اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ خان نے آزاد جموں و کشمیر کے حلقہ ایل اے 10 کوٹلی سٹی میں مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مکمل تحقیقات ہونے تک انتخابی عمل روک دیا جائے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق تین پریزائیڈنگ افسران اور ایک پٹواری کو پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور حلقے کے امیدوار چوہدری یاسین کے گھر سے پولنگ بیگز سمیت پکڑا گیا، جو انتخابی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
انہوں نے وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور اور چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری، غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور عوام کو بتایا جائے کہ پولنگ بیگز امیدوار کے گھر تک کیسے پہنچے اور انہیں کہاں کہاں لے جایا گیا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پٹواری قیصر اور ثقلین سے مکمل تفتیش کی جائے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا اس نوعیت کی مبینہ کارروائیاں کسی اور مقام پر بھی کی گئیں یا نہیں۔ ان کے مطابق سرکاری گاڑی میں تین پریزائیڈنگ افسران کو چوہدری یاسین کے قریبی ساتھی ثقلین کے ہمراہ بھیجنا انتہائی تشویشناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر شہری علاقے میں ایسا واقعہ پیش آیا ہے تو دور دراز علاقوں میں ہونے والے انتخابی عمل کی بھی مکمل جانچ ہونی چاہیے۔ رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ جب تک تمام حقائق سامنے نہیں آتے، مسلم لیگ (ن) حلقہ ایل اے 10 کوٹلی سٹی کے انتخابی نتائج قبول نہیں کرے گی۔











