63

میرپور ڈویژن میں دھاندلی ہوئی،ثبوت موجود ہیں،چرایا گیا مینڈیٹ واپس لیں گے، بلاول بھٹو

مظفرآباد ،گڑھی دوپٹہ ( خبرنگار )پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کارکنوں اور عوام کا جوش و جذبہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ لوگ پیپلز پارٹی سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی تین نسلوں پر مشتمل جدوجہد اور کارکردگی عوام کے سامنے ہے، جس نے ہمیشہ عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اجاگر کیا اور کشمیری عوام کے جمہوری حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ پیپلز پارٹی کا مقابلہ ایک ایسی جماعت سے ہے جو نسلوں سے دھاندلی کی پیداوار رہی ہے۔ یہ جماعت کبھی عوامی مینڈیٹ سے اقتدار میں نہیں آئی بلکہ ہر بار دھاندلی کے ذریعے وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کے عہدوں تک پہنچی۔ پیپلز پارٹی ہمیشہ انتخابی دھاندلی کے خلاف کھڑی رہی ہے اور عوام کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرتی آئی ہے۔ چییرمین پیپلز پارٹی نے ان خیالات کا اظہار مظفرآباد کے حلقے ایل اے 28 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار مبشر منیر اعوان کی رہائش گاہ پر عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوے کیا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار مبشر منیر اعوان کی جانب سے دیا گیا ظہرانہ عوامی جلسے میں تبدیل ہو گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام کے دل پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔انہوں نے مبشر منیر اعوان کو پیشگی کامیابی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ 2 اگست کو تیر کے نشان اور کشمیر کی فتح یقینی ہے۔انہوں نے کہا کہ مخالفین سمجھتے ہیں کہ وہ کشمیر میں بھی یہی حربے استعمال کریں گے، مگر کشمیری عوام بہادر ہیں اور اپنے ووٹ پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پہلی مرتبہ وزیراعلیٰ بننے سے لے کر وزیراعظم بننے تک مخالف جماعت کی سیاسی تاریخ آئی جے آئی، اصغر خان کیس، آر او الیکشن اور فارم 47 جیسے معاملات سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ہر بچہ جانتا ہے کہ اقتدار کارکردگی یا عوامی مینڈیٹ کے بجائے فارم 47 کے ذریعے حاصل کیا گیا، اس لیے وہ دھاندلی کے الزامات سے انکار نہیں کر سکتے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مخالفین سمجھتے تھے کہ وہ میرپور میں نتائج تبدیل کر کے اور مظفرآباد کے عوام کو ڈرا دھمکا کر کامیاب ہو جائیں گے، لیکن مظفرآباد کے عوام ہر قسم کی دھاندلی کو شکست دیں گے۔انہوں نے کہا کہ جاوید بدھانوی کے حلقے میں پیپلز پارٹی کے ایک کارکن کو شہید کیا گیا تاکہ شکست کو فتح میں بدلا جا سکے۔ انہوں نے چوہدری محمد یاسین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں بھی انہوں نے دونوں نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی، حالانکہ ان کے بیٹوں کو گرفتار کیا گیا اور انہیں گولیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ چوہدری محمد یاسین کی آبائی نشست پر 30 پولنگ اسٹیشنز پر قبضہ کر کے ان کی واضح کامیابی کو شکست میں تبدیل کیا گیا، جسے پیپلز پارٹی کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ان 30 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج پارٹی کے پاس موجود ہیں جبکہ دیگر حلقوں میں ووٹر ٹرن آؤٹ 40 سے 50 فیصد رہا، مگر ان پولنگ اسٹیشنز پر مبینہ طور پر 90 فیصد ٹرن آؤٹ ظاہر کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرے، دوبارہ پولنگ کرائے اور میرپور ڈویژن اور کوٹلی کے عوام کو انصاف فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ چوہدری اخلاق اور پرویز اشرف کے حلقوں کے معاملات بھی سب کے سامنے ہیں۔ انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ پیپلز پارٹی ہر چرایا گیا ووٹ واپس لے گی، شکست قبول ہے مگر چوری شدہ مینڈیٹ ہرگز قبول نہیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انتخابات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر عوام کی جانیں اس سے بھی زیادہ قیمتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ایک سنگین بحران پیدا ہو چکا ہے اور اس کا حل ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن (Truth and Reconciliation Commission) کے قیام میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تجویز تمام متعلقہ فریقوں کے سامنے رکھی جا چکی ہے۔ اگر حکومت اور احتجاج کرنے والے اس پر متفق ہوں تو پیپلز پارٹی احتجاج معطل کرنے اور ریاست سے بھی کارروائیاں روکنے کی اپیل کرے گی تاکہ کمیشن اپنی رپورٹ مکمل کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تجویز نہ حکومت کے لیے ہے اور نہ احتجاج کرنے والوں کے لیے، بلکہ عام کشمیری عوام کے لیے ہے جو امن کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ 2 اگست کو تیر کے نشان پر مہر لگا کر پونچھ، راولاکوٹ اور اسلام آباد کو یہ پیغام دیں کہ مظفرآباد ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ کشمیر میں امن اور معمولاتِ زندگی بحال ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی انٹرنیٹ بندش کے خاتمے اور عوام کو درپیش مشکلات کے حل کی خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کا منشور کشمیری عوام کے لیے حقِ حکمرانی، حقِ ملکیت اور حقِ روزگار کے حصول پر مبنی ہے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایسی قانون سازی ہونی چاہیے جس کے ذریعے کشمیری عوام کی آواز مشترکہ مفادات کونسل (CCI)، قومی مالیاتی کمیشن (NFC) اور دیگر اہم قومی فورمز تک پہنچ سکے تاکہ وہ اپنے مستقبل کے فیصلے خود کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے دریا، پہاڑ اور قدرتی وسائل سب سے پہلے کشمیری عوام کی ملکیت ہونے چاہییں اور ان سے حاصل ہونے والا معاشی فائدہ بھی سب سے پہلے انہیں ملنا چاہیے۔حقِ روزگار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی موجودہ معاشی بحران سے بخوبی آگاہ ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) خونی لیگ لوگوں کو روزگار دینے کے بجائے ملازمتیں ختم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی غریب، کسان اور مزدور کو بااختیار بنا کر خوشحالی لانے پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین کشمیر کو پنجاب بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ کشمیر اپنی شناخت کے ساتھ قائم رہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ خود کشمیری عوام کریں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کارکنوں کو کل ہونے والے عوامی جلسے میں بھرپور شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اس جلسے میں صرف مظفرآباد ڈویژن کے عوام شریک ہوں گے، نہ کہ مری، راولپنڈی یا اسلام آباد سے لوگ لائے جائیں گے۔ انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ عوام کو انتخابات کے بائیکاٹ کے بجائے ووٹ ڈالنے پر آمادہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ حقوق ہمیشہ بیلٹ کے ذریعے حاصل کیے جاتے ہیں، بائیکاٹ سے نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کشمیری عوام تیر کے نشان پر مہر لگا کر پاکستان پیپلز پارٹی کو واضح اکثریت دیں تاکہ وہ کشمیر کے عوام سے کیے گئے تمام وعدے پورے کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں