“جب چنگیز خان گھوڑے پر سوار ہو کر مسجد میں داخل ہوا اور بولا: ‘میں تمہارے گناہوں کا عذاب بن کر آیا ہوں!’
“تصور کریں.. سال 1218 کا دور ہے، اور آ پ وسطی ایشیا کے سب سے شاندار شہر بخارا اور سمرقند کی گلیاں دیکھ رہے ہیں۔ چاروں طرف رونق ہے، ریشم کے تاجر، علمائے کرام، عظیم الشان مساجد اور محل… اور اس دنیا پر حکومت کر رہا تھا علاؤ الدین محمد خوارزم شاہ۔ ایک ایسا بادشاہ جسے اپنے اقتدار، اپنی لاکھوں کی فوج اور اپنے غرور پر اندھا اعتماد تھا۔
لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ چند سو میل دور، صحراؤں سے ایک ایسا طوفان اٹھنے والا تھا جو اس کی دنیا کو ہمیشہ کے لیے مٹا دے گا۔
وہ ایک غلطی… اور کہانی کا سب سے بڑا موڑ
ہماری کہانی کی شروعات کسی جنگ سے نہیں، بلکہ ایک دوستی کے ہاتھ سے ہوتی ہے۔
چنگیز خان—جس کا نام سن کر ہی اس وقت ایشیا کانپتا تھا—اس نے خوارزم شاہ کی طرف جنگ کا ارادہ نہیں کیا۔ اس نے سوچا، “ہم کیوں لڑیں؟ آؤ مل کر تجارت کرتے ہیں۔” اس نے 500 اونٹوں پر سونا، ریشم اور قیمتی سامان لاد کر اپنے تاجر بھیجے۔
اب ذرا سوچیں، آ پ ایک سرحدی شہر اترار کے گورنر ہو، تمہارا نام انالچق ہے۔ آ پ نےاتنا سونا اور مال دیکھا توآپ کی نیت خراب ہو گئی۔ آ پ نے نے سوچا، “منگول تو صحرائی جنگلی ہیں، یہ ہمارا کیا بگاڑ لیں گے؟”
آ پ نے ان سارے تاجروں کو جاسوس کہہ کر قتل کروا دیا اور ان کا سارا مال ہڑپ کر لیا!
صرف ایک غریب اونٹ والا کسی طرح اپنی جان بچا کر بھاگا اور چنگیز خان کے خیمے میں پہنچا۔ جب اس نے یہ خبر دی، تو چنگیز خان کے خیمے میں سناٹا چھا گیا۔
جب چنگیز خان پہاڑ پر جا کر رویا
چنگیز خان کو جتنا ظالم سمجھا جاتا ہے، وہ اتنا ہی چالاک اور ضبط والا انسان تھا۔ اس نے فوراً حملہ نہیں کیا۔ اس نے خوارزم شاہ کے پاس اپنے تین سفیر بھیجے۔ پیغام بالکل صاف تھا:
“مجھے تم سے جنگ نہیں چاہیے۔ بس اس لالچی گورنر انالچق کو میرے حوالے کر دو تاکہ میں اسے سزا دے سکوں، اور میرے سامان کا تاوان دو۔”
اگر میں یا تم خوارزم شاہ کی جگہ ہوتے، تو ایک لالچی گورنر کی قربانی دے کر اتنے بڑے طوفان کو ٹال دیتے۔
لیکن غرور کا نشہ بہت برا ہوتا ہے۔ خوارزم شاہ نے نہ صرف گورنر دینے سے انکار کیا… بلکہ اس نے چنگیز خان کے مسلم سفیر کا سر کاٹ دیا اور باقی دو منگولوں کی داڑھیاں جلا کر انہیں ذلیل کر کے واپس بھیج دیا۔
یہ وہ لمحہ تھا جب خوارزم شاہ نے اپنے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کر دیے تھے۔
تاریخ لکھتی ہے کہ جب چنگیز خان کو اپنے سفیروں کا حشر معلوم ہوا، تو وہ غصے سے چیخا نہیں۔ وہ خاموشی سے اپنے مقدس پہاڑ ‘برخان خلدون’ پر چڑھ گیا۔ اس نے اپنا ٹوپا اتارا، جنیؤ/پٹکا گردن میں ڈالا، زمین پر منہ کے بل لیٹ گیا اور تین دن اور تین راتیں اپنے دیوتا سے رو رو کر بدلہ مانگتا رہا:
“اے آسمان! میں نے اس جنگ کی شروعات نہیں کی… مجھے طاقت دے کہ میں اس توہین کا بدلہ لے سکوں!”
طوفان کی آمد: “تم نے گناہ کیے ہیں، اسی لیے اللہ نے مجھے بھیجا ہے!”
جب چنگیز خان پہاڑ سے اترا، تو وہ انسان نہیں، ایک قضا بن چکا تھا۔
اس نے دو لاکھ منگول جنگجوؤں کو اکٹھا کیا۔ یہ وہ سوار تھے جو گھوڑے کی پیٹھ پر سوتے تھے، راکھی ہوئی بوٹی کھاتے تھے اور جن کے تیر کبھی نشانہ نہیں چوکے۔
انالچق کا حشر: منگول سب سے پہلے اترار شہر گھسے۔ جس گورنر نے مال چوری کیا تھا، اسے زندہ پکڑا گیا۔ روایات کہتی ہیں کہ چنگیز خان نے اس کے کانوں اور آنکھوں میں پگھلی ہوئی چاندی انڈیل دی! اس نے کہا، “تمہیں چاندی کا بہت شوق تھا نا؟ لو، پی لو!”
بخارا کی جامع مسجد: چنگیز خان جب بخارا میں داخل ہوا، تو وہ سیدھا وہاں کی سب سے بڑی مسجد میں گھوڑا لے کر چلا گیا۔ اس نے ممبر پر کھڑے ہو کر لوگوں سے وہ جملہ کہا جو تاریخ میں امر ہو گیا:
“تم نہیں جانتے کہ تم نے کتنے بڑے گناہ کیے ہیں۔ اور اگر تم نے گناہ نہ کیے ہوتے، تو تمہارے خدا نے مجھ جیسے عذاب کو تم پر نہ بھیجا ہوتا!”
اس کے بعد جو ہوا، وہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا ہولوکاسٹ تھا۔ بخارا، سمرقند، مرو، نیشاپور—جہاں دنیا کے بہترین کتب خانے، سائنسدان اور شاعر رہتے تھے—سب کو جلا کر راکھ کر دیا گیا۔
جس بادشاہ علاؤ الدین خوارزم شاہ کو اپنے تاج پر غرور تھا، وہ منگولوں کے ڈر سے اپنے ہی ملک میں کتوں کی طرح بھاگتا رہا۔ آخر کار بحیرہ قزوین (Caspian Sea) کے ایک چھوٹے سے ویران، کیچڑ سے بھرے جزیرے پر، پھٹے ہوئے کپڑوں میں، بیماری اور بے بسی کی حالت میں مر گیا۔
اس کہانی کا سبق کیا ہے؟
اگر تم غور کرو، تو خوارزم شاہی سلطنت کو منگولوں کے تیروں نے بعد میں تباہ کیا… ان کے اپنے غرور، لالچ اور سفارتی حماقت نے پہلے ہی تباہ کر دیا تھا۔
28











