72

آوازیں دبتی نہیں، گونجتی ہیں حمید علی

کفر کا نظام چل سکتا ہے، لیکن جبر اور بربریت کا نظام نہیں چل سکتا۔ یہ محض ایک جملہ نہیں، بل کہ تاریخ کے اوراق پر ثبت ایک ایسی حقیقت ہے جسے ہر دور نے اپنے انداز میں ثابت کیا ہے۔ طاقت کے زور پر قائم ہونے والی حکومتیں، ظلم کے سہارے چلنے والے اقتدار اور خوف کی بنیاد پر کھڑے کیے گئے نظام وقتی طور پر تو لوگوں کو خاموش کر سکتے ہیں، مگر ان کے دلوں میں اٹھنے والی صداؤں کو ہمیشہ کے لیے دفن نہیں کر سکتے۔ جب انسان کے بنیادی حقوق سلب کر لیے جائیں، انصاف کے دروازے بند کر دیے جائیں اور اختلافِ رائے کو جرم بنا دیا جائے تو احتجاج ہی وہ زبان بن جاتا ہے جس کے ذریعے مظلوم اپنی فریاد دنیا تک پہنچاتا ہے۔

کسی بھی مہذب، باوقار اور جمہوری معاشرے میں احتجاج جرم نہیں سمجھا جاتا۔ بل کہ اسے شہریوں کا بنیادی حق تصور کیا جاتا ہے۔ ہر انسان کو یہ آزادی حاصل ہونی چاہیے کہ وہ اپنی رائے کا اظہار کرے، اپنے خیالات دوسروں کے سامنے رکھے اور اپنے جائز مطالبات کے لیے آواز بلند کرے۔ یہی آزادی معاشرے میں فکری ارتقا، سماجی انصاف اور جمہوری اقدار کی مضبوطی کا سبب بنتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کی بڑی بڑی تبدیلیاں بندوق کی گولی سے نہیں، بل کہ عوام کی آواز سے رونما ہوئیں۔ غلامی کے خلاف تحریکیں ہوں، نسلی امتیاز کے خاتمے کی جدوجہد ہو یا خواتین کے حقوق کی تحریکیں، ان سب کی بنیاد احتجاج ہی تھا۔ اگر ان آوازوں کو بزورِ طاقت خاموش کر دیا جاتا تو شاید آج دنیا انصاف، مساوات اور آزادی جیسے عظیم تصورات سے محروم ہوتی۔

احتجاج کا مقصد فساد پھیلانا نہیں، بل کہ اصلاح کا راستہ ہموار کرنا ہوتا ہے۔ جب عوام اپنے مسائل، دکھ اور پریشانیاں پُرامن انداز میں حکمرانوں تک پہنچاتے ہیں تو دراصل وہ ریاست کو اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہیں۔ ایک باشعور حکومت عوام کی تنقید کو دشمنی نہیں سمجھتی، بل کہ اسے اپنی اصلاح کا ذریعہ بناتی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ خاموش معاشرے اکثر اندر ہی اندر سلگ رہے ہوتے ہیں، جبکہ بولنے والا معاشرہ اپنی اصلاح کی راہ خود تلاش کر لیتا ہے۔

بدقسمتی سے بعض معاشروں میں اختلافِ رائے کو بغاوت قرار دے دیا جاتا ہے۔ لوگوں کو صرف اس لیے گرفتار کیا جاتا ہے کہ انہوں نے سوال اٹھایا، انصاف کا مطالبہ کیا یا اپنے حقوق کی بات کی۔ صحافیوں کی زبان بند کی جاتی ہے، طلبہ کی آواز دبائی جاتی ہے اور سماجی کارکنوں کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں ریاست وقتی طور پر اپنی طاقت کا مظاہرہ تو کر لیتی ہے، مگر عوام کے دلوں میں پیدا ہونے والی بے چینی مزید بڑھ جاتی ہے۔ جبر کبھی بھی مستقل امن کی ضمانت نہیں بن سکتا، کیوں کہ خوف کی دیواریں ایک نہ ایک دن ضرور گر جاتی ہیں۔

اسلام بھی ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ حق بات کہنا ایک عظیم اخلاقی فریضہ قرار دیا گیا ہے۔ اگر کسی معاشرے میں ظلم ہو رہا ہو، ناانصافی عام ہو، کرپشن نے نظام کو کھوکھلا کر دیا ہو اور عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہوں تو ایسے حالات میں خاموشی اختیار کرنا معاشرے کو مزید اندھیروں کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ حق کے لیے کھڑا ہونا اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانا زندہ قوموں کی پہچان ہے۔

البتہ احتجاج کی بھی اپنی حدود اور اخلاقیات ہیں۔ پُرامن احتجاج وہ ہے جس میں کسی کی جان، مال یا عزت کو نقصان نہ پہنچے۔ سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانا، تشدد، نفرت اور انتشار پھیلانا احتجاج نہیں، بل کہ قانون شکنی ہے۔ اسی طرح ریاست کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ پُرامن مظاہرین کو تحفظ فراہم کرے، ان کی بات سنے اور طاقت کے غیر ضروری استعمال سے گریز کرے۔ جب دونوں فریق قانون اور اخلاقیات کی حدود میں رہ کر اپنا کردار ادا کرتے ہیں تو مسائل تصادم کے بجائے مکالمے سے حل ہونے لگتے ہیں۔

آج کے دور میں سوشل میڈیا نے بھی اظہارِ رائے کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ اب ایک عام شہری بھی اپنے خیالات لاکھوں لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔ مگر اس آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہے۔ جھوٹی خبریں، نفرت انگیز مہمات اور کردار کشی نہ صرف احتجاج کی روح کو مجروح کرتی ہیں، بل کہ معاشرے میں انتشار بھی پیدا کرتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر شخص اپنی رائے دلیل، اخلاق اور سچائی کے ساتھ پیش کرے۔

ریاست اور عوام کا تعلق باہمی اعتماد پر قائم ہوتا ہے۔ جب حکومت عوام کی آواز سنتی ہے، ان کے مسائل کو سنجیدگی سے لیتی ہے اور انصاف فراہم کرتی ہے تو احتجاج کی ضرورت خود بخود کم ہو جاتی ہے۔ لیکن جب عوام کے دروازے بند کر دیے جائیں، انصاف مہنگا ہو جائے اور طاقت ور قانون سے بالاتر نظر آئیں تو احتجاج ایک ناگزیر حقیقت بن جاتا ہے۔ یہ کسی سازش کا نام نہیں، بل کہ ناانصافی کے خلاف انسان کی فطری مزاحمت ہے۔

ایک زندہ معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے، سوال پوچھنے والوں کو دشمن نہ سمجھا جائے اور تنقید کو اصلاح کا ذریعہ مانا جائے۔ جن قوموں نے اپنے شہریوں کی آواز دبائی، تاریخ نے انہیں کبھی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا۔ اس کے برعکس وہ قومیں ترقی کی منازل طے کرتی رہیں جنہوں نے مکالمے، برداشت اور انصاف کو اپنی بنیاد بنایا۔

احتجاج کسی بھی مہذب معاشرے کی کم زوری نہیں، بل کہ اس کی زندگی کی علامت ہے۔ اپنی رائے کا اظہار کرنا، اپنے مطالبات پیش کرنا اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ اس حق کا احترام کرے اور عوام کا فرض ہے کہ وہ اس حق کو ذمہ داری، شعور اور پُرامن انداز میں استعمال کریں۔ تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ ظلم وقتی طور پر غالب آ سکتا ہے، مگر ہمیشہ کے لیے نہیں۔ طاقت کے سہارے حکومتیں قائم کی جا سکتی ہیں، دلوں پر حکومت نہیں کی جا سکتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں