اگر تینوں ممالک اس معاہدے کو جنگی صف بندی کے بجائے دفاعی روک تھام، علاقائی استحکام، ٹیکنالوجی، مشترکہ تربیت اور امن کے لیے استعمال کرتے ہیں تو یہ شراکت داری مستقبل میں ایک بااثر علاقائی قوت بن سکتی ہے۔ مکہ سے شروع ہونے والا یہ نیا دفاعی باب آنے والے برسوں میں صرف تینوں ممالک کے تعلقات ہی نہیں، بل کہ پورے خطے کے طاقت کے توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔











